Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Shair Aaya Shair Aaya By Maham Safdar

Shair Aaya Shair Aaya By Maham Safdar

Shair Aaya Shair Aaya By Maham Safdar

شیر آیا! شیر آیا!“

از قلم: ماہم صفدر

ہم بچپن میں اور ابتداٸی تعلیم کے دوران جہاں ”پیاسا کوا“، ”لالچ بری بلا ہے“، ”انکور کھٹے ہیں“ أور ”اتفاق میں برکت ہے“ جیسی کہانیاں پڑھتے ہیں اک کہانی اور بھی تھی۔ مختصراً اس کہانی کا واقعہ یوں ہے کہ اک گاٶں میں ایک گڈریا رہتا تھا۔ اس کے پاس دھیڑ ساری بھیڑ بکریاں تھیں جنہیں چرانے کے لیے وہ گاٶں سے کچھ دور لے جاتا تھا۔ اس گڈریے کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔ ایک دن وہ ٹیلے پر چڑھ کر چلانے لگا ”شیر آیا! شیر آیا! لوگو میری مدد کرو، مجھے بچاٶ! یہ میری بکریاں کھا جاٸے گا، میری جان لے لے گا۔

گاٶں والوں نے اس کی چیخ و پکار سنی تو لاٹھیاں، ڈنڈے لے کر مدد کو دوڑے لیکن وہاں نہ کوٸی شیر تھا نہ کسی کی جان کو خطرہ۔ الٹا گڈریا ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہونے لگا کہ ”میں نے تو مزاق کیا تھا۔

لوگ اسے لعن طعن کرتے واپس چلے گٸے۔ کچھ دن بعد اس نے پھر یہی حرکت کی اور لوگ چلے آٸے کہ اس بار سچ مچ ہی شیر نہ آ گیا ہو، لیکن پھر مزاق نکلا۔ چند اک بار ایسا ہوا تو لوگ متنفر ہو گٸے۔ اک دن سچ مچ شیر آ گیا لیکن کسی نے اس کی چیخ و پکار پر دھیان نہ دیا۔ نتیجتاً شیر جانوروں کے ساتھ ساتھ اسے بھی چیر پھاڑ گیا۔

ہم نے یہ تمہید جس ”واقعہ“ کے پیشِ نظر باندھی ہے، کچھ احباب کے نزدیک یہ ”اک چول“ اور نان سیریس مسٸلہ ہے۔ لیکن ہر اک کا نقطہٕ نظر جدا ہے۔ ہم نے ایسے بہت سے واقعات دیکھے ہیں کہ لوگ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ طریقہٕ واردات میں بھی جدت آتی جا رہی ہے۔ یہ گلوبل ولیج، سوشل میڈیا کا زمانہ ہے جس میں اک ذرا سی خبر بھی جنگل میں لگی آگ کی طرح یوں پھیلتی ہے کہ کوٸی سماعت و بصارت اس سے محروم نہیں رہ پاتی۔ اور ستم تو یہ ہے کہ ایسے شوشے چھوڑنے کے بعد ایسے لوگ ”شہرت“ کے سارے زینے راتوں رات چڑھ لیتے ہیں۔ جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں ان ”خود ساختہ موت کے واقعات“ کی۔ ٹک ٹاک یا فیس بک پر بسا اوقات یہ شوشہ سر اٹھاتا ہے اور سوشل ساٸیٹس پر گرما گرمی دیکھی جاتی ہے۔ وہیں میمرز کی بھی مراد بر آتی ہے۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ کسی شخص کی موت یا خودکشی کی خبر جلی حروف میں ان ساٸیٹس کی زینت بنتی ہے اور ہر جانب سوگ کا سماں بندھ جاتا ہے۔ لیکن ایک دو دن میں ہی مرحوم یا مرحومہ نیا جنم لے کر پھر سے اس دنیا کی زینت بنے دکھاٸی دیتے ہیں۔

ایسی سستی حرکتیں کیوں دیکھنے میں آتی ہیں؟ بھلا کوٸی بھی صاحبِ عقل یا دانشمند انسان ایسا کرنے کا سوچ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! یہ ان لوگوں کی کارستانیاں ہیں جو اخلاقی و ذہنی پستی کا شکار ہیں۔ موت مزاق ہے کیا؟ ایسے لوگ خودترسی کا شکار نفسیاتی مریض ہیں یا پھر عدم توجہ کا شکار۔ انہیں شاید اپنے حقیقی رشتوں سے وہ محبت اور توجہ نہیں ملتی جو وہ چاہتے ہیں، لہٰذا عوام الناس کی نظروں میں آنے، توجہ اور ہمدردی لینے کے لیے ایسی غیر مناسب حرکات کر گزرتے ہیں۔

اس سب کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اللّٰہ کا شکر ہے کہ ہماری قوم کے دل ابھی زندہ اور حساس ہیں۔ ایک دوسرے کا دکھ درد محسوس کر کے اس میں شریک ہوتے ہیں۔ جب بھی کوٸی روح فرسا خبر یا سانحے کا ذکر سنیں تو اظہارِ افسوس کیا جاتا ہے۔ ایسی ویڈیوز یا کوٸی پوسٹ نظر سے گزرے تو سبھی کا دل گداز ہو جاتا ہے اور وہ اس غم میں حتی المقدور نڈھال نظر آتے ہیں۔ افسوس اور تعزیت کے ٹرینڈز چلتے ہیں، اپنی فیس بک کی وال پر ایسے پیغامات کاپی پیسٹ کیے جاتے ہیں۔ سب غم میں برابر شریک ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایک دو دن بعد مرحوم/مرحومہ اٹھ کر بیان جاری کر دیں کہ وہ صحیح سلامت ہیں اور ”مزاق تھا بھٸی مزاق“ کا عملی نمونہ پیش کریں تو سب کے جذبات بری طرح مجروح ہوتے ہیں۔ پھر اک نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے فاتحہ پڑھنے والوں کی زبانیں ناقابل اشاعت گالیوں کا ورد کرنے لگتی ہیں۔ تعزیتی پیغامات جاری کرنے والے، memes بنانے لگتے ہیں اور طنز و مزاح کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ سب غلط اور غیر مناسب ہے لیکن اک سوال یہ سلسلہ شروع کس نے کیا؟ آپ اتنے گرے ہوٸے اور ارزاں انسان ہیں کہ اپنی ذات کو تبصروں اور طنزیہ جملوں کے لیے بنا کسی خوف کے پیش کر دیں۔

حالیہ واقعہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ اک نوآموز شاعرہ نے اپنی وال پر کچھ بےہنگم سے اشعار لگا رکھے تھے اور تین چار روز قبل اک کھلا خط لکھ ڈالا جو کہ جانے کون سی سستے سکرپٹ پر بنی فلمیں دیکھ کر لکھا گیا تھا۔ ہماری عوام ان کے رستے زخموں پر ہمدردی کے پھاہے رکھتی رہی لیکن اک دو روز بعد ان کی خود کشی کی خبریں گردش کرنے لگیں جس کا موجب ”ناکام محبت“ ٹھہری۔ بڑے بڑے شعرا، ادبا اور سب لوگ ان کے سوگ میں ماتم کناں، تعزیتی پیغام جاری کرتے رہے۔ ”مر جاٸے تو بڑھ جاتی ہے انسان کی قیمت“ کے مصداق ان کے بےسر و پا لفظوں کو اعلیٰ سخن کا درجہ دیتے ہوٸے عظمت کی سند عطا کی گٸی۔ بہت سے حساس دل جذبات کی رو میں یوں بہے کہ آنکھوں نے ساون کی جھڑیاں لگا دیں۔ ابھی لوہا گرم تھا کہ اک چوٹ پڑی۔ موصوفہ نیا اکاٶنٹ بنا کر نمودار ہوٸیں اور بیان جاری کیا ”میں یہاں ہوں، یہاں“۔ میرا فون دوست نے چرا لیا تھا، وہ سب اس نے کیا، میں ٹھیک ٹھاک ہوں۔

اور پھر دوسرا سلسلہ یعنی میمز، لعن طعن اور طنز و مزاح کا شروع ہو گیا۔ کہنا بس یہ ہے کہ کب تک دوسروں کے جذبات سے کھیل کر سستی شہرت کماٸی جاٸے گی؟ سچ پوچھیں لوگ بےحس ہو جاٸیں گے۔ ایسا نہ ہو کہ اس سے ملتا جلتا کوٸی واقعہ سچ میں ہو اور لوگ سمجھیں یہ بھی مزاق ہے۔ ایسے نفسیاتی مریض اپنا علاج کرواٸیں اور اپنے حقیقی رشتے مضبوط کریں تاکہ آپ کو توجہ کی بھیک مانگنے کے لیے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کی ضرورت نہ پڑے۔ ابھی انسانیت زندہ ہے۔ لوگوں میں احساس باقی ہے اس لیے وہ کسی سانحے پر جذباتی ہو جاتے ہیں۔ بعد میں جو سلسلہ شروع ہوتا ہے وہ ان کے اس غم و غصے کا اظہار ہوتا ہے جو آپ کے عمل کا رد عمل ہے۔ خدارا ڈریں اس وقت سے جب سچ میں ”شیر“ آٸے تو کوٸی آپ کا مددگار نہ ہو۔ کوٸی افسوس کرنے والا نہ ہو اور ”شیر“ آپ کو چیر پھاڑ کے چیتھڑوں میں بدل دے۔ سو گزارش ہے کہ معاشرے میں احساس اور نیک جذبات کی فضا سلامت رہنے دیں۔


Post a Comment

0 Comments