Tere Sadqe Sab Waar Diya Complete Novel By Aiman Razzaq

Tere Sadqe Sab Waar Diya Complete Novel By Aiman Razzaq

Tere Sadqe Sab Waar Diya Complete Novel By Aiman Razzaq

Novel Name : Tere Sadqe Sab Waar Diya
Writer Name: Aiman Razzaq
Category : LATEST COMPLETE NOVEL,Wani Based Novels,Revenge Based Novels,
Novel status : Complete

حالے اور حورین اپنی پیکنگ کر لو ہم کل کی فلائٹ سے پاکستان جا رہے ہیں پاکستان لیکن ماما کیوں؟ " حالے نے موبائل سے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا۔ کیونکہ تم لوگوں کی دادی نے ہمیں واپس بلایا ہے" ماما ، لسٹن تو می ہم کہیں نہیں جا رہے جسے ملنا ہے وہ خود یہاں آئے گا " وہ بمشکل اپنے غصے پر کنٹرول کرتے ہوئے بولی۔ حالے میں ایک لفظ بھی نہیں سنوں گی میں پہلے ہی زرنش کی بے وقوفیوں اور حرکتوں سے بہت پریشان ہوں ، اپنی اور حورین کی پیکنگ کر کو " اتنا بول کر وہ وہاں سے چل گئی تھی۔ تقریباً تیس منٹ بعد زرنش گھر میں داخل ہوئی تو خاموشی نے اس کو استقبال کیا وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھی دروازہ بند کر کے وہ پلٹی تھی کہ کسی نے اس کلائی سے پکڑ کر دیوار سے لگایا۔ وہ چیخنے لگی تھی کہ مقابل نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی چیخ کا گلہ گھونٹا۔ میں ہاتھ بتا رہا ہوں چیخنا مت مس بیروئن " شہریار نے اس کے کان میں سرگوشی کی اور باتھ بٹا گیا۔ "how dare you to touch me وہ اس کا گریبان پکڑ کر دھاڑی اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں آنے کی؟" تم كل پاکستان جانو گی؟ شہریار نے اس کے ارد گرد باتھ رکھ کر اس کی بیزل گرے آنکھوں میں جھانکا ۔ وہ مسلسل اس کی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا . تمہاری بھول ہے مسٹر خانزادہ کہ یہ زرنش ابراہیم خان تمہاری کوئی بات مانے گی ۔ وہ اس کو خود سے دور جھلکتی طنزیہ انداز میں بولی۔ " تمہارے ، تو اچھے بھی مانیں گے مں ابراہیم وہ اس کو کلائی سے پکڑ کر اپنے قریب کر گیا۔ تو تم میرے اچھوں سے منوا سکتے ہو وہ اپنی کلائی چھڑوا کر بالوں کا جوڑا بنانے لگی۔

وہ اس کو جوڑا بناتا دیکھ کر مسکرایا دل نے شدت سے خواہش کی تھی وہ باتھ بڑھا کر یہ جوڑا کھول دے. زرنش تم کل پاکستان چلو گی وہ اپنے موڈ میں واپس آتے بولا. میں شائستہ ابراہیم خان ، نہیں جنہیں تم بہلا پھسلا کر اپنی بات منوا کو گے اور وہ تمہاری بات مان لیں گی۔ جس خاندان کا خون تمہاری رگوں میں دوڑتا ہے اسی خاندان کا خون میری رگوں میں دوڑ رہا ہے وہ اس کے سینے پر انگلی رکھ کر بولی جلو at least تم نے مانا تو سہی علی زیب خان کا خون بی تمہاری رگوں میں دوڑ رہا ہے وه پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر استہزایہ مسکرایا. پاکستان جاتی ہے میری جوتی ، تم مسز ابراہیم کو لے کر جا سکتے ہو ، لیکن مجھ سے اور بهائی تھی۔ میری بہنوں سے دور رہنا وہ حلق کے بل چیخی زرنش کو شہریار کی بات ایک آنکھ نہیں ٹھیک ہے پھر تم اپنی ماں کا چہرہ دیکھنے کے لیے ترس جانوں کی مس زرنش ، وہ لفظ اسے کسی کا غرور کرنا پسند تھا. چباتے بولا۔ اس کے سامنے آج تک کسی نے اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی اور نہ ہی سلگا تھا۔ زرنش کا لہجہ اس کا لباس اس کا بار میں کما کرنے کے بارے میں سن کر وہ بری طرح اسے کہاں یہ بات گوارا تھی کہ اس سے تعلق رکھنے والی کوئی بھی عورت یوں زندگی گزارے۔ اور کیا زرنش لندن جیسے آزاد خیال ملک کے بارے میں نہیں جانتی جہاں زنا کاری ، بے حیائی شراب نوشی ، عام سمجها جاتا تها. مجھے، فرق نہیں پڑتا ، تم کل کی بجائے ابھی لے کے جا سکتے ہو، " وہ کندھے آچکا گئی اسے اپنی ماں پر بے حد غصہ تھا جس نے اس انجان شخص کی وجہ سے اس پر ہاتھ اٹھایا تها. اس کا جواب سن کر شہریار پیچ و تاب کھا کے رہ گیا اور جیسے ہی آیا تھا ویسے ہی کھڑکی سے باہر کود گیا۔




Kitab Nagri start a journey for all social media writers to publish their writes.Welcome To All Writers,Test your writing abilities.
Tere Sadqe Sab Waar Diya Complete Novel By Aiman Razzaq is available here to download in pdf form and online reading.
Click on the link given below to Free download Pdf
Free Download Link
Click on download
give your feedback


Follow Our Whatsapp Channel FoR Latest Novel Update         👇👇👇👇
  

Follow Us On Instagram                    👇👇👇👇 


Follow Us On Instagram Tiktok


ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
 اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں  👇👇👇
 


Direct Link







FoR Online Read

ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول

 کیسا لگا ۔ شکریہ


Post a Comment

Previous Post Next Post