Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Kuch Khta Metha Aur Kuch Talkh Written By Noor Mulaika

Kuch Khta Metha Aur Kuch Talkh Written By Noor Mulaika

Kuch Khta Metha Aur Kuch Talkh Written By Noor Mulaika

کچھ کھٹامیٹھا اور کچھ تلخ (کالم)‎‎

گزشتہ چند ایام سے میں ایک سروے کر رہی تھی .تجزیات اور مشاہدات تو آۓ روز چلتے رہتے ہیں لیکن آجکل ایک اہم پہلو بہت باریک بینی سے جانچ پڑتال میں تھا .جس کی نوعیت سماجی بھی ہے ,معاشرتی بھی اور بہت حد تک گھریلو بھی .خیر یہ ہم سب سے جڑا موضوع  ہے .چھوڑیں تمہید کو شارٹ کٹ اپناتے ہوۓ باقاعدہ آغاز کرتی ہوں .ایسی کہانیاں آۓ روز انڈیا کے ڈراموں میں نظر آتی ہیں .

میں نے دلہن  بیگمات کی چند اقسام دریافت کی ہیں .ملاحظہ فرمائیے .

پہلی قسم کا اسم گرامی ہے (بیگم تلوار) سب سے خطرناک ,مہلک اور تو اور میاں  ..جان لیوا بھی ہو سکتی ہے .یہ وہ قسم ہے جس میں دلہن بیگم قدم بعد میں رکھتی ہیں .تلوار لہرا کے وار پہلے سے کرنا شروع کردیتی ہیں .خواہ ووہ تلوار بیچاری نندوں کے سر پے ہو یا مظلوم ساس کے دایئں بایئں لٹکتی .اب کوئی بہو بیگم میرا کالم پڑھ رہی ھوئ تو فورًا سے سارے کس بل ماتھے پے لے آے گی .تیوری بھی چڑھا لی ہوگی .آنکھیں اورمکھڑا بھی  تپ کے لال ہو رہا ہوگا  .عین ممکن ہے میں سامنے ہوئی تو جوتا بھی سر میں پڑ جایگا .نہیں تو ایک آدھ ٹماٹر تو ضرور پھینکے جائیں گے .فکر نہ کریں اگلی اقسام میں بہوؤں کے بجاے نندوں اور ساسوں کے تیر بھی میری طرف ہونگے .ہاں جی تو ذکر ہو رہا تھا بیگم تلوار کا .یہ وہ  قسم ہے جنکا حکم سب پے چلتا ہے  خواہ وہ میاں جی ہوں ,سسر ساس ,نندیں یا انکے بچے .ارے بھئ لگا لی تو کچھ بن پڑے گا .نہیں تو نندوں نے جانا ہی جانا ساتھ بوڑھے والدین بھی گھر سے رخصت کر کے گھر کو خس کم جہاں پاک کیا جایگا ہر صورت طے ہے کہ دلہن بیگم کا پلہ ہی بھاری رہے گا چاہے وہ سچ کہے یا جھوٹ .

دوسری قسم ہے جی (بیگم آری ) ہے تو بڑی تیز دھار لیکن کبھی لوہے کو کاٹتے وقت زیادہ وقت درکار ہوتا تو کبھی وار بھی کاری ہوجاتا لیکن صرف دس سے بیس فیصد ناکامی ہوتی ہے باقی کامیابی ہی کامیابی اور دماغ میں پروان چڑھنے والے ٹوٹکوں کے کیا کہنے .پلڑا بھئ انکا بھی  ہر صورت بھاری ہے .لیکن کبھی کبھی ساس بیگم کا کوئی سکّہ غلطی سے چل جائے تو انکو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن صبر کےکڑوے گھونٹ پی کر پھر سے میدان میں اتر آتی ہیں .یعنی کہ ہار نہ ماننے والے جراثیم ان میں پاے جاتے ہیں .

تیسری قسم ہے (بیگم قینچی ) زبان تو سبحان الله لیکن مرضی خیر کم ہی چلتی ہے .اس قسم میں ساس بیگم کا پلڑا بھاری ہوتا ہے .اگر بیگم قینچی اپنے حق کے لئے دو لفظ بول بھی لیں تو بدتمیز ,بدزبان اور اکھڑ مزاج کہلاتیں .ارے یہ بیگم قینچی میرا نہیں کچھ ساس نما ٹھانےدارنیوں کے اپنی بہوؤں کے لئے القابات ہیں .اکثر کہتے سنا ہے ساسوں کا اپنے جاتکوں کو کہتے ارے او چھٹانک بھر کی چھوری تیرے سامنے تیری ماں کو دو کوڑی کا کر گئی .تیرے منہ میں زبان نہیں ہے یا تیرے ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں جو اٹھ کے دو تھپڑ ہی جڑ دے .جورو کا غلام کہیں کا .نتیجہ یہ ہوا کہ اس قسم کی بہو اپنے میاں جی سے اپنے کمرے کی حد تک چند باتیں منوا سکتی ہے .اور باقی جی ہلکا اپنی زبان چلا کے کر لیتی ہیں .

اگلی قسم (بیگم شہد ) ایسی میٹھی ایسی میٹھی کہ لگے بھئی شہد کے چھتے سے کیا شہد نکلے ذرا دلہن بیگم کی زبان تو  سنوکیسی شہد جیسی میٹھی میٹھی رسیلی باتیں کرتی ہیں . بظاھر ساس نندوں سے خوب بنا کے رکھتی ہیں لیکن اندر سے پوری اچھا دھاری ناگن ہیں .میں تو کہتی ہوں ایسی قسم کہ دلہنیں گھنی اور میسنی ہوتی ہیں .لگا کے رکھنے والی .کام نکلوا کے دو لفظ خوشامد کے کہہ دیتی ہیں .اپنا کام بھی نکل گیا ,بری بھی نہ بنی .ساس اور نندوں کے آگے نمبر بھی بنا لئے.اخلاقی طور پے تو تھوڑا غلط ہے لیکن سسرال میں  قدم جمانے کا اچھا مجرّب طریقہ ہے .مختصراً بیان کرنے کے لئے آخری قسم لکھتی چلوں جو ہے( بیگم گاۓ ) ساس کا پلڑا بھاری ,نندوں کی بھی خوب چلتی ہے .مذاق کو چھوڑ کے صحیح معنوں میں دلہن بیگم گاۓ کی طرح معصوم .دن بھر کولہو کے بیل کی طرح کام بھی کرے پھر بھی نندوں اور ساس بیگم کے ماتھے پر بل کم نہیں ہوتے .

میاں کو بھڑکا کے بیچاری کو لگے ہاتھوں ذلیل بھی کروا دیا .اپنا کام بھی نکلوا لیا اور ضرورت پڑنے پر دھکے بھی دے ڈالے.پھر بھی وہ ہی بیچاری قصوروار .

لیکن ساری بہویں سوچ رہی ہونگی کہ میرے قلم کی توپ صرف انکی طرف ہی برسے چلے جا رہی ہے .

لیکن میری طرف سے یہی اقسام ساس بیگمات کے لئے بھی ہیں .کسی کا کنٹرول سو فیصد ہے یعنی کہ ساس بیگم حاوی ہیں مکمّل طور پر ,بیٹے ,گھر غرض ہر چیز پے حکمران ہیں .بہو کی حثیت نوکرانی سے بھی شاید کمتر ہے .کہیں پے انیس بیس کا فرق ہے .کہیں یہ شہد والی زبان کا حساب کتاب بھی ہے پھر .اور کہیں تولہ ماشہ والا .خیر یہ سلسلہ چلتا رہے گا جب تک ہے سانس اور ساس

کبھی ساس آگے بہو پیچھے ,کبھی بہو آگے ساس پیچھے ,برابر قدم چلتے شازونادر ہی دیکھے ہیں .

ان دنوں میں نے چہل قدمی کے لئے ایک متبادل راستے کا استعمال شروع  کیا ہوا .کوئی ہفتہ بھر سےl میں ایک ضعیف اماں جی کو اپنی چھوٹی سی دکان کی سیڑھی پے آدھا منہ چھپا کے بیٹھا دیکھ رہی ہوتی ہوں .گزرتے گزرتے سلام دعا ہوجایا کرتی ہے.ہمیشہ خلوص دل سے اماں جی یوں ملتی کہ جی چاہتا بندہ انکے پاس ہی بیٹھ جائے .آنکھوں میں جھانکیں تو معلوم ہو جیسے پتہ نہیں کتنے سیلاب کے ریلے ابھی کے ابھی بہہ نکلیں گے .میں نے سوچا فراغت نکال کے اماں جی کے پاس دو گھڑی ضرور بیٹھوں گی .ہمیشہ محسوس ہوتا جسے وہ  کچھ کہنا چاہتی ہوں .

اتفاق سےچھٹی کا دن تھا .کیا دیکھتی ہوں کہ اماں جی ایک ہاتھ میں جھاڑو تھامے دوسرے ہاتھ سے اپنی کمرکو سہلاتے صفائی کر رہی ہیں . مجھے دیکھتے ہی جھاڑو چھوڑ کر میری طرف لپکتی ہوئی میرا منہ اور ہاتھ چومنے لگی اور دعایئں بھی دینے لگی .رسمی علیک سلیک کے بعد بات چیت شروع ہوئی تو بتانے لگی کہ معمولی سی دکان سے ہی انکی زندگی کی گاڑی چل رہی ہے.تین بیٹوں کی ماں اور تین عدد بہوئیں ہونے کے باوجود بھی لاوارثوں کے جیسی  زندگی  گزار رہی ہیں .میاں معذور چارپائی پے زندگی کے دن گن رہا ہیے . بیٹے  دیکھتے ہی منہ پھیر لیتے ہیں .ہاتھ بٹانا  اور ماں باپ کی خدمت تو دور کی بات ,بہوئیں یوں دور بھاگتی ہیں جیسے انھیں ایڈز ہوگیا ہو .میں اضافہ کرتی چلوں ,یقین کیجیے  اماں جی کے پاؤں میں پھٹے ہوۓ جوتے ,ہزار دفعہ پیوند زدہ کپڑے ,غرض یہ کہ انتہائی خستہ حالت .اور بیچاری چل پھر بھی مشکل سے  ہی رہی تھیں .اور مجھے اپنی روداد سناتے اتنا شدّت سے رو رہی تھی کہ میرے لئے اس صورت حال کو قلمبند کرنا مشکل ہو رہا ہیے ,اور الفاظ انکی زبان سے یوں بہہ رہے تھے کہ جیسے صدیوں سے انتظار میں ہوں کہ کوئی ملے تو وہ امڈ آیئں . میرے پوچھے بنا ہی وہ سب باتیں مجھے خود بتاتی گئیں .خیر ڈھیر ساری باتیں ہوتی رہیں پھر ملنساری کا مظاہرہ کرتے مجھے روزانہ ملنے کی درخواست کرتی رہی اور میں ڈھیر ساری حیرتیں سمیٹے وہاں سے چل پڑی .

مجھے آپ سب بتایں قصور کس کا ہیے ?

ان ماں باپ کا جنہوں نے اپنی جوانی اپنا تن من دھن قربان کر کہ انکو پال پوس کر اس مقام تک پھنچایا کہ وہ پانی کا گھونٹ تک انکو نہ پوچھیں .

اماں جی کے تینوں بیٹے الگ الگ گھروں میں اپنی بیگمات کے ساتھ بیضمرے بن کے عیاشی کر رہے ہیں .بوڑھے ماں باپ اپنی زندگی کے آخری دن خلوت نشینی ,غربت اور افلاس میں گزار رہے ہیں . میں اور آپ بہوؤں کو کوس دیتے ہیں بلکل غلط ہیں لیکن میرے نزدیک   پہلےوہ اشخاص غلط ہیں جنہیں اپنے ماں باپ کے بڑھاپے کا احساس نہیں ہیے .ظاہر ہیے جب وہ عزت نہیں دیں گے تو وہ کیوں پوچھیں گی بھلا ?

قارئین یہ کہانی صرف اماں جی کی نہیں ایسی ہزاروں لاکھوں ماؤں کی ہیے .

تجزیہ خود کرلیجیے آپ کس درجے میں ہیں .مرد ہیں تو مرد ہونے کا حق اور فرض نبھائیے .عورت ہیں تو عورت ذات کا بھرم رکھیے .سرمایا کاری آج ہی شروع کریں .آج خدمت کریں گے تو کل کو آپکا بڑھاپا بھی آپکی اولاد کے ہاتھوں محفوظ ہوگا .اکثر بڑے بزرگوں کو کہتے سنا ہے.

کہ ماں باپ کے ساتھ تمھارا سلوک تمہاری وہ کہانی ہیے جسے لکھتے تم خود ہو لیکن اسے پڑھ کر تمہاری اولاد تمھیں سناتی ہیے .

پھر  سوچ لیجیے کہ آپکو کونسی کہانی لکھنی ہے اور کون سی سننی ہیے .

اور آخری بات اس کا جواب اوپر بھی ایک عدالت میں دینا ہے .چلیں محاسبہ آج ہی کرتے ہیں ورنہ کل کو میں اور آپ سب مجرم ہونگے .

نور ملائکہ

جہلم


Post a Comment

0 Comments