Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Behayai By Maham Safdar

Behayai By Maham Safdar

Behayai By Maham Safdar

     ”بےحیاٸی اک عظیم فتنہ

از قلم: ماہم صفدر

دورِ حاضر پر اپنی عمیق نگاہ ڈالیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گی کہ بنی نوعِ انسان اپنی تمام تر اخلاقی و سماجی اقدار کو یکسر فراموش کٸے بےحیاٸی کے گڑھے میں گر چکی ہے۔ بےحیاٸی کے ناسور نے ہمارے معاشرے میں اپنی جڑیں پھیلا لی ہیں۔ اس عفریت نے تہذیب کو اپنے پنجوں میں جکڑ کے جھنجھوڑ ڈالا ہے۔ اخلاقی، سماجی اور مذہبی اقدار لہولہان ہو چکی ہیں۔ ”ماڈرن ازم“، ”لبرل ازم“، ”آزادیٕ نسواں“ اور ”شخصی آزادی جیسے فتنوں نے انسانیت سے اس کا لباس چھین لیا ہے۔ انسانیت کا لباس حیا ہے جو ان فرسودہ جدیدیت کے نام نہاد نعروں اور منصوبوں کے ہاتھوں شکستہ ہو گیا ہے۔ ہمارا مذہب اپنے ماننے والوں کو ننگ دھڑنگ جسموں کی نماٸش کی اجازت دیتا ہے نہ بےحیاٸی پر مبنی دیگر امور کی۔ بحیثیت مسلمان اگر قرآن پاک اور سنتِ رسولﷺ کا بنظرِ غاٸر مطالعہ کریں تو قلوب و اذہان پر پڑی بےحیاٸی کی دھند چھٹے اور ہم پر واضح ہو کہ اسلام کی روح کا اہم ترین عنصر حیا کو قرار دیا گیا ہے۔

حدیثِ مبارکہ ہے;

ہر دین کی پہچان ہوتی ہے اور ہمارے دین کی جداگانہ پہچان شرم و حیا ہے۔

آج عالم اسلام کو دیکھیں تو فرنگی تعلیمات کی پیروی میں مسلمان اتنا آگے نکل چکے ہیں کہ انہیں بےحیاٸی کی چکا چوند حاصلِ زیست معلوم ہوتی ہے۔ حیا کا تعلق کسی مخصوص طبقے سے ہے نہ کسی جنس سے۔ اسلام میں نہ صرف عورت بلکہ مرد کو بھی اپنی نگاہ اور اپنے ستر کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ عورت کا عورت اور مرد کا مرد سے بھی پردہ رکھا گیا ہے، مردہ کی ران پر بھی نظر نہ جاٸے کہ یہی حیا کا تقاضہ ہے۔

دن بدن بےحیاٸی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی وجوہات میں تعلیم و تربیت کا فقدان سرِفہرست ہے۔ درسی کتب تو پڑھی جاتی ہیں لیکن قرآن پاک کو غلاف میں لپیٹ کر طاق میں رکھ دیا گیا ہے۔ خود کو جدت پسند اور تہذیب یافتہ کہلوانے کے لٸے ہر وہ کام کیا جاتا ہے جو اخلاقی حدود سے خارج اور حیا سے عاری ہو۔ ہماری ثقافت مر رہی ہے۔ فلمیں، ڈرامے فحاشی اور بےحیاٸی کے نت نٸے نمونے پیش کرتے اور نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ شخصی آزادی نے مرد و زن کو شتر بے مہار کر دیا ہے۔ عورت خاتون خانہ کی بجاٸے شمعِ محفل بننے کو ترجیح دینے لگی ہے۔ بےحیاٸی کی لذت اسے چاردیواری سے نکال کر شیونگ کریمز کے اشتہارات اور چوراہوں میں لگے بل بورڈز کی زینت بنانے پر تلی ہے۔ نوجوانوں کا ہلہ گلہ کرنے کے نام پر تقریبات، شراب نوشی، سگریٹ نوشی معمول بن چکا ہے۔ ہر جملے میں چار پانچ انگریزی گالیاں تعلیم یافتہ ہونے کی سند ہے۔ عورت پردہ نہیں کرنا چاہتی اور مرد نظر نہیں جھکانا چاہتا۔ ہمارا معاشرہ بےحیاٸی کے ڈھول کو گلے میں ڈالے نہایت سرخوشی سے بجانے میں مگن ہے۔ نوجوان نسل میں گرل فرینڈ اور بواٸے فرینڈ جیسے ماوراٸے مذہب رشتوں کی بیناد رکھ دی گٸی ہے۔ نگاہ کو آوارہ چھوڑنا، ہاتھ ملانا، گلے ملنا تو عام بات ہے۔ ان لوگوں نے ہزاروں توجیہات اور خودساختہ دلاٸل بھی گھڑ رکھے ہیں جو اپنی بےحیاٸی کی وکالت کے لٸے بےدھڑک استعمال میں ہوتے ہیں۔

اس عظیم فتنے نے رشتوں کا تقدس پامال کر دیا ہے۔ بےحیاٸی لوگوں کی رگوں میں یوں سرایت کرتی جا رہی ہے کہ دیدوں کا پانی مر گیا ہے، شرم و حیا ندارد ہو چکی ہے۔ لحاظ پاس قصہٕ پارینہ بن چکے ہیں۔ ہر طرف اک دوڑ لگی ہے جس میں جو زیادہ بےحیا وہ زیادہ مہذب یافتہ کہلانے کا حقدار ہے۔ اگر اپنی عزت و آبرو کا لباس تار کر کے، حیا کی پوشاک نفسانی لذت کی ہوا میں اڑانا تہذیب و جدت ہے تو کیا جانور ہم سے زیادہ مہذب نہیں؟

ہم لوگ اس فتنے کے نقصانات اور مضر اثرات سے جان بوجھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کٸے ہیں۔ بےحیاٸی کی چنگاری اب دہکتے تندور کے شعلوں کی طرح پھیل رہی ہے اور اپنے گرد و نواح میں موجود اقدار کو بھسم کر رہی ہے۔ بےحیاٸی کے فتنے نے نفس کو ہوا دی ہے۔ محبت و عزت کے طاٸر ہماری فضاٶں سے کوچ کر رہے ہیں۔ آٸے دن جنسی زیادتی جیسے واقعات بےحیاٸی کی بڑھتی وبا کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہیں؟ ابھی وقت ہے اگر ہم بےحیاٸی کی تباہ کاریوں کا ادراک کرتے ہوٸے اس کا سدِ باب کر لیں، تعلیم و تربیت پر زور دیں۔ اپنی نیم مردہ ثقافت کے تن میں نٸی روح پھونکیں۔ سوشل میڈیا اور دیگر سماجی رابطے کی ویب ساٸٹس کو شفاف بناٸیں۔

صحیح بخاری و مسلم کی حدیث ہے;

  ”جب تم حیا نہ کرو تو جو جی چاہے کرو۔

ابھی سنبھلنے کا موقع ہے لہٰذا جتنی جلدی ممکن ہو بحیثیت مسلمان ایک قوم ہو کر اس فتنے کا سر کچل دیں۔


Post a Comment

0 Comments