Shab E Arzoo Ka Aalim Complete Novel By Sundas Jabeen
Shab E Arzoo Ka Aalim Complete Novel By Sundas Jabeen
فارم ہاؤس کی حدود میں
داخل ہوتے ہوئے اس نے لگا میں کس کر رفتار آہستہ کر دی تھی۔ باڑ کے قریب جاکر
گھوڑا روکا۔ چھلانگ لگا کر نیچے اتری ۔ لگا میں سائیس کو تھمائیں اور خود لانگ شوز
پہنے ٹھک ٹھک کرتی اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گئی۔
سِٹنگ روم میں ہی اس کا ٹکر اؤ زین
سے ہو گیا۔
" کہاں تھیں تم ؟" اس
کے ماتھے پہ شکن تھی اور لہجے میں سرد مہری۔اس
نے ترچھی نظروں سے اسے دیکھا اور آگے بڑھنے لگی تھی، جب اس کا ہاتھ زین کی گرفت میں
آگیا۔ وہ جھٹکے سے اس کی طرف مڑی۔"جسٹ اسٹاپ اٹ۔ آئی ایم
ناٹ یور پیٹ میرزین خان !" وہ دہاڑا ٹھی تھی۔"ان فیکٹ یو آر۔
" وہ طنزیہ مسکرایا۔ ہمیشہ
کی طرح اس کی مسکراہٹ اور لب و لہجے نے اسے مزید مشتعل کر دیا تھا۔ کوئی بھی جواب
دینے کی بجائے وہ جھٹکے سے ہاتھ چھڑاتی آگے بڑھ گئی۔"کل کے
فنکشن کی تیاری کیسی ہے ؟" دروازے تک پہنچی تھی، جب پیچھے سے اس کی آواز آئی۔"میں آپ کو
صبح مطلع کر چکی ہوں، سواب اس پہ بات کرنا
فضول ہے۔ " وہ سرد مہری سے کہتی دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی۔زین دانت بھینچے
وہیں کھڑا رہ گیا تھا، مگر یہ صرف لمحاتی کیفیت تھی۔ اگلے ہی پل وہ دندناتا ہوا
اندر کی طرف بڑھا تھا۔ دھاڑسے دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا تو وہ اسے وارڈ روب
سے کپڑے نکالتی نظر آئی۔
وہ جھپٹنے والے انداز میں اس کی طرف بڑھا۔"ابرش بی بی ! اگر میں چاہوں تو تمہیں
دو منٹ میں درست کردوں۔ تمہارے سارے پرزوں کی ایسی اصلی ترتیب دوں گا کہ بولنا
بھول جاؤ گی اس لیے۔۔۔" وہ اس کے
شانے پہ اپنے بھاری ہاتھ کا دباؤ ڈالتے ہوئے غرّا رہا تھا۔ ابرش نے چلا کر اس کی
بات کاٹ دی۔"شٹ اپ، اپنا یہ بازاری
لہجہ میرے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، اور نہ ہی مجھ پر اپنا افسرانہ
رعب جھاڑنے کی کوشش کیجئے گا۔ " اس نے وارننگ دی۔
اس سے پہلے کہ وہ بھی اسے
کوئی سخت سا جواب دے پاتا، ابرش کا سیل
فون بج اٹھا۔ اس نے جیکٹ کی اندرونی جیب سے سیل نکالا تو زین کا غصہ مزید بڑھ گیا۔
وہ کچھ دیر پہلے اسے کتنی ہی دیر کال کرتا
رہا تھا۔ مگر بیل جاتی اور نو آنسر نگ آجاتا۔ اب اس سے پہلے کہ وہ فون آن کر کے
کان سے لگاتی، زین نے اس سے فون چھینا اور
ایک جھٹکے سے دیوار پر دے مارا۔ وہ ہکا بکاسی رہ گئی، یقیناً
اسے زین سے یہ امید قطعاً نہیں تھی۔
اس نے پتھرائی ہوئی نگاہ
فون کے پر زوں پہ ڈالی۔ یہ فون چار دن
پہلے ہی تو اسے بابا نے گفٹ کیا تھا۔ اسی "منحوس حادثے " کی خوشی میں جس
کے بعد اس کی زندگی میں یہ شخص آگیا تھا۔"جب اس فون پہ میری کال ریسیو نہیں
ہو سکتی تو اسے یقیناً تمہارے پاس نہیں
ہونا چاہیے۔" وہ اطمینان سے بولا تھا۔وہ اس قدر حیران و پریشان تھی کہ کچھ
کہنے یا کوئی رد عمل دینے کے بجائے بے جان انداز میں زمین پر بیٹھ گئی اور دونوں
ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر رونے لگی............
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ


