Pashmina Complete Novel By Alif Aien Umar

Pashmina Complete Novel By Alif Aien Umar

Pashmina Complete Novel By Alif Aien Umar

Novel Name : Pashmina
Writer Name: Alif Aien Umar
Category : LATEST COMPLETE NOVEL,After Marriage Based,Revenge Based Novels,Friendship based.
Love story
Novel status : Complete


‎سفید روشنیوں میں کھڑے کھلی سیاہ رات میں تاروں بھرے آسمان کے نیچے احرام میں لپٹا شخص تکبیریں کہتا ہوا طواف کعبہ کر رہا تھا۔تیسرے سے دوسرے دائرے میں آتے وہ شخص پہلے دائرے میں آیا تھا۔خانہ کعبہ کا سیاہ غلاف اس کی نظروں کے بالکل سامنے تھا۔سانس ساکن ہوئی تھی۔دل بےخودی کے عالم میں جیسے ہر گناہ اور سیاہی خود سے نکال رہا تھا۔اس شخص نے اپنا ہاتھ خانہ کعبہ کو چھونے کے واسطے اسکے سامنے کیا تھا۔

‎جس روز تم سیاہ رنگ کا تقدس جانو گے تمہیں ہر رنگ سے نفرت ہو گی۔

‎کانوں میں پگھلتے سیسے کی مانند باریک آواز گونجی تھی۔

‎اس شخص نے ہاتھ یک دم پیچھے کیا تھا۔اس نے گردن موڑ کر اردگرد دیکھا تھا۔دل زوروں سے دھڑکا تھا۔واپس ہمت جمع کرتے اس شخص نے غلاف کو تھامنا چاہا تھا۔خوبصورت دودھیا سفید مخروطی انگلیوں والا ہاتھ اسے قابلِ نفرت معلوم ہوا تھا۔خوف سے ڈرتے اس نے آنکھیں میچتے غلاف کو چھوا تھا۔پھر فوراً چھوڑتے طواف میں مشغول ہوا تھا۔

‎طواف سے فارغ ہوتے وہ حجر اسود کی لائن میں کھڑا تھا۔ہر شخص محض دو تین سیکنڈ ہی اس پتھر کو چوم سکتا تھا۔شرطہ سب کو اس سعادت کو حاصل کرنے میں مدد کر رہا تھا۔سفید احرام میں لپٹا سفید شخص قدم اٹھاتا حجرہ  اسود کے پاس آیا تھا۔اس نے گردن اندر ڈالتے پتھر کو دیکھا تھا۔اس نے مقدس جنت کے پتھر کو چوما تھا۔

‎کانوں میں واپس باریک آواز گونجی تھی۔وہ منجمد ہوا تھا۔اس نے پتھر پر ہاتھ پھیرا تھا۔وہ واحد خوش قسمت انسان تھا جسے اس سعادت کے واسطے پندرہ سیکنڈ میسر آۓ تھے۔وہ کرنٹ کھاتا الٹے قدم خانہ کعبہ اور حجر اسود کو دیکھتے سفید آنکھوں ساتھ پیچھے کی جانب ہو رہا تھا۔

‎دل مقدس جگہ پر بھی سکون نہیں پا رہا تھا۔اسے بےچینی ہوئی تھی۔

‎وہ صفا مروہ کی پہاڑیوں کے بیچ چل رہا تھا۔طواف کے بعد اس جگہ پر چلنا پاؤں کو ٹکور دینے جیسا تھا۔راحت پورے جسم میں بھرنے لگی تھی۔روشنیوں کو سبز ہوتے دیکھ وہ تیز قدم اٹھانے لگا تھا۔اسے حضرت ہاجرہ کی بےچینی کا ایک فیصد حصہ خود میں بھرتا محسوس ہوا تھا۔آنکھیں انکے حوصلے پر آنسو سے بھرنے لگی تھی۔سات چکر پورے کرتے وہ مروہ کی پہاڑی پر رکا تھا۔اسے حلق کے مرحلے سے گزرنا تھا۔وہ اس سمت چل دیا تھا۔چند دیر گزری تھی وہ سر منڈواتے واپس خانہ کعبہ آیا تھا۔فجر ہونے میں کچھ وقت باقی تھا۔اس نے قرآن اٹھایا تھا۔پہلا صفحہ کھولتے اسکی آنکھیں بھری تھیں۔وہ لفظ پڑھنے سے قاصر تھا۔اس نے بےبسی سے اردگرد دیکھا تھا۔ہرشخص اپنے خدا کو راضی کرنے میں لگا تھا اور وہ پہلے مرحلے پہ ہی ناکام ہوا تھا۔اس نے سیاہ رنگ کے حرفوں کو دیکھا تھا۔جن کے اوپر رنگین زبر زیر پیش لگی تھی۔بچپن جوانی تمام عمر اسکی ان حرفوں سے ناآشنا گزری تھی۔اچانک ذہن میں دوبارا آواز گونجی تھی۔اس نے کانوں پر ہاتھ رکھا تھا۔وہ کوفت زدہ ہوا تھا۔وہ یہاں بھی ذہن پر سوار ہو رہی تھی۔وہ بے بس ہوا تھا۔

‎اسکے ذہن میں سیاہ فام لڑکی بھری تھی۔اسکے سجدے اسکے رکوع اور اسکی قرآن پڑھنے کی صدا اسکے کانوں میں بھری تھیں۔اس نے خوف سے سہم کر اپنے پیچھے دیکھا تھا۔المیر قرآن کھولے دھیرے دھیرے لب ہلا رہا تھا۔وہ اسکے قریب آیا تھا۔المیر اسکو مضطرب دیکھتے آیت ختم کرتے اسکی جانب دیکھنے لگا تھا

‎مجھے ایوب والی آیت بتاؤ المیر۔

‎سامنے بکھرے حال بیٹھا شخص بولا تھا۔

‎المیر نے آنکھیں سکیڑتے اسکی جانب دیکھا تھا۔وہ۔سمجھنے سے قاصر ہوا تھا۔ایسی کونسی آیت تھی جسے وہ ایوب علیہ السلام کے ساتھ منسوب کر رہا تھا۔

‎تم کونسی آیت چاہتے ہو۔

‎میں نے اسے روتے سنا تھا۔وہ صبر ایوب مانگ رہی تھی۔

‎ذہن میں گھاس پر جاۓ نماز بچھاے سجدے میں روتی لڑکی سمائی تھی۔جو ہچکیوں اور سسکیوں کے بیچ خدا سے فریاد کر رہی تھی۔

‎یاربی صبر ایوب عطا  کر۔

‎بکھرے حال شخص نے تمام بات المیر کو بتائی تھی۔

‎المیر اسکی بات سنتے مسکرایا تھا۔ایسی کوئی آیت نہیں ہے۔لیکن انکے صبر کا تذکرہ بڑی تفصیل سے سورۃ ص اور سورۃ انبیا میں کیا گیا ہے۔وہ رسانیت سے بولا تھا۔

‎بکھری حالت والا شخص کعبہ کے قریب گیا تھا۔طواف کرتے پانچ سات دائروں کے بعد وہ شخص دو زانو وہاں بیٹھا تھا۔اس نے ہاتھ باریک کنکریوں سے بھرے فرش پر مارا تھا۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

‎یاربی صبر ایوب عطا کر۔

‎وہ ہوبہو اسی لڑکی کے لفظوں کو دہراتے زار زار رونے گا تھا۔

‎مجھے کوئی قرآن نہیں آتا۔

‎مجھے نماز نہیں آتی۔

‎مجھے کچھ نہیں پتہ یاربی۔

‎مجھے صرف اتنا پتا ہے آپ دلوں کا حال جانتے ہیں۔آپ میرے اندر کو بن کہے سمجھ جائیں گے۔

‎مجھے صبر ایوب عطا کر دیں۔میرے کانٹوں بھرے دل کو پھولوں کی ملکہ سے بھر دیں۔وہ بےخودی کے عالم میں بولا تھا۔اچانک آسمان سے بارش کے قطرے برسے تھے۔اس نے سرخ آنکھیں اوپر کرتے اللہ کی جانب دیکھا تھا۔سنہرے پرنالے سے بارش کا پانی باریک دھاری کی صورت گرتا اسکے ہاتھوں میں جمع ہوا تھا۔اس نے پانی چہرے پر چھپاکا تھا۔

‎تیزی سے اٹھتے اس نے آخری نظر سیاہ اور سنہرے گھر پر ڈالی تھی۔

‎میں نے آپ سے مانگا ہے یاربی۔

‎اور آپ کسی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے وہ پھر لڑکی کی سنی ہوئی دعا کہہ رہا تھا۔


2nd Sp 👇👇👇


تمہیں بندوق چلانی آتی ہے؟

وہ حیرت سے بولی تھی۔

مرد گولی کے بغیر ادھورا ہے۔

وہ اسکی بات پر بولا تھا۔ہاتھ بڑھاتے ولی نے اسکے ہاتھ سے بندوق لیتے اسکی نالی میں لگے کارتوس نکالے تھے۔

بویان لوڈ ہوئی بندوق دیکھتے گھبرائی تھی۔یعنی اگر وہ غلطی سے ٹریگر دبا دیتی تو جان سے جاتی۔

وہ منہ پر ہاتھ رکھتے ڈری تھی۔

میں تمہیں کچھ نہ ہونے دیتا۔

اسکے ڈر کو بھانپتے ولی نے اسکے ہاتھوں کو منہ سے ہٹایا تھا۔

مجھے بندوق چلانی سکھاؤ گے؟وہ پُرشوق انداز میں بولی تھی۔

ولی نے آنکھیں سکیڑتے اسکی جانب دیکھا تھا۔پھر اسکی خواہش کے سامنے ہتھیار ڈالتے سر اثبات میں ہلایا تھا۔

اگلے چند روز میں ولی نے اسے ماہرانہ انداز میں بندوق چلانی سکھائی تھی۔پہاڑ کے قریب رکھی کانچ کی بوتل کا نشانہ لیتے بویان نے بندوق کندھے ساتھ لگاتے ٹریگر دبایا تھا۔

ٹھاہ کی آواز کے ساتھ سبز کانچ کی بوتل چھناکے کے ساتھ ٹوٹی تھی۔

اس نے فاتحانہ انداز میں ولی کی جانب دیکھا تھا۔

اب تمہیں میرے علاؤہ کوئی دیکھے تو ایسے ہی اسکی جان نکال دینا۔

ولی اسکی جانب دیکھتے محظوظ ہوتے بولا تھا۔

میں کیوں؟ تم خود اپنے ہاتھوں سے اسے موت دینا۔

وہ نخرے سے بولی تھی۔

میں نے صرف ایک شخص کو مارنا ہے۔اچانک بویان کے تاثرات سخت ہوے تھے۔

ولی نے اچنبھے سے اسکی جانب دیکھا تھا۔

کسے؟

زَرجان کاکڑ کو۔

وہ نخوت سے بولی تھی۔

اس نے ہم سب کو پریشان کر رکھا ہے۔دیدم اسکی بے اعتنائی کی بدولت بستر سے جا لگی ہے۔وہ روہانسی ہوتے بولی تھی۔

اگر زَرجان میرے سامنے آ جاۓ میں اسے گولی ماری دوں۔

وہ آنسو ضبط کرتے سخت گیر ہوئی تھی۔

خدا اس زَرجان کاکڑ کو کتے کی موت مارے۔

عشق نے بددعا دی تھی۔ولی کے دل میں ہول اٹھا تھا۔

ولی نے آگے بڑھتے بندوق کی نال اپنے دل کے مقام پر رکھی تھی۔

مارو!.

وہ تحمل سے بولا تھا۔

میں نے زَرجان کاکڑ کہا ہے۔بویان گھورتے ہوۓ بولی تھی۔

مارو بھی!.

ولی دوبارا بولا تھا۔

تم کون ہو؟

بویان کے ماتھے پر بل آۓ تھے۔

میں زَرجان ولی کاکڑ ہوں۔کاکڑ قبیلے کا سردار۔

ہاہاہا!.

اسکی بات سنتے ہی بویان کھلکھلاتی ہوئی ہنسی تھی۔

جھوٹے۔

اس نے روانی سے کہا تھا۔

ولی نے جیب سے آئی ڈی کارڈ نکالتے اسکی سمت کیا تھا

بویان کا وجود زلزلوں کی زد میں آیا تھا۔اسکی دنیا گھومی تھی۔

ت۔۔تمم۔۔نے مجھے دھوکہ دیا۔

وہ ٹوٹے پھوٹے لہجے میں بولی تھی۔آئی ڈی کارڈ اسکے ہاتھ سے زمین پر لہراتے گرا تھا۔

تم دھوکے باز ہو ولی!.

اسکی آنکھیں بھری تھیں۔

تم نے محبت کے رشتے کو پامال کیا۔

غصہ حد سے زیادہ بڑھا تھا۔

ولی کو اس سے ایسے ہی ردعمل کی توقع تھی سو خاموش کھڑا تھا۔

میں نے دشمنی میں بھی تم سے صرف محبت نبھائی ہے بویان نساء بلتی!.

بویان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔

ہماری داستان اتنی جلدی ختم نہیں ہونی چاہئیے تھی۔وہ رونے کے بیچ بولی تھی۔

تمہیں مجھ سے محبت ہے یا میرے نام سے؟

زَرجان اچنبھے سے بولا تھا۔

میں تم سے نفرت کرتی ہوں۔وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی تھی۔

تم سوچنے کا وقت لو بویان!۔

میں دو دن بعد تمہارا یہیں پہ انتظار کروں گا

زَرجان نے دل پر پتھر رکھتے اسے یہ بات کی تھی۔وہ ہاں یا ناں کے بیچ سولی پر لٹکنے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔

چادر پتھروں پر رگڑ کھاتے بویان وہاں سے روتے ہوے بھاگی تھی۔آنسو متواتر بہہ رہے تھے۔ولی اتنا بڑا دھوکہ دے گیا تھا۔وہ اپنی پہچان اس سے مہینوں سے چھپاتے اسکے جذبات سے کھیل رہا تھا۔اسے وہاں کھڑی لڑکی یاد آئی تھی۔تو کیا ولی اس لڑکی کی بدولت اسے تکلیف دینے لگا تھا۔اسکا دل مزید بوجھ میں آیا تھا۔




Kitab Nagri start a journey for all social media writers to publish their writes.Welcome To All Writers,Test your writing abilities.
Pashmina Complete Novel By Alif Aien Umar is available here to download in pdf form and online reading.
Click on the link given below to Free download Pdf
Free Download Link
Click on download
give your feedback


Follow Our Whatsapp Channel FoR Latest Novel Update         👇👇👇👇
  

Follow Us On Instagram                    👇👇👇👇 


Follow Us On Instagram Tiktok


ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
 اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں  👇👇👇
 


Direct Link








FoR Online Read

ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول

 کیسا لگا ۔ شکریہ


Post a Comment

Previous Post Next Post