Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Dua E Hirz Jaan By Uzma Mujahid Episode 13

Dua E Hirz Jaan By Uzma Mujahid Episode 13

Dua E Hirz Jaan By Uzma Mujahid Episode 13

Novel : Dua E Hirz Jaan
Writer Name : Uzma Mujahid
Category : Kitab Nagri Special

رات گئے وہ واپس آیا تو نورالعین کو اپنے لیے محوانتظار پاتے اندر تک سرشاری دوڑی تھی پر بنا اس پہ کچھ ظاہر کیے وہ فریش ہونے چلا گیا تھا۔واپس آیا تو اسے ہاتھوں کو چٹخاتے کچھ کہنے کیلئے متامل پایا تھا مگر پہلے لب نہ کھولنے کی منت مانے وہ اسے مکمل اگنور کرتے ہوئے آئینے کے سامنے ٹہرے بال بنانے لگا تھا۔

"شاہ۔۔وہ۔۔"

نورالعین سے صبر نہیں ہوپایا تو وہ اسکے پیچھے آٹہری تھی۔

"جی بولیں نورالعین۔۔"

زاویار نے پہلی پکار پہ لبیک کہا تھا مگر انداز نروٹھا سا تھا۔اسکا نورالعین کہنا نورالعین سے صاف ناراضگی کا پتا دے رہا تھا۔

"کیا آپ ہم سے ناراض ہیں؟"

بلاآخر اس نے اپنی الجھن ظاہر کی تھی۔

"ہنہ۔۔شاید۔۔"

کنگھا ٹیبل پہ رکھتے وہ مڑتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگائے دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے بغور اسے دیکھ رہا تھا جو نائٹ ڈریس میں ملبوس اپنے بالوں کو چھوٹے سے کیچر میں مقید کیے ہوئے تھی جبکہ اس ڈھیلے جوڑے سے نکلتی کچھ لٹیں اسکے چہرے اور گردن کا احاطہ کیے اسے رف سے حلیے میں بھی جازبیت بخش رہی تھیں۔

"پر کیوں۔۔ہمارا مطلب ہے اب تو ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے جس پہ آپکا موڈ خراب ہو۔۔؟"

اسکی جان پہ بنی تھی ۔

کیسے اور کب وہ شخص اتنا اہم ہوگیا کہ وہ اسکے موڈ سوئنگز بھی نوٹس کرنے لگی تھی۔

زاویار کیلئے اسکا بےساختہ انداز اتنا دلکش تھا کہ اسکا دل چاہ رہا تھا اس خودساختہ ناراضگی کو رفع دفع کرتے اسے اپنے قریب کرلے لیکن اسکی لاپرواہی کی سزا بھی تو بنتی تھی ۔

"یہ تو آپ خود سے پوچھیں نورالعین شاہ کہ آپ نے کیا کیا ہے کیونکہ آپ مجھ سے بہتر خود کو جانتی ہیں۔"

وہ لاپرواہی سے کہتے ڈریسنگ ٹیبل سے ہٹتے بستر پہ دراز ہوا تھا اور نورالعین کا  تکیہ اٹھائے منہ پہ رکھا تھا جہاں سے لیڈیز پرفیوم اور شیمپو کی ملتی جلتی مہک کو اس نے لمبی سانس کھینچتے اپنے اندر تک اتارا تھا۔

کمرے میں خاموشی کا راج تھا جبکہ وہ دھیمے قدموں سے چلتی زاویار کے پہلو میں آٹکی تھی۔زاویار نے اسکا پاس بیٹھنا محسوس کیا تھا مگر خود کو ساری صورتحال سے الگ رکھا تھا لیکن کب تک جب اگلا لمحہ دم بخود کردینے والا تھا ساری لاپرواہی اور ناراضگی کا دکھاوا بھک سے اڑا تھا جب وہ اسکے کشادہ سینے پہ سرٹکائے سسک اٹھی تھی۔

خود کو لاکھ پراعتماد ظاہر کرنے کے باوجود بھی وہ مریام شاہ کے اندازواطوار سے سہمی ضرور تھی اس پر زاویار کے انداز اسکے اندر چھائی اداسی کو مزید ہوا دے گئے تھے۔

"نورجان۔۔۔۔"

وہ اسے شانوں سے پکڑے اٹھ بیٹھا تھا جبکہ نورالعین اسکے سینے میں چہرہ چھپائے مزید سسک اٹھی تھی۔

"نورجان آپ مجھے پریشان کررہی ہیں۔۔"

وہ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اسکے کانوں کے پاس جھکتے ہوئے بولا تھا۔اسکے ہونٹ ۔نورالعین کی بالیوں سے ٹکرا رہے تھے۔

"اور آپ صبح سے جو کررہے ہیں کیا ہم اس سے پریشان نہیں ہورہے ہیں؟"

اس نے بھرائی آواز میں کہتے نم پلکوں سے اسے دیکھا تو جیسے وہ چاروں شانوں ان جھیل آنکھوں  کے سامنے چت ہوا تھا۔

اس نے گہری سانس بھرتے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی تھی جبکہ نورالعین کا سرابھی بھی اسکے سینے پہ تھا۔

"آپ نے میری کال کیوں نہیں اٹھائی کتنی کالز کی میں نے جانتی ہیں کتنا پریشان ہورہا تھا میں۔"

ناچاہتے ہوئے بھی اسکا انداز اسکی لاپرواہی کا بتاتے ہوئے تھوڑا سخت ہوا تھا۔

"ہم۔۔۔"

"ہم اسوقت کلاس لے رہے تھے اور ہمیں پتا ہی نہیں چلا تھا جب سیل دیکھا آپ گیٹ پہ آچکے تھے۔"

وہ جو اسے مریام شاہ کے بارے میں بتانے لگی تھی اسکی جذباتی طبیعت کا سوچتے بات بدل گئی تھی۔

"کال بیک بھی تو کی جاسکتی تھی،سنگل ٹیکسٹ تو چھوڑا جاسکتا تھا جانتی بھی ہیں اتنا اہم کیس چھوڑ کے میں فورا وہاں آیا تھا۔کیا آپ نے اپنا وجود میری آنکھوں میں ٹھہرتے نہیں دیکھا اگر دیکھ لیں تو سارے رنگ آپکے ٹھہرے ہیں اور آپ اتنی بےرحمی سے میری ذات کی نفی کردیتی ہیں جیسے میں کوئی غیراہم چیز ہوں۔۔۔"

زاویار کے سخت انداز پہ وہ منہ بسورتے اسکے سینے سے سراٹھا گئی تھی۔

"اوکے ہماری غلطی ہے جتنا ڈانٹنا ہے ڈانٹ لیں پر یوں اگنور کرنے کا مقصد۔۔۔"

اسکی آواز پھر سے بھرانے لگی تھی جبکہ زاویار تو جیسے ان آنسوؤں کی نیا میں بہنے کو تیار تھا تبھی وہ دوسرے پل اسے بازو سے تھامے اپنے پہلو میں لیٹاتے اس پہ جھکا تھا۔

"غلطیوں کی سزا دی جاتی ہے نورجان اور مجرم کو مقصد پوچھنے کی اجازت نہیں ہوتی بلکہ سزا بھگتنی ہوتی ہے ،بیرسٹر زاویار شاہ کے سامنے یا تو کوئی بڑا وکیل لائیں یا تو اپنے کمزور دلائل پہ وقت صرف نہ کرتے ہوئے سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوجائیں۔۔۔"

زاویارشاہ کی گھمبیر آواز نے اپنا طلسم بکھیرا تو وہ اسکا کالر تھامے اسکی گردن میں دونوں بازو حمائل کرگئی تھی۔

"اور شاهِ من آپ کے بغیر مجھے یہ جہاں درکار نہیں ہے ایسا لگتا ہے آپ کے بغیردنيا وارے میں نہیں ہے ہمیں آپکاناراض ہونا سولی پہ لٹکا رہا ہے،ایسی بےرخی بہت جان لیوا ہے شاہ۔۔۔۔۔"

اسکی آنکھیں بار بار بھیگ رہی تھیں جبکہ زاویار شاہ نے نخل نوخاستہ میں داخل ہوتے اسکے نخلِ تن کی تابناکیوں کو اپنی پیشانی پہ سنورا تھا۔

"آپکی محبت سے ہم نے یہ جانا کہ، پیار کیسے زمان و مکان کے نقشے بدل دیتا ہے شاہ من، محبت سے ہی ہم پر منکشف ہوا کہ، جب سے ہم مبتلائے محبت ہیں، ارض و سماوات کی گردشِیں تھم گئی ہیں۔"

وہ اسے اپنی چاہت کا اعتبار سونپتے ہوئے کچھ اقرار کررہی تھی جو اسکی آنکھوں میں سرعام چھلکتے تھے اور اپنا مقدمہ جیتنے کیلئے وہ کوشاں تھی۔

"لیکن ایک بات آپ بتانا بھول گئی ہیں نورجان کہ یہ میرے صبر کی جزا ہے جس کے معصوم دل پہ روز اول سے آپ جبر کرتی آرہی ہیں ۔"

نورالعین کے سُرخ زنبوران کو لفظوں کی پوشاک پہناتے ہوئے زاویار بولا تھا۔

Kitab Nagri start a journey for all social media writers to publish their writes.Welcome To All Writers,Test your writing abilities.
They write romantic novels,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels.

Dua E Hirz Jaan By Uzma Mujahid Episode 13 is available here to download in pdf form and online reading.
Click on the link given below to Free download Pdf
Free Download Link
Click on download
give your feedback

ان سب ویب،بلاگ،یوٹیوب چینل اور ایپ والوں کو تنبیہ کی جاتی ہےکہ اس ناول کو چوری کر کے پوسٹ کرنے سے باز رہیں ورنہ ادارہ کتاب نگری اور رائیٹرز ان کے خلاف ہر طرح کی قانونی کاروائی کرنے کے مجاز ہونگے۔

Copyright reserved by Kitab Nagri

ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئےامیجز پرکلک کریں 👇👇👇















































 پچھلی قسط پڑھنے کے لیے نیچے دئیے لنک پر کلک کریں 👇👇👇


ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول


 کیسا لگا ۔ شکریہ

Post a Comment

0 Comments