Tu Zid Meri Tu Junooniyat Complete Novel By Tooba Siddiqui

Tu Zid Meri Tu Junooniyat Complete Novel By Tooba Siddiqui

Tu Zid Meri Tu Junooniyat Complete Novel By Tooba Siddiqui

Novel Name : Tu Zid Meri Tu Junooniyat
Writer Name: Tooba Siddiqui
Category : LATEST COMPLETE NOVEL
Novel status : Complete

میرے خوابوں میں جو آئے

آکے مجھے چھیڑ جائے

اس سے کہو زرا سامنے تو آئے۔

اذلان جو ناشتے کے لیے نیچے اتر رہا تھا نسوانی آواز نے اس کے قدم جکڑے۔

آواز روحا کے کمرے سے آرہی تھی۔

اذلان مسکرا کر اس کے کمرے کی طرف بڑھا وہ ابھی نیچے نہیں گئی تھی یہ اچھا موقع تھا اس سے ملاقات کا۔

اذلان نے اس کمرے میں جھانکا۔

روحا گنگناتے ہوئے اپنے بال بنانے میں مصروف تھی۔ اذلان دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوا۔ روحا کی اس کی طرف پیٹ تھی۔

کون آتا ہے خوابوں میں جس کے سامنے آنے کا انتظار ہے شہزادی۔

اذلان نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو وہ ڈر کر ایکدم چیخی مگر اذلان نے اپنا مضبوط ہاتھ اس کے لبوں پہ جمایا۔

روحا آنکھیں پھاڑے خوف کے عالم میں نیلی آنکھوں والے خوبصورت مرد کو دیکھ رہی تھی۔

بالکل نہیں چیخنا اوکے۔ ایکدم چپ۔

اذلان نے اسے کہا تو اس نے ڈر کر اثبات میں سر ہلایا۔

اذلان نے اپنا ہاتھ اس کے لبوں سے ہٹایا اور پھر اپنا ہاتھ اپنے لبوں سے لگایا۔

روحا خوفزدہ نظروں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی۔ پلکیں جھپکنا بھول گئی تھیں۔

شہزادی نارمل آنکھیں کر کے بھی دیکھ سکتی ہو ایسے آنکھیں پھاڑنے کی کیا ضرورت ہے۔

اذلان نے مسکرا کر کہا۔

ککک کون ہو تم۔ میرے کمرے میں کیسے آئے۔

بمشکل اس کے لبوں سے یہ جملہ نکلا تھا۔

ابھی تو تم گنگنا رہی تھیں اس سے کہو زرا سامنے تو آئے۔ لو آگیا سامنے۔

اذلان کے اس طرح کہنے پہ وہ اور خوفزدہ ہوئی تھی۔

تم کیا جن ہو۔

معصوم سا سوال اذلان کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیر گیا۔

ہاں میں جن ہوں تمھیں ہمیشہ کے لیے لے جانے آیا ہوں۔ میری شہزادی۔

ننن نہیں۔۔۔ تم جاؤ تم جاؤ میں کہیں نہیں جاؤں گی تمھارے ساتھ۔ وہ بس اب جیسے رو دینے کو تھی۔

میں کیسے جاسکتا ہوں تم ہی تو مجھے بلا رہی تھیں نا میں وہی تو ہوں۔

نہیں نہیں۔ میں نے نہیں بلایا آپ کو میں کیوں بلاؤں گی آپ کو۔ اور آپ مجھے کہیں نہیں لے جاسکتے میں اذلان شمشیر خان کی منگ ہوں وہ آپ سے بھی بڑے جن ہیں مار دیں گے آپ کو۔

اس نے بند آنکھوں سے جلدی جلدی کہا۔

اذلان شمشیر خان کی منگ ہو تم۔

وہ جیسے مسرور ہوا تھا۔

روحا نے بند آنکھوں سے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا۔

کچھ لمحے خاموشی چھائی رہی۔ روحا نے آنکھیں کھولیں تو کمرے میں کوئی بھی نہیں تھا۔ بس کچھ تھی تو وہ تھی پرفیوم کی تیز مہک جیسے ابھی ابھی کوئی کمرے سے پرفیوم کے ساتھ باہر نکلا ہو۔

روحا نے خوفزدہ نظروں سے ادھر ادھر دیکھا۔

شہد رنگ آنکھوں ڈر صاف واضح تھا۔

شکر ہے اللّٰہ کا جن چلا گیا۔ ویسے بھی ممانی کہتی ہیں ان کے بیٹے بہت خطرناک ہیں اگر انہیں پتا لگ جاتا کہ میں ایک مرد جن سے ملی ہوں تو وہ تو مجھے سیدھا اوپر پہنچا دیتے ویسے جن تو مرد ہی ہوتے ہوں گے نا عورتیں تو چڑیل ہوتی ہوں گی۔

روحا نے دل میں سوچا۔



Kitab Nagri start a journey for all social media writers to publish their writes.Welcome To All Writers,Test your writing abilities.
Tu Zid Meri Tu Junooniyat Complete Novel By Tooba Siddiqui is available here to download in pdf form and online reading.
Click on the link given below to Free download Pdf
Free Download Link
Click on download
give your feedback


Follow Our Whatsapp Channel FoR Latest Novel Update         👇👇👇👇
  

Follow Us On Instagram                    👇👇👇👇 


Follow Us On Instagram Tiktok


ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
 اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں  👇👇👇
 


Direct Link






FoR Online Read

ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول

 کیسا لگا ۔ شکریہ


Post a Comment

Previous Post Next Post