Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Bazari Aurat by Nagina Basharat

Bazari Aurat by Nagina Basharat

Bazari Aurat by Nagina Basharat


Urdu poetry is an ancient tradition. It has many different types. It is considered as an important element of our culture. It is a best way to express feelings of love, pain,anxiety and suffocation.
A poet interprets his inner feelings and condition through his words.

بازاری عورت

بِازار حُسن ۔۔کوٹھے۔۔کماش گاہ۔۔
ایسے بہت سے ناموں سے وابستہ بہت سے آستانے ہم معتبر معاشروں ہی میں کہیں۔۔ کبھی سرِعام اور کبھی ڈھکے چھپے پنپ رھے ھیں ۔ِ
ہمارے معاشرے کے با عزت لوگ
بازار سجانا تو خوب جانتے ہیں۔۔
عورت کو بازار میں  کھڑا کرنا۔۔
جسم سے کپڑا نوچنا ۔۔
اسکو رقص کی تھال پہ نچانا
اور اپنے ہوس کے قیدی, بھوکے جانور کی بھوک کو مٹانا  خوب سمجھتے ہیں۔
ہم باعزت لوگ
جب بات صرف اپنی نفسانی لذت کی ہو۔۔
یا
اپنے وجود کی کوی سرپھری شیطانی خواہش کی۔۔
تو
تب یہ معتبر لوگ۔۔
اس بازاری عورت کے ساتھ
اپنے تن, من اور دھن کی تمام حدود کو  فخریہ َسر کر جانے میں کوی عار نہیں سمجھتے ۔
اپنے شب و روز  اور دولت بے دریغ اُس پہ وار  دینے میں ۔۔اپنی شان  اور تفخر کو اور اونچا ہوتا محسوس کرتے ہیں۔
یہ معتبر لوگ
ایسے میں
ایسی جگہوں کو اپنی حیات کا بیش قیمت سرمایا  اور جنت گردانتے ہوے,ہر شے اور حد سے ماوارا چلنے میں ہی بڑای سمجھتے ہیں۔

مگر
اگر بات ہو
حیا کی چادر اُڑاھنے کی ۔۔
عزت اور مان دے کر, تن ڈھانپنے کی  ۔۔
کسی کے بےمول,  دھول ہوتے وجود  کو سمیٹنے کی ۔۔
 کسی کی حرمت اور عصمت کے پاس رکھنے کی ۔۔
کسی گھایل ستم رسیدہ روح پر دست ِشفقت رکھنے کی ۔۔
گھنگرووں کی دھمال و رقص میں چھپے کربناک اہ وبقا  تک سماعت رسای کی ۔۔
🔗کسی پُر نور  روشن ذاویہ کی
کسی مردہ ہوتے جیون کو حیات کی نوید دینے کی۔۔
تو
یقایق
یہ باعزت ۔۔ معتبر۔۔ باکردار لوگ
اس بات کے تصور سے ہی
تُف محسوس کرنے لگتے ہیں۔
گھِن کھانے , اُبکایاں لینے لگتے ہیں۔
گناہ کے مرتکب ہو جانے کے خوف سے ڈولنے لگتے ہیں۔
کسی حرام جانور سے بھی بدتر انھیں گردانتے ہوے۔۔آنکھیں قہر ذدہ ہونے لگتی ہیں۔
انکے شملے اور اونچی پگڑیوں کے بھرم ڈگمگانے لگتے ہیں۔۔۔
 ایسے سننے اور سوچنے سے ہی ,اِن باکردار لوگوں کی شان گھٹنے لگتی ہے۔۔۔
 انکو اپنے کردار پر چابک سے برستے  وار سے لگتے ہیں۔
 انکی کھوکھلی انا پر گویا  کسی نے تیزاب گرا دیا گیا ہو۔
اِنکو اپنے نسب کا شیرازہ بکھرتا مجروح ہوتا محسوس ہوتا ہے۔
انكے گلوں میں غیرت نام كی مالا توك بن كے پھنس جاتی ھے۔
 وه پری پیكر,یكایك مردار حرام جانور بن جاتا ھے۔۔۔
بازاد میں بیٹھی عورت تو بازارعی ہو گہی
مگر
ان شرفا  كو تہذیب آخر كِس نام سے پكارے؟؟؟
************

ازقلم نگینہ بشارت

Post a comment

0 Comments