Kirdar Complete Novel By Nabeela Aziz

Kirdar Complete Novel By Nabeela Aziz

Kirdar Complete Novel By Nabeela Aziz

Novel Name : Kirdar
Writer Name: Nabeela Aziz
Category : LATEST COMPLETE NOVEL,Adopted Child Based,
Novel status : Complete


"داد۔۔۔!" اس نے مدھم سی آواز میں پکارا۔

"داد!" دوبارہ آواز دی گئی لیکن وہ شاید دوائیوں کے زیر اثر گہری نیند سویا ہوا تھا۔ مہرو بیڈ کے قریب ہی دو زانو قالین پہ بیٹھ گئی۔ اس کے عین سامنے داد بخش کا چہرہ تھا۔ اس کے سیاہ بال اس کی کشادہ پیشانی پہ گرے ہوئے تھے، ہر وقت ان کی عزت اور احترام میں جھکی رہنے والی آنکھیں نیند سے ہمکنار تھیں، سیاہ گھنی مونچھوں تلے دبے کشادہ اور ہونٹ نرمی سے بھینچے ہوئے تھے اور تین دن کی بڑھی ہوئی شیو بھی مہرواہ کی عمیق نگاہ سے چھپی نہیں رہ سکی تھی۔

"داد بخش! بھلا یہ کس ماں کے لعل ہو تم؟ تمہاری جوانی تو اس نے دیکھی ہی نہیں، دیکھ لیتی تو فخر کرتی تمہیں پیدا کرنے پہ اتر آتی۔۔۔۔!"

آہستگی سے اپنا ہاتھ شال سے نکالا اور۔ اس کی پیشانی سے بال ہٹا کر اس کی پیشانی پہ رکھ دیا تھا۔ اس کی پیشانی بری طرح تپ رہی تھی لیکن داد بخش ٹھنڈے ہاتھ کے سرد لمس پہ کرنٹ کھا کے بیدار ہوا تھا وہ تڑپ کر اٹھ بیٹھا تھا۔

"مہرو بی بی؟" اس نے ملگجے سے اندھیرے میں بھی اسے پہچان لیا تھا۔

"کیسی طبیعت ہے تمہاری؟ میں تمہاری طبیعت پوچھنے آئی تھی۔" مہرو نے خود ہی ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل پہ رکھا چھوٹا سا لیمپ جلا دیا تھا۔

"میری طبیعت؟ مگر اس وقت؟" اس نے وال کلاک کی سمت دیکھا رات کا ایک بجا تھا۔

"جب فرصت ملے گی تب ہی پوچھوں گی نا؟" اس نے بے نیازی ظاہر کی۔

"لیکن مہرو بی بی! اس وقت آپ کا میرے بیڈ روم میں آنا مناسب نہیں پلیز آپ خود سمجھنے کی کوشش کریں۔" داد بخش کی بخار سے سرخ آنکھوں میں لال ڈورے تیر رہے تھے اور ہلکی نیند ہلکورے لے رہی تھی

۔داد بخش بمشکل اپنے اعصاب ٹھکانے لا پایا تھا۔

"ہر وقت مناسب اور غیر مناسب کے چکروں میں مت رہا کرو، کبھی کسی کے احساسات اور جذبات بھی سمجھ لیا کرو۔" مہرو کو اس کی پریشانی اور فکر پہ غصہ آیا تھا۔

داد بخش نے کمبل ہٹا کر پاؤں بیڈ سے نیچے اتارے تھے۔

"اب تم اٹھ کیوں رہے ہو؟"

"میرے سر پہ بدنامی کھڑی ہے اور میں سویا رہوں؟"

"واٹ؟ اب میں تمہارے لیے بدنامی ہو گئی ہوں؟" وہ تلملا کر بولی۔

"جہاں کوئی مضبوط رشتہ نہ ہو وہاں بدنامی ہی ہوتی ہے، میرے اور آپ کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے۔" اس نے سلیپر پہنے اور کھڑا ہو گیا تھا۔

"کہاں جا رہے ہو؟" مہرو چبا کر بولی اسے غصہ آ رہا تھا۔

"کمرے سے باہر۔"

"تم کہیں نہیں جاؤ گے، باہر بہت ٹھنڈ ہے۔"

"میں آپ کو بھی تو اپنے کمرے سے نہیں نکال سکتا۔" داد بخش نے کرسی پہ رکھی اپنی گرم چادر اٹھائی بخار سے تپتے ہوئے وجود پہ ماحول کی خنکی تیزاب کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔

"تم خود بھی کہیں نہیں جا سکتے، بیٹھو یہاں۔" مہرو نے داد بخش کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے اسے پیچھے بیڈ کی طرف دھکیلا تھا۔

"بیٹھو۔۔۔۔" مہرو نے اسے بٹھا کر چھوڑا۔

"کمبل اوڑھو اور پاؤں اندر کرو۔" اس نے داد بخش کے پاؤں سے سلیپر بھی نکال دیے تھے لیکن وہ اپنی جگہ پہ دم بخود سا رہ گیا تھا۔

ایک عرش پہ اسے سردار بیگم نے بٹھایا تھا اور ایک عرش پہ مہرو بی بی اسے بٹھا رہی تھی۔ داد بخش کی نظریں مہرو پہ گڑی تھیں۔ وہ جو اسے آنکھ اٹھا کر کبھی نہیں دیکھتا تھا آج آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہا تھا اس نے نظر اٹھا کر داد بخش کو دیکھا لیکن اسے اپنی طرف ہی دیکھتے پا کر اس کی پلکیں بے ساختہ جھک گئی تھیں وہ سر تاپا اس کے سامنے تھی اس کی محبت اور ایک سر عنایت کی منتظر۔ اس کے روم روم سے داد بخش کی محبت کی مہک اٹھ رہی تھی۔ وہ سراپا صندل بنی ہوئی تھی۔ داد بخش چاہتا تو اپنے گھٹنوں پہ رکھے اس کے ہاتھوں پہ اپنے ہاتھ رکھ کر اس کی منتظر محبت کو قبولیت کی سند دے سکتا تھا۔ لیکن اگر وہ یہ چاہتا تو اور بہت کچھ کھو دیتا اور اس بہت کچھ میں سرفہرست سردار بیگم کا اعتبار اور اپنے کردار کا فخر تھا اور وہ دونوں چیزیں ہی نہیں کھو سکتا تھا بس اسے اس وقت اس لمحے کو کھونا تھا سو اس نے کھو دیا۔

وہ مہرماہ   کا ہاتھ بے مروتی سے جھٹک کر کھڑا ہو گیا اور دوسرے ہی لمحے کمرے سے باہر نکل گیا تھا اور مہرواہ اپنی جگہ پہ پتھرائی ہوئی بیٹھی رہ گئی تھی۔

 

✳️ ✳️ ✳️

 

وہ لان کے پیچوں بیچ کھڑا انتہائی گرم گرم سانسیں لے رہا تھا ماحول میں شامل دبیز دھند کے باعث زمین سے عجیب سی مہک اٹھ رہی تھی اور اس مہک میں کچی مٹی کی آمیزش محسوس ہو رہی تھی۔ لان کی گھاس بھیگی بھیگی لگ رہی تھی اور اس دھند کے باعث رات کی سیاہی سرخ دھندلی روشنی میں بدل رہی تھی اسے لان میں ٹہلتے ہوئے اور ایک فیصلے پہ پہنچتے ہوئے کافی دیر لگ گئی تھی۔

فجر کی اذان میں آدھا گھنٹہ رہ گیا تھا۔ اس نے نماز پڑھنے کے لیے بھی جانا تھا اس لیے بہتر تھا کہ یہ کام ابھی ختم کر لیتا۔۔۔۔ اس نے سردار بیگم کے کمرے کے باہر ٹھہرتے ہوئے ایک پل کے لیے سوچا اور پھر دستک دے ڈالی تھی۔ سردار بیگم تہجد کے وقت اٹھتی تھیں اور صبح سورج کی پھٹنے تک جاگتی رہتی تھیں اس دوران وہ قرآن پاک، نماز اور وظیفہ پڑھتی رہتی تھیں اور اگر اس عبادت سے فارغ ہو جاتیں تو تسبیح لے کر اپنے بستر میں بیٹھ جاتی تھیں۔۔۔۔

وہ شاید کچھ پڑھ رہی تھیں، اس لیے داد بخش کی دوسری دستک پہ بھی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ اور بالآخر تیسری دستک دینے کے بعد وہ دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہو گیا تھا۔ سردار بیگم سامنے ہی جائے نماز پہ بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔

انہوں نے آنکھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کا کہا تھا ان کی اجازت پہ کافی بوجھل قدموں سے آگے بڑھ کر کرسی پہ بیٹھ گیا تھا۔

اللہ کے حضور دعا مانگ کر داد بخش کی طرف متوجہ ہوئی تھیں۔

"تم ٹھیک تو ہو؟" انہوں نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا۔

"جی ٹھیک ہوں۔۔۔۔"

"کہاں سے آ رہے ہو؟"

"باہر لان سے۔"

"کیوں خیریت؟ تمہاری تو طبیعت خراب تھی پھر اتنے سرد موسم میں باہر کیوں چلے گئے؟"

داد بخش چند لمحے یونہی خاموش بیٹھا رہا پھر کرسی اٹھا کر جائے نماز کے قریب آ کے بیٹھ گیا اور ہاتھ بڑھا کر سردار بیگم کا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ حیرانی سے اس کی حرکات نوٹ کر رہی تھیں۔

"آپ کے سامنے کوئی بات کروں تو کیا اس کے لیے قسم کھا کر یقین دلانا ضروری ہے؟" وہ کافی سنجیدگی سے ٹھہر ٹھہر کر بات کر رہا تھا۔ سردار بیگم کے تجسس میں اضافے کے ساتھ ساتھ پیشانی کی شکنوں میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔

"یہ کیسی باتیں کر رہے ہو تم؟" انہیں حیرت ہوئی تھی۔

"جو میں پوچھ رہا ہوں آپ وہ بتائیں۔" داد بخش کا لہجہ اور انداز دو ٹوک ہو رہے تھے۔

"تم خود جانتے ہو کہ تمہاری بات میرے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے اور مجھے کتنا یقین ہے تم پہ؟"

"لیکن یہ بات ہی کچھ ایسی ہے کہ آپ کا اعتماد ڈول سکتا ہے۔"

"بات جو بھی ہو داد بخش! تم پہ میرا یقین اتنا کمزور بھی نہیں کہ ڈانواں ڈول ہو جائے۔"

سردار بیگم کا لب و لہجہ مضبوط تھا جس پہ داد بخش نے اطمینان سے گہری سانس خارج کی تھی۔

"میں بہت دنوں سے بلکہ بہت عرصے سے یہ بات آپ کے علم میں لانا چاہ رہا تھا لیکن خود میں اتنی ہمت اور حوصلہ نہیں پا رہا تھا کہ آپ کے سامنے یہ سب کہہ پاتا، میں سوچتا تھا کہ سب خود بخود ہی ٹھیک ہو جائے گا، وقت کے ساتھ ساتھ اسے عقل آ جائے گی وہ سمجھ جائے گی لیکن وہ بہت نادان ہے۔ آپ نے مجھ پہ اعتماد کیا، مجھ پہ بھروسہ کیا، اپنی عزت میں، اپنی امانتیں مجھ پہ اعتبار رکھتے ہوئے مجھے سونپ دیں، میں سب کچھ ہو سکتا ہوں مگر بے غیرت اور بے ضمیر نہیں ہو سکتا کہ آپ کی عزت یا امانت میں کوئی خیانت کروں، میں آپ کی عزتوں کا امین ہوں اور ہمیشہ ہی رہنا چاہتا ہوں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ میں اس حویلی سے دور ہو جاؤں، میں یہاں سے جانا چاہتا ہوں۔ اس وقت سے پہلے جب اس حویلی کے مکین خود مجھے دھکے دے کر نکالیں گے۔"

داد بخش کہتے کہتے جیسے تھک گیا تھا اور سردار بیگم ساکت و صامت سی بیٹھی اسے دیکھ رہی تھیں۔ وہ حیرت سے گنگ ہوئی لگ رہی تھیں "کس کی بات کر رہے ہو تم؟" کچھ دیر بعد وہ سرگوشی میں بولیں۔

"مہرو بی بی کی!" ان کے اندیشوں کی تصدیق ہو گئی تھی سردار بیگم جوں کی توں بیٹھی رہ گئی تھیں۔

"پہلے کبھی کیوں نہیں بتایا؟" ان کی آواز کسی کنوئیں سے آتی محسوس ہو رہی تھی۔

"پہلے بات کبھی اس نوبت تک نہیں پہنچی تھی۔"

"نوبت؟" انہوں نے استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔

"آج رات وہ میرے کمرے میں آئی تھیں میری عیادت کے لیے، مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کب آئیں؟ میں دوائیوں کی وجہ سے نیند میں تھا، پتہ تو تب چلا جب مہرو بی بی نے میری پیشانی پہ ہاتھ رکھا۔"

داد بخش نے آج سارے راز عیاں کر دیے تھے اور اپنے ضمیر پہ رکھا بوجھ بھی اتار پھینکا تھا۔ اب سردار بیگم چاہے جو بھی فیصلہ سناتیں مگر وہ ہلکا پھلکا اور آزاد ہو چکا تھا اب اس کے ضمیر پہ کوئی بوجھ نہیں تھا کہ وہ سردار بیگم سے کچھ چھپا رہا ہے۔

"آپ پلیز مجھے یہاں سے دور بھیج دیں۔" اس نے پھر کہا تھا انہیں اکسایا تھا۔

"تمہیں کیوں بھیجوں؟ اسے ہی نہ بھیج دوں؟" انہوں نے خود کلامی کے سے انداز میں کہا تھا اور داد بخش ٹھٹک گیا تھا۔۔

"کیسے؟"

"جیسے ہر بٹی ماں باپ کا گھر چھوڑ کے جاتی ہے۔" سردار بیگم کا لہجہ مضبوط اور فیصلہ کن تھا۔ داد بخش حیرت سے دیکھتا رہ گیا تھا۔



Kitab Nagri start a journey for all social media writers to publish their writes.Welcome To All Writers,Test your writing abilities.
Kirdar Complete Novel By Nabeela Aziz is available here to download in pdf form and online reading.
Click on the link given below to Free download Pdf
Free Download Link
Click on download
give your feedback


Follow Our Whatsapp Channel FoR Latest Novel Update         👇👇👇👇
  

Follow Us On Instagram                    👇👇👇👇 


Follow Us On Instagram Tiktok


ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
 اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں  👇👇👇
 


Direct Link






FoR Online Read


ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول

 کیسا لگا ۔ شکریہ


Post a Comment

Previous Post Next Post