Joinda Ya Banda Complete Novel By Umm E Malaika
Joinda Ya Banda Complete Novel By Umm E Malaika
ممبئی کی ایک مشہور نائٹ
کلب میں چمکتی روشنیوں کے سائے لہرا رہے تھے۔ نیون بلب دیواروں پر رنگ بدل بدل کر
ڈھل رہے تھے، کبھی گہرا نیلا، کبھی شوخ سرخ اور کبھی سبز روشنی ہر چیز پر جادو سا
بکھیر رہی تھی۔ کلب کے وسط میں بنا ڈانس فلور روشنیوں کے دائرے میں جگمگا رہے تھے۔
ڈی جے اپنے اونچے اسٹیج
پر کھڑا ہیڈ فون کانوں پر جمائے، بیٹس کو ہوا میں چھوڑ رہا تھا۔ سپیکرز سے نکلتی
دھڑکن جیسی میوزک ہر دل کی رفتار بڑھا رہی تھی۔ پورا ہال دھواں دار ایفیکٹس اور
موسیقی کے شور سے لبریز تھا۔
ڈانس فلور پر درجنوں لڑکے
لڑکیاں، مغربی ملبوسات پہنے، موسیقی کی تھاپ پر جھوم رہے تھے۔ کوئی ہاتھ ہوا میں
لہرا رہا تھا، کوئی ہنسی کے فوارے چھوڑ رہا تھا، کوئی اپنے ساتھی کے گرد گھوم رہا
تھا۔ تیز لائٹ کی چمک ان کے چہروں کو کبھی واضح اور کبھی دھندلا کر رہی تھی۔
ایک کونے میں بار کاؤنٹر
جگمگا رہا تھا، جہاں گلاسوں کی کھنک اور بوتلوں کا شور سنائی دے رہا تھا۔ بارٹینڈر
ماہر ہاتھوں سے ڈرنکس مکس کر رہا تھا۔ سنہری مائع کی چھلکیاں روشنی پکڑ کر ہال میں
ستاروں جیسی چمک بکھیر رہی تھیں۔
چمڑے کے سو فاز پر بیٹھے
کچھ لوگ ہنسی مذاق اور تیز آوازوں میں گفتگو کر رہے تھے۔ سگریٹ کا دھواں اور پرفیوم
کی خوشبو ایک دوسرے میں گھل کر ہوا کو بوجھل بنا رہی تھی۔
باہر گھڑی کی سوئیاں دس
بجنے کا اعلان کر رہی تھیں۔ لیکن اندر وقت جیسے رک گیا ہو۔ ہر کوئی اپنی دنیا میں
مگن تھا، شور شرابہ، قہقہے، چیخیں اور موسیقی کا تیز شور ماحول کو سرشار کر رہا
تھا۔
پارٹی کے شور و غل کے بعد
باہر رات کی ٹھنڈی ہوا میں ایک عجیب سا سکوت تھا۔ کلب کے دروازے پر کھڑی آروہی نے
ریا اور ویر کو مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا کر الوداع کہا۔
آروہی نے مسکراتے ہوئے
کہا۔"گڈ نائٹ گائز! کل ملتے ہیں۔"
ریا نے اسے گلے لگا کر
کہا۔ "ہاں، لیکن احتیاط سے جانا۔"
ویر نے گاڑی اسٹارٹ کرتے
ہوئے کہا۔ "میسج کر دینا گھر پہنچ کر۔"
آروہی نے سر ہلایا اور
آٹو رکشا لے کر گھر کی طرف چل پڑی۔ سڑکیں ویران تھیں، دکانوں کے شٹر بند تھے اور
اسٹریٹ لائٹس کی پیلی روشنی میں شہر اداس سا لگ رہا تھا۔
گھر پہنچتے ہی جیسے ہی اس
نے دروازہ کھولا، سامنے اُس کی ماں شویتا کھڑی تھی۔ چہرے پر فکر کی لکیریں اور
آنکھوں میں بے چینی صاف جھلک رہی تھی۔
شویتا پریشان لہجے میں
بولی۔"یہ کونسا وقت ہے گھر آنے کا آروہی؟ رات کے ایک بج رہے ہیں! تمہیں ذرا
سا بھی احساس نہیں ہوتا؟ پتہ ہے میں کتنی پریشان ہو گئی تھی۔ ابھی کل ہی نیوز میں
دکھایا جا رہا تھا کہ لکھنؤ میں ایک لڑکی کا ریپ ہوا ہے۔ بھگوان نہ کرے کہ تمہارے
ساتھ ایسا کچھ ہو… لیکن احتیاط ضروری ہے!"
آروہی نے جوتے اتارتے
ہوئے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ "ارے میری پیاری ماں… فکر کیوں کرتی ہو؟
تمہارا وہ بھگوان ہے نا، میری حفاظت کے لیے۔"
شویتا نے سخت لہجے میں
کہا۔ "بس بہت ہوا! آئندہ دس بجے کے بعد تم گھر سے باہر نہیں نکلو گی۔"
آروہی چونک کر بولی۔
"یہ کیا بات ہوئی؟ کل تو مجھے ریا کے ساتھ جانا تھا۔"
شویتا نے غصے سے پلٹ کر
کہا۔ "کوئی ضرورت نہیں ہے کہیں بھی جانے کی۔ اگر بحث کی تو تمہارے باپ کو سب
بتا دوں گی۔"
یہ کہہ کر وہ تیزی سے
اپنے کمرے میں چلی گئی۔ دروازہ زور سے بند ہونے کی آواز نے لمحہ بھر کو سناٹے کو
اور گہرا کر دیا۔
آروہی وہیں دروازے کے پاس
کھڑی رہ گئی۔ اس کی آنکھوں میں ماں کی سختی سے زیادہ اُس کی فکر جھلک رہی تھی۔
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ


