Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Lafafa Written By Abd ul Manan Malik

Lafafa Written By Abd ul Manan Malik

Lafafa Written By Abd ul Manan Malik

لفافہ

ملک عبدالمنان

کچھ عرصہ قبل صحافیوں کو لفافے لینے پر لعن طعن کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ملک کے مختلف نامور صحافیوں پر لفافے لینے کا الزام لگایا گیا۔ چند روز قبل میں اور میرے کچھ احباب ہمارے ایک دوست کے گھر جمع ہوئے۔ مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال ہوا۔ سب نے اپنی اپنی آراء کا اظہار کیا۔جب صحافیوں کے لفافے لینے کے بارے میں گرما گرم بحث جاری تھی تو میرے ذہن میں میرے سکول کا ایک واقعہ گھوم گیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نہم جماعت کا طالب علم تھا۔ معمول کی طرح کا ایک دن نکلا۔ تقریبا سب بچے کلاس میں تھےاور چوتھا لیکچر تھا۔ سر کلاس میں آئے۔ کانوں میں ہیڈ فون لگائے اورکلاس کے ایک کونے میں کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے۔ اور موبائل پر کچھ دیکھنے لگے۔ کلاس روم کا دروازہ بند تھا۔ ایک موٹے سے مونیٹر کو سر نے کلاس میں کھڑا کردیا۔ اگر کوئی بچہ شور کرتا تو وہ مونیٹر، ہاتھ میں پکڑے ہوئے  سکیل کی ایک ضرب اس بچے کو لگاتا۔ اچانک سے کلاس روم کا دروازہ کھلا۔ سر گھبرا کر کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ سامنے چپڑاسی کھڑا  تھا۔ تمام بچے ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ چپڑاسی نے کہا کہ ڈی ای او صاحب ہمارے سکول کی طرف آ رہے ہیں۔ یہ خبر لڑکیوں کے سکول سے آئی تھی۔ کیوں کہ ڈی ای او صاحب پہلے وہاں گئے تھے۔ لڑکیوں کا سکول لڑکوں کے سکول سے پہلے تھا۔ چپڑاسی نے مزید کہا کہ  مبارک صاحب (سیکنڈ ہیڈ ماسٹر)نے مجھے کہا ہے کہ میں سارے  ٹیچرز کو بتا دوں۔ اتنا کہہ کر چپڑاسی دوسرے کلاس روم کی طرف چلا گیا۔ چپڑاسی کی بات سن کر سر کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ دوسری کلاس سے مارکر منگواکر وائٹ بورڈ کے اوپر ٹا پک کا نام لکھا اور مارکر واپس اسی کلاس روم میں بھیج دیا۔ ہماری کلاس سے سکول گیٹ اور آفس صاف نظر آتے تھے۔ کچھ دیر بعد ایک چمچماتی ہوئی گاڑی ہمارے سکول میں داخل ہوئی۔ اس میں ڈی ای او صاحب براجعمان تھے۔ ڈی ای او صاحب کو ہیڈ ماسٹر کے دفتر میں لے جایا گیا۔ ہیڈ ماسٹر اس دن چھٹی پر تھے۔ ان کی جگہ سیکنڈ ہیڈ ماسٹر نے ان دفتر سنبھالا ہوا تھا۔ کچھ دیر بعد ڈی ای او صاحب سیکنڈ ہیڈ ماسٹر کے ساتھ دفتر سے نکلےاور کلاسوں کی جانب بڑھ گئے. سیکنڈ ہیڈ ماسٹر ایک شریف آدمی تھے. بریک ٹائم جب باقی ٹیچرز بیڈمنٹن کھیل رہے ہوتے تو وہ نماز پڑھنے کے لیے چلے جاتے. خیر ڈی ای او صاحب ہماری کلاس میں آئے اور سر سے پوچھا کہ آپ کیا پڑھا رہے ہیں. تو سر ٹاپک کے متعلق بتانے لگے. کیا یہ آپ نے بچوں کو نوٹ کروایا ہے؟ ڈی ای او  صاحب نے پوچھا۔ تو سر نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ایک امید بھری نگاہ سے کلاس کو دیکھا۔ کہ شاید کسی بھولے بھٹکے بچے نے اسے نوٹ کیا ہو۔ لیکن سر کی کی نگاہ مایوس ہو کر واپس پلٹی۔ انہوں نے کہا ہی نہیں تھا نوٹ کرنے کو تو بچوں کا دماغ خراب تھا کہ وہ نوٹ کرتے۔ قبل اس کے کہ ڈی ای او صاحب سر کی کلاس لیتے کلاس کے مونیٹر (جواد) نے جلدی سے ہاتھ اٹھایا۔ اور ایک رجسٹر نکالا اور اس کا ایک صفحہ کھول کر ڈی ای او صاحب کے سامنے رکھا۔ واقعی صفحے پر وہی ٹاپک لکھا ہوا تھا جو سر نے بورڈ پر لکھا تھا ۔ ڈی ای او صاحب نے صفحہ پلٹا، اور صفحے پلٹتے ہی چلے گئے۔ یہ کیا اگلا ٹاپک، اس سے اگلا ٹاپک،  چیپٹر ختم اور پھر پورے چار چیپٹر ختم۔ ڈی ای او صاحب نے رجسٹر کا پہلا صفہ کھولا  تو وہاں بڑا بڑا لکھا تھا چھٹیوں کا کام۔ ڈی ای او صاحب نے سر کو کھری کھری سنائیں۔ اور جواد کو بھی غلط بیانی کرنے پر خوب ڈانٹا۔ احادیث اور قرآنی آیات پڑھ کر سنائیں۔ پھر سر کو کہا کہ بورڈ صاف کر کے، یہی ٹاپک میرے سامنے بچوں کو سمجھائیں۔ بورڈ صاف کیا گیا۔ لیکن یہ کیا کلاس میں وائٹ بورڈ مارکر ہی نہیں تھا۔ سر نے بچے کو  بھگایا  کہ ساتھ والی کلاس سے مار کر لے کر آئے۔ لیکن ڈی ای او صاحب سر کو کھری کھری سنا کر چلے گئے۔ ڈی ای او صاحب اگلی جمعرات کو پھر آنے کا کہہ کر چلے گئے۔ اور اسکول حکام کو لاسٹ وارننگ بھی دی گئی۔  اگلے روز ہیڈ ماسٹر صاحب کو بھی اس بات کا علم ہوا۔ سکول کی صفائیاں کی جانے لگیں۔ تمام اساتذہ کی میٹنگ بلائی گئی۔ تمام ضروری ہدایات دی گئیں۔ نیز ہر اس چیز کو بہتر کیا گیا جس پر ڈی ای او صاحب نے تنقید کی تھی۔ جمعرات کا دن آیا۔ سر اپنے پیسوں سے وائٹ بورڈ مارکر اور ڈسٹر لے کر آئے۔ بہت اچھے طریقے سے سمجھایا بھی گیا اور کاپیوں پر نوٹ بھی کروایا گیا۔ مگر ڈی ای او صاحب ہیڈ ماسٹر کے دفتر سے باہر ہی نہیں نکلے۔ میں اپنی کلاس کی کھڑکی سے بار بار دفتر کی طرف دیکھتا رہا کہ ڈی ای او صاف  دفتر سے نکلیں  اور آکرہمارے سر کو شاباش دیں۔ لیکن ڈی ای او صاحب دفتر  سے نہ نکلے مگر تھوڑی تھوڑی دیر بعد دفتر میں کچھ نا کچھ ضرور جاتا رہا۔ کبھی کیلا اور سیب اور کبھی انگور اور انار، اور کبھی چرغہ اور بریانی۔ چھٹی ہونے میں ابھی ایک لیکچر کا وقفہ باقی تھا۔ ڈی ای او صاحب اور ہیڈماسٹر ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھے دفتر سے ہنستے مسکراتے باہر نکلے۔ ڈی ای او صاحب کی گاڑی دفتر کے باہر، جانے کے لئے تیار کھڑی تھی ۔ وہ دونوں گاڑی کے قریب آئے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے کسی ڈرائیور کی طرح گاڑی کا  دروازہ کھولا۔

اور پھر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ہیڈ ماسٹر صاحب نے ایک سرخ رنگ کا لفافہ ڈی ای او صاحب کی جانب بڑھایا۔ اور ڈی ای او صاحب نے اسے تھام لیا اور پچھلی بار کا سارا رعب و دبدبہ اور ایمانداری جیسے اس لفافے کے نیچے دب گئی۔ مجھے لگا جیسے انہوں نے کچھ پھلوں اور ایک کی وقت کے کھانے کے بدلے اپنا ضمیر اپنی ایمانداری بھیج دی۔ انہوں نے بھی تو لفافہ لیا تھا۔ ان کی قیمت بھی ایک لفافہ ہی تھا اور بعض ضمیرفروش صحافیوں کی بھی ۔ لیکن میں صرف اپنے ہیڈ ماسٹر اور اس ڈی ای  او کی بنیاد پر پورے محکمہ تعلیم اور محکمہ تعلیم کے افسران کو جج نہیں کر سکتا۔ کیونکہ جہاں کچھ بیکاو اور لفافے لینے والے افسران ہونگے وہاں بہت سے ایماندار اور اپنے فرض کو امانت کے طور پر ادا کرنے والے افسران بھی ہوں گے۔

صحافت پاکستان کا ایک اہم اور قابل عزت  پیشہ ہے۔ ایک ملک میں صحافیوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں کچھ صحافی بیکتے ہیں۔ وہاں بہت سے صحافی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے فرض کو سرانجام دیتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ھے کہ کسی جگہ حادثہ ہو جائے اور لوگ شدید زخمی یا شہید ہو جائیں تو سب سے پہلے وہاں ایک صحافی پہنچتا ہے۔ کچھ صحافی جو لفافے لیتے ہیں انکی بنیاد پر  صحافت کو بد نام کرنا ایک حماقت ہے۔


Post a comment

1 Comments