Ahqaf Complete Novel By Syeda Noor Ul Huda
Ahqaf Complete Novel By Syeda Noor Ul Huda
کہو کیوں بلایا ہے...
چئیر گَھسیٹ کر بیٹھتے
ہوئے اُس نے سخت تاثرات چہرے پر سجائے
کہا۔ وہاں بیٹھے اُسے کسی اَن نون نمبر سے معصومہ کی بہت سی تصویریں موصول ہوئی تھیں
اور ساتھ ہی لوکیشن بھی، جانتا تھا کہ فائق ہی کا کام ہے، اسی لیے چلا آیا۔
پیستہ رنگ کی شیروانی
پہنے، اپنے چاکلیٹ براؤن بالوں کو خوبصورتی سے
سیٹ کیے بیٹھا وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا، اور جس چیز نے فائق کو حیران کیا
وہ تھیں اُس کی چاکلیٹ براؤن آنکھیں، جو ہو بہو معصومہ کی آنکھوں جیسی تھیں۔
میری آنکھوں سے اپنی نظریں
ہٹا لو فائق حاکم ۔" فائق کو مسلسل اپنی آنکھوں میں دیکھتا پا کر فہیم نے سختی
سے کہا۔ جانتا تھا، اُس کی آنکھوں میں وہ معصومہ کی آنکھیں ڈھونڈ رہا ہے۔
ہمم... اپنی ہونے والی بیوی
پر اتنا بھی اعتبار نہیں کیا کہ اُس کی چند تصویریں دیکھ کر اپنا نکاح چھوڑ کر
دوڑے چلے آئے ہو ، کنفرمیشن لینے؟" اُس کی بات سن کر فائق نے طنزیہ ہنسی
ہنستے ہوئے کہا۔
"ہو چکی... ہونے والی نہیں،
وہ میری ہو چکی بیوی ہے، اور یہاں میں اُس کے کردار کی کنفرمیشن لینے نہیں بلکہ
تمہیں وارن کرنے آیا ہوں۔ یہ آخری بار ہونی چاہیے ۔۔ آئندہ میری بیوی کے آس پاس
دکھائی مت دینا، سمجھے تم؟" پہلے وہ میری بیوی نہیں تھی صرف کزن تھی تو میں
نے برداشت کر لیا لیکن اب وہ عزت ہے میری اور میری عزت کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنے
والے کی آنکھیں نوچ لیتا ہوں میں ۔
آنکھوں میں گہری سنجیدگی
لیے وہ دانت چباتے ہوئے بولا۔
اُس کی بات سن کر فائق،
جو ریلیکس سا بیٹھا تھا، ایک دم سے سیدھا ہوا ۔وہ یہ تو جانتا تھا کہ ان دونوں کا
نکاح ہونے والا ہے لیکن ان دونوں کا نکاح ہو چکا ہے اس بات کا اندازہ نہیں تھا
اُسے ۔۔
"کیا کیا کہہ رہے ہو تم؟ میں
نے کہا تھا نا تمہیں کہ نکاح سے پہلے آنا..." فائق نے غصے سے کہا۔
"ہم... بچہ ہو ابھی تم۔
تمہیں کیا لگا تھا؟ چند تصویریں بھیج کر تم مجھے اُس سے بدگمان کر لو گے اور میں نکاح
چھوڑ کر یہاں چلا آؤں گا؟ پاگل سمجھا ہے کیا؟ وہ بھی تب، جب کہ میں جانتا ہوں کہ
تم نے کب کب اور کہاں کہاں اُس کی تصویریں لی ہیں۔ پل پل کی خبر رکھتا ہوں میں اُس
کی۔ اُس کے کردار کی گواہی کے لیے مجھے تم جیسے کسی کی ضرورت نہیں، میں خود ہی کافی
ہوں، ؟"
فہیم نے پہلے طنزیہ ہنسی
ہنستے اور آخر میں لہجے میں سختی لاتے ہوئےکہا۔
اور ہاں، اب سے یاد رکھنا
کہ وہ بیوی ہے میری، اور اُس کی طرف اٹھنے والی ہر نظر سے میں اچھی طرح واقف ہوں۔
آئندہ اُس کے آس پاس بھی نظر آئے تو میں تمہیں چلنے پھرنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا،
؟".
ذرا سا رک کر اُسے سنجیدہ
آواز میں وارننگ دیتا وہ اٹھا اور ریسٹورنٹ
سے نکلتا چلا گیا۔
پیچھے فائق بے جان سا بیٹھا
رہ گیا۔ اُس نے کیسے سوچ لیا تھا کہ سامنے والا بھی اُس کے جیسا ایک سطحی سوچ
رکھنے والا مرد ہے؟ اُس نے کیسے معصومہ کی
پاک دامنی پر داغ لگانے کی کوشش کی، جب کہ وہ خود بھی اُس کے کردار اور پاکیزگی سے
واقف تھا۔
یہ اُس نے کیا کیا؟ آخر
وہ ملی بھی نہیں اور خود کو اُس کی نظروں میں بھی گرا لیا۔ اگر اُسے پتا چل جاتا
کہ میں نے اُس کے شوہر کو... اُف!
اُس نے سر ہاتھوں میں گرا
کر سختی سے اپنے بال نوچے۔ نکاح سے روکنے کی غرض سے اُس نے یہ کیا کر دیا تھا۔
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ


