Ishq E Mehram Complete Novel By Yaman Eva
Ishq E Mehram Complete Novel By Yaman Eva
”تمہیں
گلٹ تو نہیں کہ ہماری باقاعدہ شادی نہیں ہوئی؟ میں نے جلدی کر کے سب خراب کر دیا
تھا، اگر ہماری فیملیز مان جاتیں تو حالات شاید الگ ہوتے۔“ اس کی باتیں سنتا عیزان
اچانک میشا کو سینے میں بھنچتا جذباتی لہجے میں بولا۔
”ایسا کچھ
نہیں عیزان، ہمارا ملنا ایسے ہی طے تھا۔ اگر ہم نارمل حالات میں ملے ہوتے، آج واقعی
حالات الگ ہوتے مگر آج ہم بھی ایسے نا ہوتے۔ کیا ہم ایسا اطمینان اور یہ سکون تب
حاصل کر سکتے؟“ میشا نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ہولے سے تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
”ہاں جو
ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔ ہمیں ایسے ہی ملنا تھا، ہمیں ایسے ہی سنورنا تھا۔“
وہ اطمینان سے بولتا اسے خود میں سمیٹے سکون سے اس کے بالوں میں چہرہ چھپا گیا۔
”میشا۔۔
مجھے ماما، بابا کی بہت فکر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں اولاد کا بگڑنا اور اس کے
گناہ والدین کے حصے میں جاتے ہیں، کچھ لوگ تو اتنا بھی کہتے ہی کہ کم عمر بچے کو
ماں کی لاپروائی کی وجہ سے چوٹ لگ جائے تو ماں کا اولاد پر حق باقی نہیں رہتا۔ بہت
عجیب باتیں سننے کو ملتی ہیں۔
میرے پیرنٹس مجھے ابا کے
پاس چھوڑ کر ضرور گئے تھے مگر کبھی مجھ سے لاپرواہ نہیں رہے، وہ میری کئیر بھی
کرتے تھے مجھ سے محبت بھی کرتے تھے، انہوں نے میری محبت میں جو خود غرضی دکھائی اس
کی وجہ سے تم اتنی تکلیف میں رہی ہو۔ میشا کیا انہیں اس بات پر کبھی معافی نہیں
ملے گی؟“
وہ بےچینی کا شکار ہو رہا
تھا۔ شاید وہ بھی بیٹھے بٹھائے سوشل میڈیا پر بغیر کسی دلیل کے فتویٰ دینے والے
لوگوں کو سن چکا تھا۔ وہی لوگ جو اپنی عملی زندگی میں چاہے جتنی غلطیاں کرتے رہے
ہوں، چند جملے گھسیٹ کر خود کو مفتی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ جن کے الفاظ سے ناجانے کتنے
لوگ خود کو گناہگار سمجھ بیٹھتے ہیں۔
”عیزان
اماں مجھے کہتی ہیں اصل مفتی ہمارے یہاں ہوتا ہے۔“ میشا نے اس کے دل کے مقام پر
انگلی رکھی۔
”خود کو ایمان
کے اس لیول پر لے آئیں کہ جو یہاں مفتی بیٹھا ہے ناں یہ آپ کو خود اچھے برے کا فتویٰ
دے گا۔ ہمارے دل سے بڑا کوئی مفتی نہیں ہوتا۔ بس ہمیں اس مقام تک آنے کی ضرورت ہوتی
ہے اور پھر ہمیں الہام ہونے لگتے ہیں۔
پھر غلط کام پر چاہے دنیا
کا ہر مفتی جائز ہونے کا فتویٰ دے دے مگر یہ جو دل ہے ناں یہ آپ کو روکے گا۔ اور
جو اچھائی ہے اس پر بھی یہی دل اشارہ دیتا ہے۔ پھر کامن سینس بہت شارپ ہو جاتی ہے۔
بس اللہ کے قریب ہونے کی دیر ہے، پھر اللہ خود سنبھال لیتا ہے۔
اس لیے لوگوں کی باتیں نہیں
سنا کریں، پوری ایمانداری سے اپنے دل کی سنا کریں، اگر یہ دل مانے کہ ہاں یہ غلط
ہے۔ تو پھر رک جائیں اور اگر دل نہ مانے تو دنیا کی نا مانا کریں۔“ میشا نے اس کے
سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے آہستگی سے سمجھایا، وہ اسے دیکھ رہا تھا۔
”کیا
تمہارا دل اشارے دیتا ہے؟“ عیزان نے اس کے چہرے پر بکھرتے بال سمیٹ کر پیچھے کرتے
ہوئے نرمی اور تجسّس سے سوال کیا، وہ اس کے سوال پر نظر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی،
پھر مسکرائی۔
”میں اب
اسی مرحلہ پر ہوں۔ مجھے تجربہ ہوا ہے تبھی تو آپ کو سمجھا رہی ہوں۔ واقعی یہاں ایک
مفتی ہے اور یہ واقعی فتویٰ دیتا ہے۔ اور اس کا دیا اشارہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔
اللہ کے قریب ہو جانے پر واقعی الہام ہوتے ہیں عیزان۔۔“ وہ اس کے سینے سے لگتی اس
کے کندھے پر سر رکھ گئی۔
”پھر میں
بھی انتظار کروں گا۔“ وہ اطمینان سے بولا۔
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ


