Aab Complete Novel By Fatima Noor
Aab Complete Novel By Fatima Noor
" جو عورتیں رویا بھی
خوبصورتی سے کرتی ہوں انہیں قبرستان کے قریب بیٹھ کر رونے سے احتیاط کرنی چاہیے"
۔ آواز پیچھے سے آئ تھی ۔ اس کا ہچکیاں کھاتا وجود تھما ۔ سر تیزی
سے گھماتے اس نے پیچھے دیکھا ۔ وہ سرمئ شلوار قمیص پہنے بدر عبداللہ تھا ۔ ہاتھ پیچھے
بندھے تھے اور وہ اس سے کچھ فاصلے پر ٹھہرا تھا ۔ خولہ کے مڑنے پر لمحہ بھر کو وہ
وہیں تھما ۔ روتی ہوئ سرخ آنکھیں ۔ کپکپاتے ہونٹ اور رونے کی شدت سے سرخ ہوتے گال
۔ روتی ہوئ عورتیں خوبصورت لگ سکتی ہیں ؟
خولہ نے چہرہ موڑ لیا ۔
اپنے آنسو صاف کرتے وہ آنکھیں بند کر گئ پھر زکام زدہ سانس اندر کھینچی ۔ بدر پیچھے
سے چلتا دیوار کے قریب آیا ۔ وہ پاؤں لٹکائے بیٹھی تھی ۔ وہ لمحہ بھر کو رکا ۔
اپنے کپڑوں کو دیکھا پھر خولہ کو ۔ وہ نا اس کے لئے اٹھی تھی نا وہ اٹھنے والوں میں
سے تھی ۔ وہ سر جھٹکتے اس سے تھوڑے سے فاصلے پر بیٹھا ۔ پھر رخ موڑے اسے دیکھا
" پوچھو گی نہیں کہ کیوں
احتیاط کرنی چاہئے ؟"
" نہیں "
" میں بتا دیتا ہوں ۔ سنا
ہے جنات عاشق ہوجاتے ہیں"
خولہ نے روئ روئ آنکھیں
موڑ کر اسے دیکھا
" جو لڑکیاں شیاطین کے سینے
پر بندوقیں رکھ سکتی ہیں انہیں جنات سے ڈر نہیں لگتا"
بدر عبداللہ ہنس دیا ۔
کوئ پاس ہوتا تو وہ حیران ہوتا ۔ ھریرہ ہوتا تو صدمے سے جم جاتا ۔ بدر ہنس رہا تھا
؟ ٹھیک ہے ۔ لیکن وہ ایک لڑکی کی بات پر ہنس رہا تھا ؟
" مجھے آج تک کسی نے شیطان
نہیں کہا ۔ " وہ محظوظ ہوا تھا
" میں پہلی ہوں ۔ خوشی ہوئ "
اس نے سر جھٹکا پھر اس
لڑکی کو دیکھا ۔ یہ چوتھی ملاقات تھی وہ چوتھی ملاقات میں کسی کو خود سے سلام تک نہیں کرتا تھا اور وہ یہاں یوں
اس کے ساتھ بیٹھا تھا ؟ پل بھر کو وہ خود پر خود ہی حیران ہوا تھا
" کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ
تم رو کیوں رہی تھیں ؟"
" نہیں...."
" ٹھیک ہے۔ پھر تم بتا دو
کہ تم کیوں رو رہی تھیں "
" حکم دے رہے ہیں ؟"
" عادت ہے "
" میں حکم نہیں مانا کرتی "
" اور میں صرف حکم دیا کرتا
ہوں "
" نا میں محکوم نا آپ حاکم
۔ لہجہ تبدیل کریں "
" کیا اب تم حکم نہیں دے رہیں
؟ "
" جائیں یہاں سے بدر صاحب ۔
میرا دماغ مت خراب کریں " وہ زبان دراز تھی ۔ وہ جانتا تھا
" یہ زمین میری ہے جس پر سے
مجھے جانے کا تم کہہ رہی ہو "
خولہ نے بے اختیار سر
گھما کر اِدھر اُدھر دیکھا پھر ڈھٹائی سے شانے اچکائے
" پتا نہیں آپ کی بھی ہے یا
نہیں ۔ کسی کی قبضہ کر رکھی ہوگی "
" تمہیں لگتا ہے میں لوگوں
کی زمین پر قبضہ کرتا ہوں ؟" اس نے سوالیہ ابرو اچکائے
" ہماری ایک زمین آپ کے پاس
ہے بدر صاحب ۔ میرے باپ کی ایک زمین پر آپ کے باپ نے قبضہ کیا تھا "
" وہ ان کا معاملہ تھا ۔ میں
بلاوجہ زمینیں قبضے میں نہیں لیا کرتا "
" میں بچی نہیں ہوں اس لئے
میں یقین بھی نہیں کروں گی " اس نے رخ موڑ کر قبرستان کو دیکھا پھر واپس بدر
کو " آپ کے پاس کتنی زمین ہے ویسے ؟"
" میں نے شمار نہیں کیا کبھی
۔ کئ ہزار ایکڑ ہوگی "
" اور جب آپ مرجائیں گے تو
آپ کو دفنانے کے لئے کتنی زمین درکار ہوگی ؟"
سوال تھا یا کیا پل بھر
کو جیسے وہ ہل کر رہ گیا ۔ کسی نے اندر تک سناٹا بھرا ۔ نظر قبرستان پر گئ ۔ اس نے
کچھ کہنا چاہا پھر سر رکا ۔ پھر خولہ کو دیکھا
" تم مجھے وعظ نا ہی کرو تو
بہتر ہے "
" وعظ نہیں کررہی صرف بتارہی
ہوں کہ آدھے گاؤں کی جو زمینیں آپ کے پاس ہیں ان میں سے کسی میں آپ کو دفن نہیں کیا
جائے گا ۔ دفن یہاں کیا جائے گا " اس نے ہاتھ سے قبرستان کی طرف اشارہ کیا
" دو گز کی زمین درکار ہوگی ۔ دو سو مربع میل کی بھی نہیں ۔ تو جو بددعائیں
آپ اکٹھی کررہے ہیں وہ کرنا چھوڑدیں "
" قبرستان کی زمین بھی ہماری
ہی ہے ۔ دادا نے وقف کی تھی " اس نے اندر پھیلتے کسی احساس کو ختم کرنا چاہا
" قبرستان کسی کا نہیں ہوتا "
" قبروں میں پڑے لوگ کسی کے
ضرور ہوتے ہیں ۔ کس کے لیے یہاں بیٹھی ہو ؟" وہ اتنا نرم آخری بار شاید اپنی ماں کے لئے ہوا تھا ؟
" آپ کس لئے آئے ہیں ؟"
" میں ان سوالوں کے جواب نہیں
دیا کرتا جن کے جواب نا دینا چاہوں "
" مجھ سے بھی کسی جواب کی
امید مت رکھیں " وہ زیرلب مسکرایا
پھر رخ موڑا۔ خولہ کو احساس ہوا وہ یہاں تنہا تھی ۔ اس نے ہاتھ نیچے رکھتے اٹھنا
چاہا جب اس کی آواز سنائ دی
" میرے ماں باپ یہاں دفن ہیں
" وہ اٹھتے اٹھتے وہیں بیٹھی ۔ بدر سامنے دیکھ رہا تھا ۔ وہ کئ سالوں سے اس
انسان کو آتے جاتے دیکھا کرتی تھی ۔ وہ انسان کو سخت ناپسند کرتی تھی ۔ شیردل کے
ساتھ بیٹھ کر اس نے بدر عبداللہ کی شان میں وہ الفاظ بھی کہے تھے کہ اگر وہ سن لیتا
تو پیچھے کھڑے گارڈز سے گن لے کر ایک بار کو اسے گولی مارنے کا تو ضرور سوچتا ۔ لیکن
ان سالوں میں اس نے بدر کے چہرے پر یہ تاثرات نہیں دیکھے تھے
" اچھا
..."
وہ چپ ہوگئ ۔ بدر نے رخ
موڑ کر اسے دیکھا ۔ وہ چاہتا تھا وہ کچھ اور پوچھے ۔ وہ چاہتا تھا وہ کچھ اور
بتائے ۔ لیکن خولہ بلال آج زبان گھر رکھ آئ تھی
" تمہارا کون دفن ہے یہاں ؟"
" بھائ ۔ ماں ۔ باپ "
وہ لمحہ بھر کو چپ رہ گیا
" تمہارے گھر میں کوئ نہیں
ہے ؟"
" لاوارث نہیں ہوں میں ۔
چچا ہے چچی ہیں ۔ بھائ جیسا کزن ہے۔ بہن جیسی کزن ہے ۔ دادی ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر
خولہ بلال خود کے پاس ہے "
گویا وہ اسے بتانا چاہ رہی
تھی کہ وہ زرا محتاط رہے ۔ بدر نے سر ہلایا
" یہاں بیٹھ کر کس کے لیے
رو رہی تھیں ؟"
" بھائ کے لئے ۔ وہ مر گیا
تھا ۔ اسے مارا گیا تھا ۔ "
وہ بے تاثر انداز میں
کہتے سامنے دیکھ رہی تھی
" کس نے مارا تھا ؟"
" اس کے دوست نے "
" اور اس دوست کا کیا بنا
؟" اسے کام تھے ۔ ڈھیروں تھے ۔ لیکن وہ یہاں کچی زمین پر گاؤں کی کسی عام سی
لڑکی سے اس کے گھر کا حال پوچھ رہا تھا
" اسی سے مل کر آرہی ہوں
ابھی " اس نے تلخی سے سر جھٹکا
" جیل میں ؟"
" اس ملک کا انصاف آپ جیسوں
کے جوتے کی نوک پر بکتا ہے ۔ دو سال جیل میں رہ کر چھوٹ گیا وہ "
بدر کچھ کہنے لگا جب اس
کے موبائل کی گھنٹی بجی ۔ سارا موڈ غارت ہوا ۔ اس نے موبائل نکالتے کال کرنے والے
کو دیکھا اور کال کاٹنے کا سوچا ہی تھا جب اسے احساس ہوا خولہ اٹھ رہی تھی ۔ اس نے
سر اٹھا کر اسے دیکھا
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ

