Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Contact Us

Assalam o alaikum !
If you have the ability to write something and want to convey your writings infront of the world then get ready because www.kitabnagri.com is going to provide an online platform for all social media writers where you people can share your writings. 
For futher details and for the posting of writings you can contact us through mail:

knofficial9@gmail.com

or you can contact us through our facebook page :

 Fb/ Pg / kitab Nagri

whatsapp _ 0335 7500595


Warmly waiting for you people's response in this journey of light and publicity

تمام سوشل میڈیا رائیٹرز کو " کتاب نگری" میں خوش آمدید۔
ہماری ویب کا حصہ بننے کے لیئے اپنی تحاریر اس ای میل پر بھیجیں۔

knofficial9@gmail.com


Post a Comment

18 Comments

  1. آج دو پہلوؤں پےبات کرتےهىں
    کاغذقلم تىرےہاتھ کرتےهىں
    ميں بولوں گا تم لکھتےجانا
    آج کى رات قیامت کى رات کرتےهىں

    ReplyDelete
  2. اسلام وعلیکم
    #ناول
    ایمان، امید اور وفا ۔
    episode#1
    آج اسے ڈھلتی ہوئی اداس شام سے وحشت ہو رہی تھی ۔ حالانکہ اس وقت وہ خود اسی شام کا حصہ لگ رہی تھی۔
    اس سے قبل اسے شام سہانی لگتی تھی کیوں کہ اس وقت ہر پرندہ ، ہر جانور یہاں تک کہ انسان جسے اشرف المخلوقات کا عہدہ دیا گیا ہے تمام بے پناہ مصروف دن گزرنے کے بعد گھونسلوں اور گھروں کی راہ لیتے ۔ اور اسی وقت اس کے بابا جانی بھی گھر آتے تھے آج بھی شاید اب تک گھر آچکے ہونگے ۔

    وہ اپنی بے معنی سوچوں میں گم پارک کے انتہائی سنسان اور تاریک گوشے میں بیٹھی تھی ۔ اس کے خوبصورت بیضوی چہرے پر مایوسانہ تاثرات کی گہری چھاپ تھی ۔ اس کے چہرے کے گرد سیاہ رنگ کے دوپٹے کا ہالہ تھا ۔ وہ تھی امید ۔ جس سے فقط دوسروں نے امیدیں وابستہ کیں پر اس کی کوئی خواہش پوری نہیں ہوئی کوئی بھی اس کی امیدوں پر پورا نہیں اترا حالانکہ وہ ہر کسی کی امید پر پورا اترتی ۔ انہیں سوچوں میں غلطاں اسے پتہ نہیں کتنی دیر ہوچکی تھی تب ہی اس نے ایک باریش بزرگ کو اپنی دھندلائی نظروں سے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا ۔ وہ اٹھنے والی ہی تھی جب انہوں نے اس کے برابر نشست سنبھال لی اور وہ چاہ کر بھی اپنی جگہ سے نہ ہل سکی۔

    🍂 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 🍂

    شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان میں حسب معمول گہما گہمی تھی ۔ لیکن گائنی وارڈ کے باہر خاور علی انتہائی پریشانی کی حالت میں اپنے رب سے ہم کلام تھے ۔ دراز قد اور سرخ و سفید رنگت کا مالک صحتمند مرد اس وقت بچوں کی طرح رب سے خیریت اور رحمت کا طلب گار تھا ۔
    وہ دعا میں مشغول تھے جب ایک نرس نو مولود بچی کو اٹھائے ان کی جانب آئی ۔
    "آپ کی بیوی اور بچی دونوں خیریت سے ہیں ۔ " نرس نے انہیں گویا نئی زندگی کی نوید سنائی ۔
    "یا اللہ تیرا شکر ہے ۔ "خاور علی کی زبان سے بے اختیار شکر کے کالمات ادا ہوئے اور انہوں نے بچی کو گود میں لے کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا ۔
    بیشک ان کے رب نے ان کو اپنے رحمت سے نواز دیا تھا ۔

    🍂۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔🍂

    آج پھر وہ مایوس لوٹا ۔ حسب معمول اس کی چھوٹی بہن ایمان نے دروازہ کھولا ۔
    "السلام وعلیکم بھائی " ایمان نے بھائی کو سلام کیا ۔
    "وعلیکم السلام اماں کہاں ہیں ؟"مومن نے سلام کا جواب دینے کے بعد سوال کیا ۔
    "کہاں ہو سکتی ہیں ؟؟؟نماز پڑھ رہی ہیں ۔ " ایمان جواب دیتے ہوئے باورچی خانے میں پانی لینے چلی گئی ۔
    مومن کی آواز سنتے ہی نور بنت فاطمہ کمرے سے باہر صحن میں آئیں ۔" آگئے بیٹا؟کیسا ہوا انٹرویو ؟ "السلام وعلیکم اماں. بہتر ہوا لیکن آجکل سفارش اور رشوت سے نوکری ملتی ہیں ناکہ ڈگریوں سے ۔ " مومن نے مایوس ہوتے ہوئے جواب دیا ۔
    "ناں میرے بچے مایوس مت ہو ۔ دنیا جو مرضی کر لے لیکن تمہارے نصیب کا رزق نہیں چرا سکتی ۔ جتنی مرضی سفارشات اور رشوتیں آجائے خو تمہارا ہے وہ صرف تمہارا ہیں ۔ " اماں نے مومن کو مضبوط لہجے میں سمجھایا ۔
    "چلو فریش ہو جائو پھر کھانا کھاتے ہیں ۔ " اماں کے کہنے پر مومن اپنے کمرے کی طرف چل دیا ۔
    سکندر علی کی وفات کے بعد انہوں نے انتہائی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے صبر وشکر کے ساتھ زندگی کے 20 سال گزارے ۔ مومن پانچ سال اور ایمان تین سال کی تھی ۔ چھوٹے سے گھر میں دولت کی ریل پیل نہ سہی لیکن اطمینان و سکون ضرور تھا ۔

    🍂۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🍂
    باقی ان شاءاللہ آئیندہ ۔
    فیڈ بیک ضرور دیجئے گا ۔ اللہ نگہبان۔

    ReplyDelete
  3. اسلام وعلیکم
    #ناول
    ایمان، امید اور وفا ۔
    episode#1
    part 2
    از قلم حلیمہ نور



    "میں نے اس کے لیے امید رحمت نام تجویز کیا ہے ۔ " خاور صاحب ننھی پری کو گود میں لیے اس کو خوبصورت نام کا تحفہ دے رہے تھے ۔
    "بہت پیارا نام ہے ۔" مہتاب بیگم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔
    "تمہیں پتا ہے کہ میں نے اس کا یہ نام کیوں رکھا ؟"
    خاور صاحب نے سوالیہ انداز میں پوچھا ۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی نصف بہتر لاعلم ہوں گی ۔ مہتاب بیگم نے ناں میں سر ہلایا اور پوچھا ۔
    "کیوں؟"
    "کیونکہ بیٹی اللہ کی رحمت ہوتی ہیں ، جب سے یہ پیدا ہوئی ہے اس کو دیکھ کر اللہ کی رحمت کا احساس ہوتا ہے ۔ یہ امید بڑھتی ہے کہ اللہ مجھ سے راضی ہے اس لیے اس پاکیزہ رحمت کے قابل سمجھا ۔ شکر الحمداللہ "
    خاور صاحب نے مدلل انداز میں مسکراتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں امید رحمت نام رکھنے کی وجہ بتائی۔

    ��۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔��

    آج پھر یونیورسٹی سے واپسی پر وہی لڑکا اس کا پیچھا کر رہا تھا ۔ اور آج تو اس نے مخاطب کرنے کی کوشش بھی کی ۔
    "سنیں ایمان ۔ " اپنے نام کی پکار سنتے ہی ایمان کے قدموں کی رفتار میں مزید تیزی آگئی ۔
    تقریبا بھاگتے ہوئے اس نے رکشہ روکا اور عجلت بھرے انداز میں رکشہ پر سوار ہو گئی ۔

    ��۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔��

    "امید رحمت" مہتاب بیگم نے امید کو پکارا جو کہ اپنے کھلونوں سے کھیل رہی تھی ۔
    "جی ام جان" ایمان انہیں امی کے ام کہتی تھی ۔
    "ہوم ورک کر لیا اپنا؟ " انہوں نے پوچھا ۔
    "جی " ایک لفظی جواب آیا اس کے بعد پھر سے اپنے سابقہ کام میں مشغول ہوگئی ۔ وہ ایسی ہی تھی موڈی سی جب دل چاہتا تو ڈھیروں باتیں کرتی کہ زبردستی چپ کرانا پڑتا اور کبھی تو مختصر ترین بات کرتی ۔
    "اچھا مزمل بھائی کہاں ہیں؟"انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کا پوچھا ۔ امید نے کندھے اچکا کر لا علمی کا اظہار کیا ۔
    مہتاب بیگم اور خاور علی کے دو ہی بچے تھے مزمل علی اور امید رحمت عمریں بالترتیب 13 اور 7 سال ۔ مہتاب بیگم امید کے بعد پھر ماں نہ بن سکی حالانکہ ان کی خواہش تھی کہ ایک بیٹا اور ہوتا ۔
    لیکن اللہ کی رضا کے آگے کس کی خواہش کس کی مرضی چلتی ہے ۔ جو بہتر ہے وہی ہوتا ہے ۔

    ��۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔��

    پتہ نہیں کہاں سے آجاتے ہیں یہ آوارہ لڑکے دوسروں کی زندگی اجیرن کرنے ۔ ان کے اپنے گھروں میں ما بہنیں نہیں ہوتی ۔ جو انہیں احساس نہیں ہوتا کہ دوسری لڑکیاں بھی کسی کے گھر کی عزت ہوتی ہیں۔
    پتہ نہیں اسے میرا نام کا کیسے پتہ چلا ؟ گھر پہنچ کر بھی اسکی پریشانی اور اضطراب میں کمی نہیں ہوئی بلکہ اضافہ ہوا ۔
    "ایمان بیٹا آجائو روٹیاں بنا لو مومن آتا ہی ہوگا ۔ "
    اماں نے اسے کچن سے آواز دی ۔
    وہ بھی الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کچن میں چلی آئی ۔ کیا مجھے اماں کو بتانا چاہئیے شاید نہیں اماں پریشان ہوجائے گی ۔ پہلے ہی مومن بھائی کی وجہ سے پریشان رہتی ہیں ۔ اللہ کرے بھائی کو جان مل جائے آمین ۔
    " اچھا بیٹا روٹی بنائو تب تک میں نماز پڑھ لوں ۔ " اماں کی آواز اسے سوچو کے بھنور سے باہر نکال لائی ۔ اس نے سر ہلا دیا ۔

    ��۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔��

    جاری ہے ۔

    باقی انشاءاللہ آئیندہ

    فیڈ بیک ضرور دیجئے گا ۔

    ReplyDelete
  4. ایمان امید اور وفا
    از قلم حلیمہ نور
    episode # 2
    "بیٹا جلدی ناشتہ کرو۔ آج امید کا کالج میں پہلا دن ہے ۔ پہلے دن ہی اسے لیٹ جائے گی وہ کالج ۔ "مہتاب بیگم ۔۔۔۔۔۔۔ کو ناشتہ کے لیے بلا رہی تھی ۔
    "میں نہیں لے کر جاؤں گا میری خود امپورٹینٹ میٹنگ ہے ۔ مجھے جلدی پہنچنا ہے ۔ "۔۔۔۔۔۔نے ڈائننگ روم میں آتے ہوئے امید کے برابر نشست سنبھالتے ہوئے کہا ۔
    "آپ اسے بابا کے ساتھ بھیج دیتی؟ " ۔۔۔۔۔نے سریئس ہونے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ماما سے کہا ۔اور ساتھ میں امید کا چہرہ دیکھا ۔ جس پر پریشانی واضح تھی ۔
    "ویسے بھی میرے پاس بائیک ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ تیز بائیک چلانے پر اڑ نہ جائے۔ " بات مکمل ہوتے ہی ۔۔۔۔۔۔۔ کے منہ بلند قہقہ برآمد ہوا ۔ جس پر امید کا منہ مزید پھول گیا ۔
    "میں بھی شوق نہیں آپ کے ساتھ کالج جانے کا ۔ مت لے کر جائے میں خود ہی کل بابا کے ساتھ چلی جاؤں گی ۔ سمجھے آپ؟؟؟" امید نے اسے گھورتے ہوئے جواب دیا ۔ حسب توقع وہ برا ماں چکی تھی۔
    " تمیز سے بات کیا کروں بڑا ہے تم سے " مہتاب بیگم نے چائے لیتے ہوئے امید کو اونچی آواز میں چلانے پر ڈانٹا ۔
    امید غصے سے اٹھ کر اپنے روم میں چلی گئی ۔ جبکہ ۔۔۔۔۔۔ کے چہرے مسکراہٹ تھی ۔

    ♾♾♾♾♾♾♾♾♾

    آج پھر وین لیٹ تھی ۔ ایمان کوفت بھرے انداز میں کھڑی انتظار کر رہی تھی ۔ جب اس نے کالج کے گیٹ کی طرف اسے جاتے ہوئے دیکھا ۔ اف یہ اسی کالج میں پڑھتا ہیں ۔ اس کی پیشانی پسینے سے تر بتر ہوئی ۔
    وین کے ہنر دینے پر وہ پریشان صورت لیے وین میں آکر بیٹھ گئی ۔

    ♾♾♾♾♾♾♾♾♾

    "امید!"۔۔۔۔۔۔۔ اسے آواز دیتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا ۔
    امید خاموشی سے رخ موڑے بیٹھی رہی۔ سفید شلوار قمیض اور ڈارک بلیو ڈوپٹے میں بہت معصوم اور پیاری لگ رہی تھی ۔
    "میری گڑیا بھائی سے ناراض ہے؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انتہائی لاڈ سے اسے بلاتے ہوئے اس قریب بیٹھ گیا ۔
    "اچھا نا ناراض مت ہو مذاق کر رہی تھا۔ آئیندہ نہیں کروں گا ۔ اور اب جلدی چلو میں آفس سے لیٹ ہو جاؤں گا ۔ پھر تمہارے بابا ناراض ہو جائیں گے۔ "مزمل نے شرارتی لہجے میں کہا ۔
    ♾♾♾♾♾♾♾♾

    "مومن بھائی آج مجھے کالج آپ چھوڑدیں۔" امید نے ناشتہ کرتے ہوئے مومن سے پوچھا ۔
    "ہاں "مومن نے مختصر جواب دیے ۔
    "ٹھیک ہے بھائی میں عبایا لے کر آتی ہوں۔" امید کی بات پر اس نے سر ہاں میں ہلایا ۔
    "مومن بیٹا کیا بات ہے ؟؟" فاطمہ جو مومن کو سوچ میں گم بیٹھے کافی دیر سے دیکھ رہیں تھی ۔بالآخر انہوں نے استفسار کر ہی لیا۔
    "کچھ نہیں اماں بس امید کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ کتنی جلدی بڑی ہو گئی ہے ۔" مومن نے چونکتے ہوئے جواب دیا ۔
    "ہاں ماشاللہ اللہ اس کا نصیب اچھا کرے ۔ آمین "فاطمہ نے امید کیلیے دعائیہ کلمات کہے۔ جواب میں مومن نے "آمین" کہا۔
    "چلیں بھائی ۔" امید نے صحن میں آتے ہوئے کہا۔
    "ہاں چلو ۔" مومن جواب دیتے ہوئے کھڑا ہوا ۔
    "اللہ حافظ اماں ۔"دونوں نے یک زبان ہوکر کہا ۔۔ گویا بچپن کے سنہرے لمحے سامنے آکھڑے ہوئے ہوں۔

    ♾♾♾♾♾♾♾♾♾♾

    "چلو بھائی کالج آگیا ۔ اترو اب میری بائیک سے بچاری نے سانس بھی لینی ہوتی ہیں ۔ تم اپنا ۔۔۔۔۔"کالج کے سامنے بائیک روکتے ہی مزمل کا مذاق شروع ہو گیا ۔
    "I mean ........"
    مزمل نے جھوٹی وضاحت دینے کی کوشش کی ۔
    "رہنے دیں بھائی میں I mean کا مطلب خوب جانتی ہوں ۔ " امید نے خفگی بھری آواز میں کہا۔
    "اوکے لیو دس (ok leave this ) اللہ حافظ ۔" مومن نے بحث ختم کرتے ہوئے کہا ۔
    "اللہ حافظ " امید نے جواب میں کہا اور کالج کے گیٹ کی جانب چل دی ۔

    ♾♾♾♾♾♾♾♾♾
    "واپس کس کے ساتھ آنا ہے"۔ مومن نے اسے کالج کے سامنے اتارتے ہوئے کہا ۔
    "بھائی آپ کے ساتھ ۔ ایمان بے جواب دیا ۔
    لیکن میرا تو انٹرویو ہے شاید نا آسکو ۔" مومن نے بتایا ۔
    "اوہ چلیں کوئی بات نہیں میں رکشہ پر چلی جاؤ گی ۔ "ایمان یہ کہتے ہوئے کالج کی جانب بڑھ گئی ۔
    مومن نے بائیک اسٹارٹ کی اور اپنی منزل کی طرف بڑھ گیا ۔ اس چیز سے بے خبر کہ آنے والے لمحات کیسے قیامت خیز ہونگے ۔
    ♾♾♾♾♾♾♾♾♾
    آج فاطمہ کا دل صبح سے گھبرا رہا تھا ۔ شاید بی پی لو ہو ۔ کافی دیر فضول سوچوں میں گم رہنے کے بعد وہ کچن میں چلی آئی اور آلو گوشت بنانے کی تیاری کرنے لگی ۔ دھیان پھر سے مومن اور ایمان کی طرف چلا گیا ۔ دونوں کو آلو گوشت بہت پسند تھا ۔ اللہ میرے بچوں کو سلامت رکھے آمین۔ انہوں نے دل ہی دل میں دعادی اور سابقہ کام میں مصروف ہوگئی ۔ جبکہ چھٹی حس آنے والے وقت کے بارے میں پریشان کر رہی تھی ۔ ♾♾♾♾♾♾♾♾♾
    ۔
    جاری ہے ۔

    ReplyDelete
  5. ایمان امید اور وفا
    از قلم حلیمہ نور
    episode#2
    part 2

    ماؤں کے اختیار میں صرف دعا کرنا ہے ہوتا تو وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ۔ بے شک
    ♾♾♾♾♾♾♾♾♾♾
    "بھائی ایک بات پوچھو ؟؟؟ "ایمان نے چائے کے کپ میں چمچ ہلاتے ہوئے مزمل کو متوجہ کیا ۔
    "ہمممممم پوچھو ۔ "مزمل نے لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے کہا۔
    "بھائی مما ہر وقت مجھے ڈانٹتی رہتی ہیں کیا میں واقعی بری ہوں؟؟" امید مایوسی بھرے انداز میں بولی ۔
    "نہیں بھلا ماؤں کو اپنی اولاد بری لگتی ہے ۔ وہ صرف اس لیے تم پر سختی کرتی ہیں کہ تم بگڑ نہ جاؤں۔ میری اور بابا کی لاڈلی ہو نا ۔ لاڈ پیار میں بچے بگڑ جاتے ہیں ۔ "مزمل نے اسے سمجھایا۔
    "بھائی پہلی بات اب میں بچی نہیں دوسری بات آپ سے تو بڑے لاڈ کرتی ہیں ۔" امید نے منہ بسورتے ہوئے کہا ۔
    "ہاہاہاہا یعنی جیلسی ۔ دیکھو امید اپنی چیز سے تو کوئی جیلس نہیں ہوتا اور میں تو پھر تمہارا اپنا بھائی ہوں ۔ اوکے سو ڈونٹ بی جیلس ۔" مزمل نے ہنسی روکتے ہوئے کہا ۔
    جاری ہے ۔

    ReplyDelete
  6. Am also want to publish my novel please can you support me

    ReplyDelete
  7. I want to write novel plz help me

    ReplyDelete
  8. i want a novel haalim by nimra ahmad
    kitab nagri k novels bht achy hain lakin is py nimra ahmad sumaira ahmad k abdullah hashim k famous novels post ni hain kindley post kr dain
    thank u

    ReplyDelete
  9. I want to publish a novel the given number is off kindly tell how to contact u

    ReplyDelete
  10. Kia iss novel pe dramay bna sakty hain maine ye novel kisi ko recommand kia hai dramy kr liye

    ReplyDelete
  11. I want write poetry and novel plz

    ReplyDelete
  12. mam mny apko social media r emails hr jgha sey contact krny ki koshish kr rai but koi responced e ni ap ki trf sey😢 apni tahaareer bhi apky emails py kii lkn koi responced nii

    ReplyDelete
  13. Mein apna novel kitab Nagri mein publish krwana chahti hon mene apse contact ki koshshi ki lekin apka koi response nhi hai. Mail bhi kiya tha

    ReplyDelete
  14. HELLLOO!...i am one of your readers and have been reading your page novels from 2 months...but recently i cannot access the novels..it asks me to request access.. please guide me what to do

    ReplyDelete
  15. Mein apni tahrir is site per publish krwana chahti hon.. aapse contact kese kro??
    Apko mail bhi kiya tha bt koi response nhi

    ReplyDelete