Naseeb Ki Dehleez Par Complete Novel By Javeria Safdar
Naseeb Ki Dehleez Par Complete Novel By Javeria Safdar
زایان کا پرانا نمبر اب
بھی اس کی رابطہ فہرست میں موجود تھا۔ نام دیکھ کر اس کے اندر ایک بے نام سی بے چینی
جاگی۔ انگلی چند لمحوں کے لیے اسکرین پر رکی رہی۔
وہ چاہتی تو ایک نیا پیغام
لکھ سکتی تھی۔
صرف اتنا کہ وہ اپنی بات
کی وضاحت کرنا چاہتی ہے۔
صرف اتنا کہ اس کا مقصد
کسی کو دھوکا دینا نہیں تھا۔
صرف اتنا کہ وہ اب بھی اس
کے لیے برا نہیں چاہتی۔
مگر پھر اسے وہ لمحہ یاد
آیا جب زایان نے اس کے ایک غلط فیصلے پر اسے پوری شخصیت سمیت جھوٹا قرار دیا تھا۔
وہ لمحہ جب اس نے ایک ایسی بات کہی تھی جس نے عنایہ کو اپنے ایمان، اپنے مستقبل
اور اپنی موت تک کے بارے میں خوف زدہ کر دیا تھا۔
عنایہ نے فون میز پر رکھ
دیا۔
’’نہیں،‘‘ اس نے خود سے
کہا، ’’ہر وضاحت کے لیے اسی شخص کے دروازے پر جانا ضروری نہیں جس نے سننے سے انکار
کر دیا ہو۔‘‘
یہ جملہ کہتے ہوئے اس کا
دل پھر بھی دکھا۔
کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ
وہ اب بھی چاہتی تھی زایان اسے سمجھ لے۔
مگر اس نے پہلی مرتبہ
اپنے دل کی خواہش سے زیادہ اپنے وقار کو اہمیت دینے کی کوشش کی۔
وہ جانتی تھی کہ اس ایک فیصلے
سے سب کچھ ٹھیک نہیں ہو جائے گا۔ یادیں فوراً ختم نہیں ہوں گی، دل کی عادتیں ایک
دن میں نہیں بدلیں گی، اور نہ ہی اس کی راتیں اچانک پرسکون ہو جائیں گی۔
لیکن شاید صحت یابی کا
آغاز یہی تھا کہ انسان بار بار گرنے کے باوجود اپنے لیے بہتر راستہ چننے کی کوشش
کرتا رہے۔
اس نے فون بند کر دیا۔
پھر اس نے اپنی ڈائری
کھولی اور لکھا:
’’آج میں نے اسے کوئی پیغام
نہیں بھیجا۔ یہ اس لیے نہیں کہ میں اسے بھول گئی ہوں، بلکہ اس لیے کہ میں سمجھنے
لگی ہوں کہ کسی کی خاموشی کے بعد بھی مجھے اپنی زندگی جاری رکھنے کا حق حاصل ہے۔‘‘
اس نے ایک لمحے کے لیے
قلم روکا۔
پھر آخری جملہ لکھا:
’’یہ شاید ہماری آخری گفتگو
نہیں، مگر میری طرف سے اس انتظار کا آخری دن ضرور ہونا چاہیے۔‘‘
اس نے ڈائری بند کر دی۔
اور اس مرتبہ فون دوبارہ
نہیں اٹھایا۔
اس رات عنایہ نے اپنی ماں
کے ساتھ کھانا کھایا۔ ماں نے اسے اپنی کسی پرانی سہیلی کا قصہ سنایا، جس میں ایک
معمولی غلط فہمی کے باعث دو خاندان برسوں تک ایک دوسرے سے دور رہے تھے۔ عنایہ نے
بھی درمیان میں ایک آدھ بات کہی۔
کئی دنوں بعد اس نے محسوس
کیا کہ وہ کھانے کی میز پر موجود ہے، صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی۔
وہ کبھی ہنس دی، کبھی ماں
کی بات پر مسکرا دی۔
رات کو سونے سے پہلے اس
نے جائے نماز بچھائی۔
اس بار اس نے اپنے دل کے
سکون کی دعا کی، مگر اس سکون کو کسی مخصوص شخص کے ساتھ مشروط نہیں کیا۔
عنایہ ابھی زایان کو بھولی
نہیں تھی، مگر اس نے آہستہ آہستہ یہ سمجھنا شروع کر دیا تھا کہ کسی کو یاد کرنا
اور اس کے انتظار میں اپنی زندگی روک دینا دو الگ باتیں ہیں۔
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ


