Umeed E Sehar Complete Novel By Sanaa Ijaz
Umeed E Sehar Complete Novel By Sanaa Ijaz
زَریاب اب تو مجھے معاف
کر دیجیے میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتی ہوں , رُوحاب آہستہ آہستہ چل کر اس کے پاس
آئی ۔
مگر زَریاب نے اس کی طرف
دیکھا بھی نہیں۔
زَریاب , وہ گھٹنوں کے بل
اس کے پاس بیٹھ گئی۔
تو زَریاب نے اس کی طرف
ایسے دیکھا جیسے اُسے رُوحاب کا اس طرح نیچے بیٹھنا بالکل بھی اچھا نہ لگ رہا ہو۔
اور میں نے جو کچھ بھی
کیا ہے ہماری اولاد کے لیے کیا ہے نا , وہ آہستہ سے بولی۔
رُوحاب سوال یہ نہیں ہے
کہ تم نے یہ سب کیوں کیا بلکہ سوال یہ ہے کہ تم نے مجھ سے چھپ کر کیوں کیا ؟ زَریاب نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔
کیا آج تک میں نے تم سے
چھپ کر کوئی کام کیا ؟ تمہارے اعتماد کو کبھی ٹھیس پہنچائی ؟
زَریاب میں آپ کو بتاتی
مگر آپ ایسے کاموں پر یقین نہیں رکھتے تو مجھے ڈر تھا کہ آپ منع کر دیں گے ۔
تمہیں میرے انکار کا ڈر
تھا مگر مجھ سے چھپ کر یہ سب کرتی رہیں اور میرے یقین کے ساتھ کھیلتی رہیں اس بات
کا ذرا سا بھی خوف نہیں تھا ؟ اس نے غصے سے دانت پیسے۔
مجھے ہر چیز سے زیادہ ڈر
آپ کے کھونے کا تھا زَریاب اور اسی ڈر نے مجھے ہر خوف سے بے خوف کر دیا , رُوحاب
نے زَریاب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
کچھ دیر یوں ہی خاموشی
چھائی رہی۔
میری پہلی اور آخری غلطی
سمجھ کر معاف کر دیجیے , رُوحاب اس کے
سامنے ہاتھ جوڑ کر رونے لگی۔
زَریاب کا دل پہلے بھی
کہاں اپنی رُوحاب کے لیے پتھر تھا بس ذرا سی ناراضگی اور شکایت تھی۔
اُس نے رُوحاب کے اپنے
سامنے جوڑے ہوئے ہاتھوں کو پیار سے تھام لیا ۔
رُوحاب اُس کے گھٹنوں پر
سر رکھ کر پھوٹ کر رُونے لگی ۔
زَریاب کی آنکھیں بھی نم
ہو گئیں اُس نے جھک کر اس کے سر پر بوسہ دیا۔
پاگل اب بس کرو , زَریاب
نے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا , ہم لڑکوں کو تو ذرا سا رونا بھی نہیں آتا اور پتا
نہیں تم لڑکیاں اتنے آنسو کہاں سے لے آتی ہو ,
رُوحاب بس اسے دیکھنے لگ
گئی ۔
رُوحاب اب مجھے کبھی بھی چھوڑ
کر نہیں جانا قسم سے تمہارے بغیر گھر گھر نہیں لگتا اور زندگی بے سکون ہو جاتی ہے
, وہ اپنی انگلیوں کے پوروں سے اس کے آنسو پونچھنے لگا۔
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ


