Meri Wafa Pe Haq Hua Tera Novel By Umm E Omama
Meri Wafa Pe Haq Hua Tera Novel By Umm E Omama
"تم
ہاسپٹل گئی تھیں نہ کیا ہوا سب ٹھیک رہا"
اسکا حال احوال معلوم
کرنے کے بعد وہ سیدھا اپنی بات پر آیا جسے سنتے ہی ماہم نے فورا اپنا گلا تر کیا
"سب
ٹھیک تھا آپ واپس کب آرہے ہیں"
"کچھ
دنوں میں آجاؤں گا فلحال یہاں کا کام ختم نہیں ہوا ہے تم یہ بتاؤ کیا میری خواہش
پوری ہونے والی ہے''
"اس
سے کیا فرق پڑتا ہے زمان"
"میری
بات کا جواب دو ماہم"
اسکی سنجیدہ آواز پر وہ
سر جھکائے اپنے گلابی لبوں کو دانتوں تلے کچلنے لگی
لیکن یہ خاموشی وہ کب تک
برقرار رکھ سکتی تھی
"مبارک
ہو آپ ایک بیٹی کے باپ بننے والے ہیں"
اسکی بات سنتے ہی دوسری
طرف جیسے سناٹا چھا چکا تھا
جسے محسوس کرتے ہی ماہم
کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا
"زمان"
"میرے
واپس آنے سے پہلے ایک کام کرنا"
"میں
کچھ نہیں کروں گی"
چونکہ اندازہ تھا وہ کیا
کہنے والا ہوگا اسلیے وہ پہلے ہی کہہ اٹھی
"ابارٹ
کرا لینا"
"آپ
جانتے ہیں نہ مجھے تین سال بعد یہ خوش خبری ملی ہے مجھ سے میری یہ خوشی نہ چھینے
مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کے میں اپنی اولاد کا قتل کردوں"
"اگر
تمہیں میری زندگی میں رہنا ہے تو ماہم تمہیں یہ کام کرنا ہی ہوگا مجھے چن لو یا
پھر اپنی اس بچی کو"
"وہ
ایک معصوم جان ہے"
"وہ
تمہاری بیٹی ہے جس نے بڑے ہوکر تم جیسا ہی بننا ہے لوگ کہتے ہیں بیٹیاں بوجھ ہوتی
ہیں جو کے درست بھی ہے وہ کر ہی کیا سکتی ہے ہمارے لیے"
وہ کس قدر سنگ دل انسان
تھا اس بات کا احساس ماہم کو آج ہوا تھا
وہ اپنی بیٹی کے لیے ایسی
باتیں کہہ رہا تھا
وہ کیسے کہہ سکتا تھا
"اگر
بیٹا ہوا تو کیا وہ آپ کو سونے کے تخت پر بٹھا دے گا بیٹے چھوڑ بھی دیتے ہیں زمان
بیٹیاں نہیں چھوڑتیں بیٹیاں ماں باپ کے دکھ درد کی ساتھی ہوتی ہیں"
"جیسے
تم تھیں"
اسکے طنزیہ انداز پر ماہم
ملک سناٹوں کی زد میں آگئی زمان نے جیسے اسے کچھ کہنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا
البتہ اسکی باتوں نے ماہم
ملک کو ایک اٹل فیصلہ لینے پر مجبور ضرور کیا تھا
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ

