Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Fatah shuda dulhan by Danish Ali Rao

Fatah shuda dulhan by Danish Ali Rao

Fatah shuda dulhan by Danish Ali Rao

فتح شُدہ دُلہن
از دانش علی راؤ


موسمِ گرما فجر سے پہلے مسجد میں اعلان ہوا۔
 فجر کے فوراً بعد بارات روانہ ہو جائے گی لہٰذا تمام باراتی اپنی اپنی تیاری مکمل کر لیں۔۔۔
اس اعلان کے بعد لوگوں نے تیاری شروع کر دی چند کاریں جو چوک میں کھڑی تھیں اور ایک بڑی بس جو کہ چوک سے چند قدم فاصلے پر کھڑی ہوئی تھی
فجر کی نماز کے بعد گاڑیوں والے اپنی اپنی گاڑی میں سوار ہونے لگے
یہ ایک حسین اور ٹھنڈی صبح تھی پرندے چہچہا رہے تھے ہلکی ہلکی ہوا ایک سکون دے رہی تھی۔کچھ لوگ بس کی جانب ہڑبڑی سے گامزن تھے  اور چند لوگ جھُنڈ بنا کر مُطمئن انداز میں کھڑے ہوئے بس میں جانے والوں کی طرف گھُور رہے تھے جیسے کسی عالیشان سواری کے مُسافر ہیں یہ اور باقی تمام عام لوگ دھکّے کھانے نکل پڑے ھیں۔
چند لمحے بعد بس بھی بھر گئی بس بھرنے کے بعد ایک آدمی نے بس کے دروازے میں کھڑے ہو کے آواز لگائی
"ہاں بھئی سارے بندے آگئے؟
کوئی رہ تو نہیں گیا؟"
نہیں جی سب پورے ہیں ایک شخص نے جواب دیا
چلو جی اللّٰہ کا نام لے کے پھر بس چلاؤ وہ آدمی ڈرائیور کو یہ کہہ کر خُود اُتر گیا۔۔
بس خراماں خراماں گاؤں سے نکلنا شروع ہوئی
جس میں تقریباً ساٹھ کے قریب بندے سوار تھے جس میں اکثریت گاؤں کے عام لوگوں (جو میل ملاقات والے گھروں سے ایک ایک بندہ مدعُو تھا) کی تھی اور باقی عام لوگ یا دُور دُور کے مہمان اِنہی دُور دُور کے مہمانوں میں میرا شُمار بھی ہوتا تھا۔۔۔
یہ میری پہلی بارات تھی ایسی دُور دُور کی شادی بھُگتانے ہمیشہ میرا بڑا بھائی جایا کرتا تھا پر اس بار کسی مصروفیت کی وجہ سے وہ نہیں آ پایا تو ابّا جی نے یہ ذمّہ داری مجھے سونپ دی۔
باقی بارات کے انتظار میں بس گاؤں سے نکل کر ایک پُلی پر رُک گئی.
 چند لمحوں بعد باقی تمام کاریں آئی جو معزز مہمانوں اور خاص دوستوں پر مشتمل تھیں تب بس بھی روانہ ہوئی۔
ابتدائی دو گھنٹے کے سفر میں تمام لوگ اُونگھ رہے تھے پر جیسے جیسے وقت گزرا شور شرابا شروع ہوا ہنسی ٹھٹھے چل نکلے ایک دوسرے پر جُگتوں کی بارش ہونے لگی
بوڑھوں کے ساتھ ٹِچکریں ہویں
میں بھی اس سب سے لطف اندوز ہو رہا تھا پھِر کُچھ موسیقی کے دیوانوں کی فرمائش بس ڈرائیور تک پہنچی تو موسیقی بھی رواں ہوئی موسیقی کی آواز کا عالم یہ تھا کہ سر کے آر پار ہو جائے۔
اور چند شریر ایسے بھی تھے جنہوں نے بیچ سفر میں قضائے حاجت  کی غرض سے بس رُکوائی۔پر اب کُچھ زیادہ ہی ہو رہا تھا
مجھے لگا شاید بارات میں ایسا ہی ہوتا ہوگا
کُچھ لوگوں نے تو لڑکوں کو دھمکایا بھی پر مجال ہے کان پر جوں تک رینگی ہو۔
چھ گھنٹے کے طویل سفر کے بعد بس نے بڑی سڑک کو چھوڑ کر پتلی سی ٹوٹی پھوٹی سڑک کو لیا جِس کے دونوں جانب سُنہرے کھیت جن میں من موہ لینے والی ادا سے لہلہاتی ہوئی گندم جسکی سونے کی ڈالیاں دل کو لُبھا رہی تھیں یوں کُچھ دیر بعد ایک چھوٹی سی بستی کے دہانے پر پہنچے اور رُک گئے جب تمام بارات یکجا ہوئی تو وہاں سے چلے اور شادی والے گھر سے چند فاصلے پر اُتر گئے ۔۔
یہاں اُتر کر نظارہ ایک دم الگ تھا وہاں کُچھ فاصلے پر سامنے میزبان کھڑے ہمارا بے صبری سے انتظار کر رھے تھے اور یہاں تمام بارات والے کُچھ اس ادا سے بھڑکوں اور پیسوں کی بارش کرنے لگے  جیسے دلہن بیاہنے نہیں فتح کرنے آئیں ہوں۔
اور تین احمق تو بیچ میں گھُس کر خوب بد احتیاطی سے پٹاخوں کا بے دریغ استعمال
 کرنے لگے اُنکی بلا سے چاہے جو بھی ہو وہ تو عقل سے عاری ہیں۔
تمام خاص دوست دولت اور اسلحہ کا ننگا ناچ  دکھا کر سکندر اعظم کے سپاہی بننے کی خود ساختہ کوشش میں تھے۔اور اِن سب سے دُور کھڑا میں اُن میزبانوں کو دیکھ رہا تھا جو دانت پیستے ہوئے اِنکے آگے بڑھنے کا انتظار کر رہے تھے یہ ایک جنگ سے پہلے کا منظر لگ رہا تھا جہاں دُشمن کو اپنی طاقت کی نمائش کی جا رہی ہو۔
خُدا خُدا کر کے یہ فوج آگے بڑھی مِلنی کی اور ایک ٹینٹ میں جا کر بیٹھ گئے
جہاں ٹھنڈے گُلابی دودھ سے ہماری تواضع ہوئی۔
یہاں بھی بارات والے آنکھوں ہی آنکھوں میں اُنھیں اپنی برتری کا احساس دلانے میں مگن تھے کُچھ دیر بعد نکاح ہوا اور کھانا کھُل گیا  بہت سارے سائنسدان حضرات تو کھانے کا معائنہ کرنے میں لگ گئے
کُچھ نواب سرگوشیاں کرتے رہے اِسی تگودو
سب نے خوب کھانا کھایا اور کھانے کے بعد اصل طوفان بدتمیزی شروع ہوا کُچھ لڑکے بستی کی سیر کو نکل پڑے اپنے آپ میں اِنکو ایک اخلاقی برتری حاصل تھی  چند ایسے بھی چھِچھورے واقع ہوئے جنہوں نے اپنا فون نکال کر تصویر بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جِنکا اصل شِکار خُوب رُو حسینائیں بنی اِس بےحیائی کے بازار کو نا ہی کوئی دیکھ پایا یا شاید اندیکھا کر دیا میزبان چُپ چاپ یہ سب سہ رہے تھے پتہ نہیں کیوں پر مُجھے آج اُس کہاوت کا مطلب سمجھ آ رہا تھا جو میں اکثر اپنے بزوگوں سے سُنا کرتا تھا " لڑکی دینے والا ہمیشہ ہینا ہوتا ہے"
اس بارات میں بچے سے لے کر بوڑھے تک ہر بندہ اپنی برتری ثابت کرنے میں لگا تھا۔۔

کھانا کھانے کے کُچھ دیر بعد ایک بیٹھک سجی جو دِکھنے میں فہم و فراست سے لیس لوگوں پر مشتمل تھی۔ ایک لمحے کو مجھ پر یہ گُمان گزرا کے یہاں عقل و دانِست کی باتیں ہونگی پر وہ گُمان گُمان ہی رہ گیا
تو یہاں بھی ہُوا کُچھ یوں کے جب سب کے سب خُوش گپیاں کر رہے تھے تب ایک عُمر رسیدہ شخص(جِسکی ٹانگیں تقریباً گھُٹنوں تک قبر میں پہنچ چُکی تھیں) نے ایک ڈونگے سالن کا تقاضا کیا جو اُسکو لا دیا گیا جب ڈونگا سامنے آیا تو اس نے اپنی قمیض اُتار دی
کیا کر رہے ہو جناب لگتا ہے گرمی لگ رہی ہے آپکو ایک میزبان سوال پوچھتے ہوئے
تو موصوف نے کیا خوب فرمایا "یار اِس میں شوربہ اِتنا ہے کے ویسے بوٹی ڈھُونڈنا ممکن نہیں سوچ رہا ہوں ایک غوطہ لگا کے دیکھ لوں شاید کامیاب ہو جاؤں"
اس بات سے قہقہے بُلند ہُوے
پر کُچھ میزبان جو وہاں بیٹھے تھے اُن کے چہروں پر ہنسی کے ساتھ ساتھ ایک سُبکی بھی ہوئی۔
جب باراتی سُستانے میں مگن تھے تب ایک قُلفِی فروش یہاں آ نِکلا
شُومیِ قسمت باراتیوں کی کہ دُلہن کے ابّا کسی بچے کو قلفی دِلانے کی غرض سے وہاں آگئے تو ایک اچھی خاصی ٹولی وہاں جا دھمکی ایک لمحے کو قُلفی فروش بھی سہم گیا کے کہیں اُسے لُوٹنے تو نہیں آ رہے پر اصل شامت دُلہن کے ابّا کی آئی  سب نے مفت کی خوب قلفیاں اُڑائیں دُلہن کے ابّا بیچارے دانت پیستے رہے اور قلفی دِلاتے رہے۔

کُچھ دیر بعد رُخصتی ہوئی اور بس گھر کے سامنے روک دی گئی کُچھ بقیہ بکسے لادنے کے لیے۔
سامان لادتے لادتے ایک سپہ سالار نے گندم کے دو تھیلے بھی لادھ لیے کسی کی نظر ایک نئی بُنی ہوئی کھاٹ پر پڑ گئی وہ بھی لُوٹ لی گئی۔
 ایسے لگا جیسے مال غنیمت سمیٹا جا رہا ہو بیٹھک میں رکھے ہوئے حُقّے پر تو دُولہے کے ابّا جی بہت پہلے سے نظر جمائے بیٹھے تھے تو لگائی ایک نوجوان کو آواز
"چھورے حُقّہ  بھی اُٹھا لینا"
 پتہ نہیں یہ سب مذاق میں کِیا جا رہا تھا یا سچ میں چیزیں ایسے ہی ہتھیائی جاتی ہیں باراتوں میں یہی اُلجھن مُجھے ستا رہی تھی
 پر میزبان بیچارے دھیمی سی مسکراہٹ لیے سب دیکھتے رہے جب تمام بارات واپس روانہ ہوئی تو پھر کچھ گولہ باری کی گئی اور اپنی فتح کا جشن منایا گیا۔
 واپسی پر میں نے بس کی سیٹ سے باہر جھانک کر دیکھا کُچھ مہمانوں کے ساتھ دُلہن کے ابّا بھی کھڑے تھے
جِنکے چہرے پر بیٹی کی جُدائی کے غم کے ساتھ ایک بےبسی بھی واضع نظر آ رہی تھی
یوں ہم نے دلہن فتح کی اور گھر کی جانب چل دیئے۔۔۔



Post a comment

0 Comments