Chaal Complete Novel By Yaman Eva
Chaal Complete Novel By Yaman Eva
جرگہ میں اس وقت بالکل
سناٹا چھایا ہوا تھا۔ میرَل جتوئی بےبس سا سر جھکائے کھڑا تھا۔
”قتل ابھی
ثابت نہیں ہوا، میرل نے کہا ناں اس نے یہ قتل نہیں کیا۔“ افضل جتوئی نے ضبط سے
سردار حاقان میرانی کو دیکھا جو بالکل سنجیدہ بیٹھے تھے۔
”میرَل
جتوئی تو ہمیں نادان بچہ سمجھ بیٹھا ہے، کھیل
کھیلنے کی کوشش مت کرو افضل جتوئی۔۔ میرا بھتیجا قتل ہوا ہے اور جب وہ قتل
ہوا ہزاروں گواہ ہیں کہ اس کے ساتھ میرل جتوئی موجود تھا۔۔
ان دونوں کے درمیان لڑائی
ہوئی، ان دونوں نے ایک دوسرے پر پسٹل تانی ہوئی تھی اور پھر میرے بھتیجے پر فائر
ہوا اور وہ مر گیا۔۔ اگر یہاں کوئی بات جھوٹ ہے تو مجھے بتاؤ، میں ابھی بلاوجہ
جرگہ بٹھانے پر معافی مانگ لیتا ہوں۔۔“ دامیر میرانی نے سرد لہجے میں کہا۔
میرَل جتوئی نے بےبسی سے
پہلو بدلا، دامیر میرانی کا ایک ایک لفظ سچ تھا۔ پھر صفائی کی گنجائش کہاں بچتی
تھی۔ افضل جتوئی بیٹے کو گھورنے لگے۔
”جتوئی
خاندان اس قتل کا قصاص دے گا۔“ جرگہ کے ایک معزز نے مناسب حل بتایا۔ جرگہ کے سرپنچ
کبیر میرانی اور سردار حاقان میرانی اب بھی خاموش بیٹھے تھے۔ دامیر میرانی قصاص کے
لفظ پر سیدھا ہوا۔
”خون کا
بدلہ خون ہے، کیا افضل جتوئی اپنے بیٹے میرل جتوئی کو میرے ہاتھوں قتل ہوتا دیکھ
سکتا ہے؟“
اس کی بات پر جرگہ کو
سانپ سونگھ گیا۔ اس کا جملہ افضل جتوئی اور میرَل جتوئی کو ساکن کر گیا۔
”سردار
صاحب۔۔ میں جانتا ہوں۔۔ مجھے اندازہ ہے کہ آپ لوگوں کا ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے
مگر۔۔“ افضل جتوئی اس حل پر گھبراہٹ سے ہکلا گئے تھے۔
جہاں چال چلی جائے اور
جہاں جال بنے جائیں وہاں راستے نہیں رکھے جاتے، دامیر میرانی کے لبوں پر تمسخر
بھری مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔
”آپ کو
اللہ کا واسطہ سردار سائیں کوئی اور حل بتائیں۔۔“ افضل جتوئی کو منت کرتا دیکھ کر
میرَل نے ازیت سے سرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ غرور سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے دامیر میرانی
کو دیکھا۔
”اور حل؟
اپنی ساری زمینیں ہمارے حوالے کر دو۔۔“
حاقان میرانی نے تمسخر سے
دوسرا حل بتایا۔ افضل جتوئی کے لبوں پر قفل پڑ گیا۔
”مجھے
جتوئی خاندان سے ونی چاہئیے۔“ دامیر میرانی کا اچانک جملہ جتوئی خاندان پر عذاب کی
طرح گرا تھا۔
کبیر میرانی اور سردار
حاقان میرانی بھی حیرت سے دامیر میرانی کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں ونی نہیں چاہئیے
تھی، وہ تو کچھ اور سوچے بیٹھے تھے مگر دامیر میرانی۔۔۔ وہ اپنی چال کا آخری مہرہ
چل چکا تھا۔
جرگہ اور اس میں ہوئی بحث
کا اصل مقصد۔۔
اپنے بھتیجے کی موت اور
اس کے نام پر ونی۔۔
اس کا کھیل اپنے اختتام
پر تھا، اسے پہلے روز سے ونی ہی چاہئیے تھی اور وہ وہی مطالبہ کر چکا تھا۔
چالباز نہایت مہارت سے
اپنی چال چل چکا تھا۔
جتوئی خاندان گھٹنے ٹیکنے
پر مجبور ہو گیا تھا۔
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ

