Muqadar Complete Novel By Syeda Abrish
Muqadar Complete Novel By Syeda Abrish
تاںٔی امی اس کو کسی نے کیڈنیبپ
کرلیا ہے واٹ حسین صاحب اور کاںٔنات اب حنینا کے سامنے کھڑے تھے کس نے کیا ہے تمہیں
کیسے پتا یہ سب حنینا نے شروع سے ہوںٔی ساری بات حسین صاحب اور کاںٔنات کو بتاںٔیں
میرے پاس لوکیشن ہے تایا ابو حیدر اور تیمور نے اسے ڈھونڈ لیا چلو جلدی بہت اؤ حسین
صاحب بہت نکل گۓ تھے احرام حسین ان میں تمہیں اور تمہارے باپ کو ان کی
اوقات دکھاؤ گا آج ہمارا نکاح ہے تم نے کیسے سوچ کیا میں تم جیسے انسان سے نکاح
کرو گی احرام استہزہ ہنسی جیسے کہ رہی ہو مزاک اچھا تھا نہیں کرونگی نکاح اب کی
بار اس نے تھپڑ کے بجاۓ جیب سے پسٹل نکالی پسٹل دیکھ کر ہی احرام کے ہوش اڑ گۓ تھے ہاں بولو نہیں کرونگی
نکاح ڈر کے بعد بھی وہ اپنے لہجے کو مضبوط بنا کر بولی تم کیا سمجھ رہے ہو میں اس
سے ڈر جاؤ گی عادل مرنا پسند کروگی لیکن تم سے شادی نہیں تو پھر تمہیں ان مار ہی دیتا
ہو وہ اس کے قریب آنے لگا ڈر سے احرام کا سانس نہیں ارہا تھا وہ اور قریب آتا کہ
باہر سے پھر وہی لڑکا آیا بھائی نکاح خواں آگیا ہے بلواؤ اس کو یہاں اور ہاں تم تینوں
گواہ بنوں گے میرے ٹھیک ہے نہ جو حکم بھاںٔی وہ سر ہلاتا باہر گیا اور مولوی کو لے
کر اندر آیا بیٹھو مولوی صاحب نکاح خواں نے احرام کی طرف دیکھا جس کے منہ پر ٹیپ
واپس لگا دیا گیا تھا رسی سے بندھی ہوںٔی تھی نکاح خواں نے پھر عادل کی طرف دیکھا
اس کے ہاتھ میں پسٹل تھا کیا یہ آپ زبردستی نکاح کر رہے ہے اوہووو مولوی صاحب
زبردستی نہیں نہیں یہ خود انٔی ہے میرے ساتھ اپنے باپ کی عزت کو روند کر احرام کے
اذیت سے آنسو بہ رہے تھے اس کے ہاتھ رسی کی وجہ سے لال سرخ ہو گۓ تھے آۓ مولوی صاحب نکاح کرواۓ آپ لیکن میں یہ نکاح نہیں
کرواؤں گا چچچچ چچچ مولوی صاحب کیوں آپنی موت کو دعوت دے رہے ہو اس نے پسٹل کی ںال
مولوی کے سر کے بلکل بیچ میں رکھی ہاں نکاح پڑواؤ گے یہ نہیں مولوی کا حلق خشک ہو
چکا تھا اس نے اثبات میں سر ہلایا یہ ہوںٔی نہ بات عادل مولوی کا گال تھپتھپاتا
احرام کے برابر میں کرسی لگا کر بیٹھا اس کے تینوں آدمی اس کے پیچھے کھڑے تھے
احرام اسی پوزیشن میں بندھی ہوںٔی تھی مولوی کہ لۓ بھی ایک کرسی لگا دی گںٔی
ہاں تو شروع کروں مولوی صاحب حیدر گاڑی جلدی چلا کتنا دور رہ گیا بس پہنچ گۓ تیمور یہی کی لوکیشن تھی
یہی گھر ہے وہ تیمور اور حیدر اس گھر میں داخل ہوے ایک گلی سی تھی پھر آگے
دراںٔننگ روم تھا اور آمنے سامنے ہی 3 کمرے بنے تھے احرام حسین کیا تمہیں عادل
جہانگیر سے پانچ ہزار حق مہر پر یہ نکاح قبول ہے اور اس آواز نے تیمور کے اندر سے
روح کیچھ لی تھی وہ لڑکھڑایا جسے حیدر نے تھام لیا تھا پھر ایک اور آواز اںٔی نیچ
انسان ہٹو دور میں تم سے نکاح کر گز نہیں کرونگی اور اس آواز نے اس میں جیسے جان
ڈال دی تھی حیدر وہ اس روم میں ہے حیدر نے دھاڑ سو دروازے کھولا تو
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ


