Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Yaadon Ke Diye Written By Safa Shabbir

Yaadon Ke Diye Written By Safa Shabbir

Yaadon Ke Diye Written By Safa Shabbir

یادوں کے دیے

(صفاء شبیر کی زندگی کے چودہ واقعات )

                                   صفاء شبیر

 

#   اگر دل میں یقین ہے تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو ہرا نہیں سکتی ۔

ایک رزو میں اپنے چچا کے گھر میں موجود تھی ۔ میری کزن الہام میرے بالکل سامنے بیٹھی تھی ۔ روزمرہ کی باتیں ہورہی تھیں ۔ گفتگو کے درمیان ہی میں نے ناول کی بات چھیڑ لی ۔ الہام مجھ سے یوں گویا ہوئی ۔ " یہ ایک کمال کا فن ہوتا ہے اللہ ہر ایک کو نصیب نہیں کرتا ۔ میں نے نمرہ اور عمیرہ کے ناول پڑھے ہیں ۔ وہ جیسا لکھ سکتی ہیں ویسا کوئی نہیں لکھ سکتا ۔ مجھے نہیں لگتا کہ تم لکھ سکو گی ۔ ۔ ۔کیونکہ اتنی ٹیکنیکس اور پھر. ۔۔ ۔ کوشش ، ۔ ۔ ۔محنت. ۔۔ ۔ " میں الہام کی باتیں سُن رہی تھی اور محظوظ ہورہی تھی ۔ میں اُس کی طرف دیکھ کے مُسکرا رہی تھی کیونکہ میں اُس وقت دو ناول لکھ چکی تھی ۔

# غلطی کرکے انجان مت بنو ۔ اس سے دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے ۔

میں اور شانزاہ یونیورسٹی سے رکشے میں واپس آرہی تھیں ۔ میں نے شانزاہ کے ہاتھ میں ایک رجسٹر دیکھا جو کہ اُس کی دوست کا تھا ۔ اُس نے بڑی محنت سے نوٹس تیار کیے تھے ۔ شانزہ نے وہ کاپی کروانا تھا ۔ میں نے اُس سے راستے میں دیکھنے کے لیے مانگ لیا ۔ اُس نے مجھے پکڑا دیا ۔ رستے میں رکشہ رُکا ایک جگہ تو ہم لوگوں نے نان لے لیے ۔ خُدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ اُس کا رجسٹر میرے ہاتھ میں رہ گیا ۔ مجھے گھر آکر پتا چلا تو میں نے سوچا صبح دے دوں گی ۔ پوری رات گُزر گئی ۔ شانزاہ کا کوئی میسج نہیں آیا تھا ۔

صبح وہ سب ٹیبل کے اردگر کینٹین میں موجود تھیں ۔ "میرا رجسٹر کس کے پاس ہے ؟ " ثناء نے پوچھا تھا ۔ سب نے ہی لاتعلقی کا اظہار کیا ۔ اقراء نے کہا کہ شانزہ لے کر گئی تھی جبکہ شانزہ صاف صاف مُکر گئی کہ اُس کے پاس رجسٹر نہیں ہے ۔ میں یہ سب تماشا دیکھ رہی تھی ۔ مجھے شانزہ کی طرف دیکھ کے حیرانگی ہورہی تھی ۔ کیا اسے یہ یاد نہیں کہ میں نے اس سے رجسٹر مانگا تھا ۔ کمال کی بات یہ کہ کیا اس کو اتنا بھی یاد نہیں کہ اس نے ثناء سے رجسٹر لیا تھا ۔ ثناء بار بار کہہ رہی تھی کہ اُس نے خود تمہیں ہی رجسٹر دیا تھا مگر شانزہ صاف منع کررہی تھی کہ ایسا ہوا ہی نہیں ۔

میں اُٹھ کر اپنی دوست جویریہ کے پاس آگئی اور سارا قصہ سنایا ۔ بعد میں ، میں نے کہا کہ رجسٹر دے آتی ہوں ۔ مگر جویریہ نے صاف منع کردیا کہا " ایک کام کرو یہ سب کچھ تم اپنے رجسٹر پہ کاپی کرلو ۔ اگر تم نے اُن سے رجسٹر مانگا تو وہ ہرگز نہیں دیں گے یہ اللہ تعالی نے تمہیں سنہری موقع دیا ہے اس سے فائدہ اُٹھاؤ ۔ کاپی کرکے واپس کردینا ۔ میں نے کچھ دیر سوچا تو اس میں کوئی حرج نہیں تھا کسی حد تک جویریہ صحیح کہہ رہی تھی ۔

میں پھر سے چل کر شانزہ کے گروپ میں بیٹھ گئی ۔ ثناء پریشان لگ رہی تھی ۔ اُس کو حد سے زیادہ غصہ آرہا تھا ۔

" اللہ کرے جو میرا رجسٹر لے کر گیا ہے اُس کا پیپر نہ ٹھیک ہو ۔" ثناء نے بے اختیار کہا ۔ یہ اُسکی بددعا تھی ۔

"نہیں نہیں ۔ ایسا نہیں کہتے ۔ "شانزاہ نے ٹوکا ۔ "اللہ کرے اُس کے ساتھ اس سے بھی بُرا ہو جس کے پاس اس وقت میرا رجسٹر ہے ۔ " شانزہ خاموش تھی ۔ کیونکہ اُس کے پاس نہیں تھا ۔ پہلی بددعا اُس نے شانزہ کے لیے کہی اور دوسری اُس نے میرے لیے کہی ۔ میں مسلسل ہنس رہی تھی ۔

دن بہ دن گزرتے گئے ۔ اُن دنوں میں نے صفاء ناول لکھنا شروع کردیا تھا ۔ اس حوالے سے میں بہت اُلجھ گئی تھی ۔ زیادہ تر مصروف رہتی تھی ۔ اُن دنوں جویریہ کے بھی بہت مسائل تھے وہ بہت غمگین رہا کرتی تھی ۔ میں رابیل اُس کی وجہ سے پریشان تھے اور پھر پڑھائی کا بوجھ ۔ ۔ ۔خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ مجھے یاد بھول گیا ۔ یہاں تک کہ میں نے فائنل میں بھی اُس رجسٹر سے تیاری نہ کی ۔ نہ ہی مجھے یاد رہا کہ ایسا کچھ ہوا ہے ۔ کچھ ماہ بعد میرے والد کا ایکسیڈنٹ ہوا جس کی وجہ سے میری پڑھائی چھوٹ گئی ۔ میں گھر بیٹھ کے صفاء ناول مکمل کرنے لگی ۔ میں نے سب سے پہلے اسے رجسٹر پہ لکھا اُس کے بعد موبائل پہ لکھا ۔ صفاء ناول کا تیسرا اور آخری باب مکمل ہونے کو تھا ۔ سمجھ نہیں آئی کیسے ؟ کیسے ؟ سارا تیسرا باب ڈیلیٹ ہوگیا ۔ میں نے بہت کوشش کی لیکن واپس نہ لاسکی ۔ میری مہینوں کی محنت تھی ۔ دروازہ لاک کیا اور رونے لگی ۔ روتے روتے بیڈ پہ لیٹ گئی ۔ پاس ایک کتاب پڑھی تھی پیر میر زمان صاحب کی ، جس پہ اُن کی تصویر بھی موجود تھی ۔  دماغ ماؤف ہوچکا تھا ۔ روتے روتے میں اُن کی تصویر سے ہی بات کرنے لگی ۔

"میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا ؟ پلیز پلیز میرا سب واپس لادیں ۔ میری بہت محنت ہے ۔ "میں مسلسل رو رہی تھی ۔ اُس وقت میں نے خود کو بہت بے بس محسوس کیا ۔ ایک سوال تھا میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا ؟ ۔

دوسرے روز سوچا کہ کتابوں کی صفائی کرلی جائے کیونکہ کافی گرد جمع ہوچکی تھی ۔ میں ساری کتب اور رجسٹر صاف کرنے لگی ۔ اچانک میری نظر اُسی رجسٹر پہ پڑی ۔ سارا واقعہ دماغ میں گھومنے میں ایک منٹ تک نہ لگا ۔ غیب سے آواز آئی ۔ اس لیے تیرے ساتھ یہ سب ہوا ۔

پھر میرا دل پُرسکون تھا ۔ کیونکہ مجھے کسی کیے کی سزا ملی تھی نا کہ بے کار میری محنت ضائع ہوئی ۔ اس واقعے نے مجھے شانزاہ کا انجان بننا دکھا کر مجھے یہ احساس دلایا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ۔ اور پھر بدلہ مجھے بھی ملا ۔

آج بھی سوچتی ہوں تو ایک ہی کاش پکارتی ہوں ۔ کاش کاش کہ ثناء اپنی پہلی بددعا مجھے دے دیتی ۔ مجھے پیپر کے بھی اتنا خراب ہونے کا دُکھ نا ہوتا ۔

# ادھوری بات اور غلط مطلب انسان کا ایمان خراب کردیتے ہیں

میں منقبت ڈاؤنلوڈ کررہی تھی ۔ کافی ساری کرچکی تھی ۔ ہر دن ایک دو سن لیتی ۔ پھر ایک دن ایک منقبت سُنی ۔ "اگر علی رضہ نہ ہوتے تو عمر رضہ ہلاک ہوجاتے ۔ " یہ پوری منقبت اچھی تھی ۔ جس کو سن کر اچھا محسوس ہوا ۔ حضرت علی رضہ کا مقام سمجھ میں آیا ۔ میں نے جب یہ فیس بُک پہ سرچ کیا کہ اصل میں یہ واقعہ کیا تھا تو ایک پوسٹ نظر آئی جس پہ لکھا ہوا تھا ۔ ۔ علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ۔آؤ سُنتے ہیں اور آگ لگاتے ہیں ۔

میں نے کمنٹ پڑھنے شروع کیے ۔ ۔

یہی دلیل ہے ایک صحابی جس کا نام عمر بن خطاب ہے ۔ علی رضہ کو اتنا عزیز ہے ۔ اور دوسری طرف وہ جو رسول للہ اور اصحاب پہ گندی آوازوں  میں غراتے رہتے ہیں ۔ بھونکتے رہتے ہیں ۔

 

اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتے تمہارے بقول ۔

علی رضہ نے عمر رضہ کو ہلاک نہ ہونے دیا تو تم کیوں عمر رضہ پہ کتوں کی طرح بھونکتے ہو ۔ مسلمانوں میں آگ لگا کر تماشا بناتے ہو ۔ "

پہلے مجھے بھی یہی لگا تھا ۔ لیکن جب ایسے کمنٹس پڑھے ۔ ۔ ۔تو پھر پتا چلا کہ علی رضہ کو عمر رضہ کتنے محبوب تھے ۔ لوگوں نے علی رضہ کا مرتبہ تو دکھایا اس روایت میں مگر علی رضہ کی عمر رضہ کے لیے فکر نہیں دکھائی ۔ جو ہمیں دکھایا جاتا ہے ہم اُس پہ یقین کرلیتے ہیں ۔ اندھی تقلید کی وجہ سے ایمان کے تباہ ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے ۔

# رافضیت کو جاننا ہے تو غلطی کرنا اور دو قدم پیچھے رہنا سیکھو ۔

ایک بار میری ایک شیعہ سے بات ہوئی ۔ روایتوں کے حوالے سینڈ ہورہے ہیں ۔ اسی طرح مجھے اُس نے ایک روایت سینڈ کی ۔ مجھے لکھنا تھا "یہ روایت کمزور یعنی ضعیف ہے ۔ " میرے کی بورڈ میں الفاظ لکھنے کے بعد تبدیل ہوجاتے تھے ۔ یعنی اُس کی سیٹنگ میں مسئلہ تھا ۔ مجھ سے لکھا گیا "یہ روایت تو پرانی ہے ۔ اس سے پہلے کہ میں میسج ٹھیک کرکے بھیجتی" اس جواب پہ اُس نے مجھ ان پڑھ اور جاہل کہا ۔ میں نے ٹائپ کی ہوئی لائن ختم کردی ۔ اللہ نے مجھے جو سمجھانا تھا وہ سمجھا دیا تھا ۔

# استاد کی عزت کرو ۔  اچھا استاد تمہارے اچھے مستقبل کی وجہ ہے ۔

ایک بار میں اور دیگر دوستیں اپنے استاد آصف علی کے اردگرد جمع تھیں ۔ وہ ہمیں ماڈل وربز کی مشقیں حل کروا رہے تھے ۔ باری باری ہم سب ایک ایک معروضی بتاتے ۔ پھر جب باری زارا کی آئی تو اُس کو جواب معلوم نہ تھا ۔ اُس نے غلط آپشن بتادیا ۔

جب سر نے آگے سے کچھ کہا تو اُس نے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ اُس دن اکیڈمی میں موجود نہ تھی جس دن یہ رُول سمجھایا جارہا تھا ۔حالانکہ اس میں سر کا قصور نہ تھا ۔ نہ تو سر خاموش ہورہے تھے اور نہ ہی زارا ۔ میں مسلسل آنکھوں سے اُسے چُپ ہونے کا اشارہ کررہی تھی ۔ لیکن اُس نے مجھ سے بھی یہی بات کی ۔ جب چُھٹی ہوئی تو ہم سب نے ہی کہا کہ تمہیں خاموش رہنا چاہیے تھا ۔ لیکن اُس کا جواب پھر سے وہی تھا ۔ سر بعض اوقات تلخ بات کرجاتے تھے جو مجھے بھی ناراض کردیتی ۔ یونہی سر نے ایک دن مجھ سے مزاق کیا جو کہ شاید میری انسلٹ تھی ۔ میں سر سے چھ دن ناراض رہی لیکن میں نے سر کو جواب نہیں دیا ۔  اکیڈمی میں کوئی نا جانتا تھا کہ میں ناراض ہوں ۔ جب مجھے بہت زیادہ غصہ آتا ہے ۔ تب میں خاموش ہوجاتی ہوں ۔ یعنی چھ دن تک میں نے صرف اپنے کام سے کام رکھا تھا ۔ ادھر اُدھر کی باتوں میں دلچسپی نہیں لی ۔یونہی کرتے کرتے میں سب بھول گئی ۔ زیادہ غصے میں ، میں اپنی زبان پہ قابو پالیتی ہوں ۔ چاہے سامنے والا میرے لیے جو خیالات مرضی رکھے ۔

# اچھا دوست رکھنے کی بجائے اچھا دوست بننے کی کوشش کرو ۔

اچھا دوست کیا ہوتا ہے ؟ نہیں جانتی ۔ اس دور میں اچھا ، مخلص دوست ملنا مشکل ہے ۔  کہیں نا کہیں آپ کو ایسا ضرور لگتا ہے کہ آپ اس سے بہتر دوست کے مستحب تھے ۔ ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ۔ میری زندگی میں جتنے بھی لوگ آئے سب سے بناکر رکھنے کی کوشش کی ۔ بہت سے لوگوں نے ساتھ بھی دیا ۔ لیکن ایک اچھا دوست کیا ہے اس سے محروم رہی ہوں ۔

دوم جماعت تک مریم میری دوست رہی ۔ تبادلہ ہوا تو میں دوسرے سکول چلے گئی ۔ پنجم کلاس تک وہیں پڑھتی رہی ۔ وہاں ایک ہی دوست بنی ۔ زائمہ ۔ پھر ششم سے لے کر سیکنڈ ائیر تک تسمیہ میری دوست رہی ۔ وہ دوست تھی یا نہیں یہ بھی نہیں جانتی ۔ میں نے جب جب اُس سے روانڈ لگانے کا کہا تب تب وہ میرے ساتھ آئی ۔ زیادہ تر وقت اُس کے ہمراہ ہی گزرتا تھا ۔ یہاں تک کہ کالج میں بھی ۔ حالانکہ میں ریگولر نہیں تھی ۔ پھر بھی جب بھی کالج جاتی اُس سے ملاقات ضرور کرتی ۔

مجھے یاد پڑتا ہے ۔ تسمیہ میری وہ واحد فرینڈ ہے جو میرے بالوں کی چوٹیا کرتی رہی ہے ۔ میری سائڈ لیتی رہی ۔ ہم پل میں ناراض ہوتیں اور دوسرے پل میں بات چیت کرنے لگ جاتیں ۔ ہمیشہ ہمارے درمیان روزمرہ کی باتیں ہوتی تھیں ۔ جب جب میں تکلیف میں ہوتی ، جب جب مجھے اذیت ملتی دوسری لڑکیوں سے ، تسمیہ سب دیکھتی تھی (وہ گواہ ہے ) ۔

# ہر انسان کی سوچ مختلف ہوتی ہے ۔ سوچ بدلنے سے دیکھنے ، سمجھنے اور دوسروں کو پرکھنے کا نظریہ بھی بدل جاتا ہے ۔

میں ہشتم کلاس کی طالبہ تھی ۔ ہشتم چونکہ بورڈ کا امتحان تھا تو پنجم اور ہشتم کو بڑے اچھے طریقے سے تیاری کروائی جاتی ۔ مس رابعہ کُرسی پہ براجمان تھیں ۔ وہ ہمیں ریاضی پڑھاتی تھیں ۔ وہ ہمیں اپنے باتوں سے فریشمنٹ دے رہی تھیں ۔

بچو ایکسٹرا بال پوائیٹ ہوں سب کے پاس ، مارکر بھی ۔، جیومیٹری اور کیلکولیٹر ساتھ لے کے جانا ، منہ میں چیونگم رکھ لینا اس سے موڈ فریش رہتا ہے ۔

مجھے پیپر سے زیادہ فکر تیار ہونے کی اور چیزوں کی ہوتی تھی ۔ جیومیٹری میں نے سب چیزوں سے بھرلی تھی ۔ جس میں سات آٹھ چیونگمز بھی تھیں ۔

پیپر آیا اور ہم نے حل کرنا شروع کردیا ۔ میں نے چیونگم منہ میں رکھ لی ۔ نگران دیکھتی رہی ۔ کچھ دیر بعد سُپریڈنٹ کمرے میں داخل ہوئی ۔

"آپ لاسٹ والی ٹھیک سے بیٹھیں شابشّ وہ شاباش کو کچھ الگ اسٹائل سے پھرتی سے بول رہی تھیں۔  ,,,,,,shabsh آخر میں شہ کی آواز نکالتی زیادہ ۔

 میں نے منہ بند کرلیا ۔ اب میں حرکت نہیں کررہی تھی ۔ سُپریڈنٹ نے میری شیٹ پہ دستخط کیے اور میرے پیچھے والی طالبہ کے دستخط کرنے لگیں تو مجھ پہ نظر پڑی ۔ میں نے اب چیونگم چبانا شروع کردیا تھا ۔

"کمرہ امتحان میں یوں بیٹھ کر منہ نہیں چلاتے۔ " میں نے اُن کی آواز سنی ۔ میں سمجھ نہ سکی ۔ مجھے لگا کہ شاید کوئی بات کررہا ہے تو اُس کو چپ کروانے کے لیے کہا ہے ۔ جب وہ چلے گئیں تو میری پیچھے بیٹھی ہم جماعت نے کہا کہ وہ تمہاری طرف دیکھ کر کہہ رہی تھیں ۔ اُس نے کلاس میں آکر سب کو بتایا ۔ کچھ دن یونہی میرا مزاق بنتا رہا ۔

# خیالی پلاؤ میں کبھی دم نہیں آتا ۔

میں اور تسمیہ کلاس لے کر واپس آرہی تھیں ۔ کلاس میں کل پرسوں سے ہلچل تھی ۔ سننے میں آیا تھا کہ میڈم کی بیٹی سکول آرہی ہے ۔ وہ ہماری ہم جماعت ہے ۔ وہ پرائیوٹ پڑھ رہی تھی ۔ سکول کا کبھی اُس نے رُخ نہ کیا تھا ۔ کبھی کبھار فنکشن پہ آجاتی تھی ۔ سکول میں جب بھی وظیفے کے فارم فل کیے جاتے تو اُس کا فارم آتا تو فارم پُر کرنے والی ضرور کہتیں کہ سکول تو آتی نہیں گھر بیٹھے عیش کررہی ہے ۔ میڈم ہمیں کہتی ہیں روز آؤ ، حاضری یقینی بناؤ اور خود کی بیٹی کو گھر بٹھا کر رکھا ہے ۔ اکثر کہتیں کہ گورنمنٹ کی پڑھائی اچھی نہیں ہے لیکن میڈم کہتیں کہ گورنمنٹ کی پڑھائی بہت اعلیٰ ہے ۔ لڑکیاں سرگوشیاں کرتیں کہ اگر اتنا ہی اچھا ہے تو اپنی ساری بیٹیاں کیوں نہیں پڑھاتی یہاں سے ۔

سکول میں ہر لڑکی خوش تھی ۔ تسمیہ اور میں چلتے جارہے تھے ۔ "ہم اُسے اپنی دوست بنالیں گے ۔ پھر ہمیں سکول میں کسی کا خطرہ نہیں ہوگا ۔ ہمارے نمبر بھی لگوادے گی ۔ " اُس وقت کچے ذہن تھے ۔ ہفتم کلاس کے بچے کہاں تک سوچ سکتے ہیں ؟ یونہی خیالی پلاؤ پکاتے رہے چند روز ،، سالوں پہ سال گُزر گئے لیکن میڈم کی بیٹی سکول نہ آئی ۔ یوں ہمارے خیالی پلاؤ کو دم نہیں آسکا ۔ میں اب سوچتی ہوں کہ اگر میڈم کی بیٹی آجاتی تو وہ کلاس میں ہم سے ہی دوستی کرتی ؟ کیا سب کچھ جو ہم نے سوچا تھا حقیقت ہوتا ؟ سب کچھ سوچ کر اب ہنسی آنے لگتی ہے ۔

# اگر کوئی کاغذ آپ کو ناپسند ہو تو اُس کو دکھانا ، چھپانا اور تلف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔

میں اور میرا خالہ زاد بھائی مدثر ایک ہی سکول جاتے تھے ۔ مدثر مجھ سے تین چار سال چھوٹا تھا ۔ میں پنجم کلاس میں اور وہ تیسری کلاس میں تھا ۔  سکول پرائیوٹ تھا ۔اس وجہ سے مہینے میں دس بارہ ٹیسٹ تو ہوہی جاتے تھے ۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ہم دونوں کے ٹیسٹ بالکل اچھے نہیں ہوئے تو ہم دونوں نے فیصلہ کرلیا کہ اپنی ٹیوشن ٹیچر کو نہیں دکھائیں گے ۔ کیونکہ دکھانا مشکل ہورہا تھا ۔دکھاتے تو ڈانٹ پڑتی ۔ ہم نے اُسے ایک بہت بڑے ٹرنک کے نیچے چھپا دیا ۔ ٹرنک میرے تایا ابو کا تھا.  کافی عرصے سے ہمارے گھر پڑا رہا ۔ ہم نے اُس کے نیچے چھپا دیے ۔ خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ کچھ دن بعد تایا ابو ٹرنک لینے پہنچ گئے ۔ جب سب نے مل کر ٹرنک اُٹھایا تو نیچے سے ٹیسٹ برآمد ہوئے ۔ تقریبا دس پندہ ٹیسٹ میرے تھے اور دس بارہ ہی مدثر کے ۔ میری بہنوں اور بھائی نے ٹیسٹ دیکھے ۔ جیسے ہی میں اور مدثر سکول سے واپس آئے ۔ ہمارے ہاتھوں کے طوطے اُڑے ہوئے تھے ۔ وہ میری طرف دیکھ رہا تھا اور میں اُسکی طرف ۔ سامنے ٹرنک نہیں تھا نا ہمارے ٹیسٹ ۔ آج خیر نہیں تھی ۔ ہم سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر آگئے ۔ گھر والے ہماری طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے اور ہم لوگ اُن کی طرف ۔ ۔ یعنی ہماری چوری پکڑی گئی تھی ۔

اسی طرح ایک بار پھر سے ٹیسٹ ہوئے ۔ ٹیسٹ بہت زیادہ بُرے ہوئے تھے ۔ ہم گھر میں کہیں نہیں چھپا سکتے تھے ۔ اور ذہن اتنے کچے تھے کہ ہم نے سوچا کہ کہیں ٹیوشن ٹیچر ہمارا بیگ نہ دیکھ لے ۔ راستے میں ایک نالا تھا ہم نے اپنے ٹیسٹ پھاڑ کر پانی میں پھینک دیے ۔ کچھ گیلے ہوئے کچھ تیرنے لگے ۔ نالا ہمارے ٹیسٹوں سے بھرگیا تھا ۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا اس مصیبت سے جان کیسے چھڑوائیں ۔

مجھے یاد پڑتا ہے ایک ایسا ہی چیپٹر ہے انگلش کا ۔ فرسٹ ائیر یا سیکنڈ ائیر کا ہے ۔ کتابوں کو تلف کرنا بہت مشکل ہے ۔ کیسے اُنھیں جلائیں ؟ بہائیں ؟ میں جب جب یہ دو واقعات ذہن میں لاتی ہوں اس بات کا اندازہ مجھے ہوجاتا ہے کہ مصنف پہ کیا بیتی ہوگی کیونکہ میرے ساتھ یہ سب ہوچکا ہے ۔ آج اگر میں اتنی پراعتماد ہوں تو صرف گورنمنٹ سکول کی وجہ سے ۔ وہیں سے مجھ میں اعتماد آیا ہے ورنہ پرائیوٹ سکول میں میں نے ایک ڈری ہوئی زندگی گزاری ہے ۔ بہت زیادہ ڈرا دھما کر ، یعنی بچوں پہ بہت زیادہ پریشر ڈال دیتے ہیں اور سرگرمیاں بھی بہت کم کرواتے ہیں ۔

# ولی وہ ہے جو اپنی غلطی سے سیکھے اور پھر دوسروں کو بھی سکھائے ۔

الہام میڈیکل کالج سے واپس آئی تھی تو ملنے کے لیے ہمارے گھر چلی آئی ۔ یونہی معمول کی باتیں ہونے لگی ۔ تو میں نے اندر ہی اندر رافضیت کا ٹاپک چھیڑ لیا ۔ الہام نے اسے وقت کا ضیاع کہا ۔اُس کا کہنا تھا کہ ان معاملوں میں پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔ پھر جب میں نے اُسے بتایا کہ ایک رافضی نے میرا ایمان خراب کرنے کی کوشش کی ۔ قرآن کی آیت کا غلط ترجمہ میرے سامنے بیان کیا تو وہ کچھ حد تک جذباتی ہوگئی ۔ " ان لوگوں کے منہ لگنے کی ضرورت کیا ہے ؟ یہ ایمان کو تباہ کردیتے ہیں اگر تم نے ان کا کوئی گروپ جوائن کیا ہے تو اُسے فورا ڈیلیٹ کرو ۔ " الہام تو جیسے جذبات کی رُو میں بہہ رہی تھی ۔ اُس نے پوری طرح سے میری بات ہی نہیں سُنی ۔

اُسکی طرح بیشتر لوگ ہونگے جن کا اگر ایمان خراب کیا جائے تو جب انھیں پتا چل جائے تو وہ فوراً تعلق قطع کرلیتے ہیں ۔ میں الہام کی بات سے متفق تھی کیونکہ بچوں کو ان معاملے میں نہیں پڑھنا چاہیے ۔ ان سے بات چیت صرف ایک معلم کرسکتا ہے ۔ جسے باقاعدہ طور پر معلومات ہو ۔ اگر کوئی کم عمر ان کو جاننے کی کوشش کرے تو اپنے اہلسنت سے ایک بار کنفرم ضرور کرے کہ آیا یہ صحاح ستہ سے لی گئی روایت ہے ۔ کہیں یہ روایت ضعیف تو نہیں ۔ کہیں اس کے مفہوم کچھ اور تو نہیں۔"

میں نے اُس کا پیچھا نا چھوڑا اُن کے گروپ سے مجھے سوالات ملتے تھے ۔ اہلسنت سے مجھے جواب ملتے تھے ۔ میں چاہتی تھی یہ سارا علم میں ناول میں ڈالوں تاکہ سب حقیقت جان سکیں ۔ اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ یوں میں نے اپنا علم ایک جگہ جمع کرلیا تاکہ پڑھنے والے راہنمائی حاصل کرسکیں ۔

# استاد سب جانتا ہے ۔ یہ اُس کا ظرف ہوتا ہے کہ وہ بعض اقات نظرانداز کردیتا ہے۔

میں ہفتم کلاس میں تھی ۔ گورنمنٹ سکول کی طالبہ تھی ۔ وہاں کے بچوں کو صفائی خود کرنا پڑتی تھی  ۔ تین بچے روزانہ صفائی کرتے تھے ۔ ایک بار ایسا ہوا کہ شانزاہ اور الہام نے سکول سے نکلنے میں دیر کردی یا پھر شاید کسی اور وجہ سے ، میں سکول بہت دیر سے پہنچ پائی ۔ کیونکہ جس دن صفائی کی باری ہوتی ہے تو انسان جلدی پہنچتا ہے ۔ میں نے دیکھا کہ میری دونوں ساتھیوں نے جھاڑو لگا دیا ہے ۔ اور پوچا میرے حصہ میں چھوڑ دیا ہے ۔ میں نے اُن سے کہا یہ تو ناانصافی ہے کہ دو بندے مل کر جھاڑو لگائیں اور ایک پورے کمرے میں پوچا لگائے ۔ اُس وقت پوچے سے سب کو چڑ تھی ۔ ایک تو ہاتھ کپڑے گیلے ہوجاتے تھے ۔ دوسرا ، دوسری کلاس سے مانگ کر لانا پڑتا تھا ۔ وہ دونوں ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے بیٹھ گئیں کہ ہم تو ہرگز پوچا نہیں لگائیں گی جو کرنا ہے اب سب صفاء کو ہی کرنا ہے ۔ مجھے پھر غصہ آگیا ۔ میں ڈیسک پہ بیٹھ گئی اور کہا میں نے اب اتنا سا بھی لگادیا تو کہنا ۔ ساری کلاس تماشا دیکھ رہی تھی ۔ کلاس میں کچھ چغل خور بھی موجود تھیں ۔ ایک نے کہا شانزہ تمہاری کزن کیسی ہے ؟ دوسری نے کہا پوچا تو یہ ہی لگائے گی ۔ تیسری نے کہا یہ سب سے الگ ہے ۔ چوتھی نے کہا اس کا مس کو بتائیں گے ۔" یوں تجسس بڑھنے لگا ۔

ایک طرف مجھے اُن دونوں کی طرف دیکھ کر انتہا کا غصہ اور دوسری طرف مس کا ڈر بھی ۔ لیکن شکست ماننے کو بھی بالکل تیار نہ تھی ۔ کیونکہ اب ساری کلاس میرے خلاف تھی ۔ کلاس میں جب بھی کوئی تماشا ہوتا تو سب بڑی دلچسپی سے دیکھتیں بعض اوقات تو اندر غلط بیانی بھی ہوجاتی ۔ مس نسرین اقبال کلاس میں داخل ہوئیں سب نے سلام دعا کیا ۔

" مس صفاء پوچا نہیں لگارہی ۔ "آتے ہی ایک شکایت مل گئی تھی ۔

"تو بھئی اُس کا نہ دل چاہ رہا ہوگا ۔ " مس نے انوکھا جواب دے کر سب کو حیران کردیا ۔ میرے ساتھ والی صفائیاں پیش کرنے لگیں پوری کلاس برخلاف ہوگئی تھی ۔

"کمرہ تو صاف ہی لگ رہا ہے ۔ خیر کوئی نا ایک دن نا بھی کرے تو خیر ہے ۔ "

ساری کلاس اور مجھ سے پہلے سکول آکر پہنچنے سے جان چھڑوانے والیوں کے منہ دیکھنے والے تھے ۔ مجھے دل سے بہت خوشی ہوئی ۔

آپ جانتے ہیں مجھے آج سمجھ میں آیا مس نے ایسا کیوں کیا ۔ کیونکہ اگر وہ میری سائڈ نہ لیتیں تو سارا دن مجھے اکیلی کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ۔ ساری کلاس ہنستی ۔ میرا دن اچھا نا گزرتا ۔ پڑھائی ٹھیک سے نہ کرپاتی ۔ میں یہ بات جان گئی استاد ، استاد ہی ہوتا ہے ۔

میرے اساتذہ کے نام ۔

قرآن پاک (شروع میں میں اپنی چچی کے پاس جاتی رہی ۔ اُس کے بعد ایک مدرسے میں چلے گئی ، باجی فیروزہ سے میرا قرآن مکمل ہوا ۔ "

سکول (مس ستارہ ، مس تسلیم ، مس اسماء ، مس روبینہ ، مس نسرین اقبال ، مس کوثر ،  مس نسیم ارشد ، مس فریحہ ، مس فرخندہ ، مس رابعہ ، مس نصرت ، مس سرفراز ، مس ساجدہ ، مس عابدہ ، مس طاہرہ ، مس عروج ، مس ثوبیہ ، مس میمونہ ، مس ماریہ ، مس مہناز ، اور سب سے بڑھ کر نہایت قابل احترام جناب افضل  )

کالج ( سر اصف ، مس مدیحہ ، مس سوہا ) میں کالج ریگولر نہیں جاتی تھی ۔ یہ اکیڈمی ٹیچرز تھے ۔

یونیورسٹی (میم عائشہ ، اقصی ، فاطمہ ، ثناء ، جناب طارق ، ولید ، ماجد ، احمد )شامل ہیں ۔

 

میری زندگی میں سب سے اچھا وقت جناب افضل ، جناب آصف علی اور المنشاوی (سپاہ صحابہ) کیساتھ گزرا ہے ۔

# ناراضگی کو دیرپا رکھنا نہیں چاہیے اس سے اُلٹا خود کا نقصان ہوتا ہے ۔

میں اُن دنوں یونیورسٹی میں تھی ۔ میری فرینڈ مریم کی بہن کی شادی تھی ۔ اُس نے سب کو انوائیٹ کیا ۔ مجھے بھی ۔ میں تیار تھی ۔ گھر میں آکے سب کو بتادیا ۔ یونی کا پوچھا گیا تو بتایا کہ چھٹی کرلوں گی ۔ ہمارے تمام بہنوں کو چُھٹی کی عادت نہ تھی ۔ کبھی قسمت سے چھٹی کرنے کو ملتی تھی ۔ میں اُن چند لڑکیوں میں سے تھی جس کی حاضری تقریبا مکمل ہوتی تھی ۔ اس کے برعکس شانزہ اور الہام کی آئے دن چھٹیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ حقیقت (مسکراہٹ ) ۔ میں چھٹی کیوں نہیں کرتی تھی وجہ بالکل سادہ سی تھی کہ میری ماں ہی تھی اور میرے والد بھی ۔ دونوں کو چھٹی سے انتہا کی نفرت ہے ۔ کبھی کرنے نہیں دی ہمارا دل چاہے یا نا چاہے ۔ کبھی کبھی تو سر افضل بھی حیران ہوتے اور یہاں تک کہ ایک دم سر آصف علی نے ہاتھ جوڑے کہ کہ ایک آدھ چھٹی تم بھی کرلیا کرو ۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے ۔ شام کو میری بہن کی مہندی تھی لیکن میں پڑھنے کے لیے آئی ہوئی تھی ۔ وہ ایک دم شاک تھے ۔ انہوں نے ڈانٹا بھی کہ کم از کم آج نہیں آنا چاہیے تھا ۔ مگر میرے گھر والے ہیں نا ۔ شادی سے زیادہ پڑھائی عزیز ہے ۔ مجھ سے کہنے لگے کہ تم جاو پڑھنے ہم لوگ ہیں نا مہمانوں کے لیے ۔ میری دوستوں کو بھی حسرت رہتی کہ میں کب چھٹی کروں ۔ خیر بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ؟ میں نے سب کو بتادیا کہ میں جاؤں گی ۔ سردیوں کی رات تھی ۔ میری دوست کا گھر میرے شہر میں ہی تھی ۔ پانچ منٹ کا راستہ تھا اگر تیز چلا جاتا تو ۔ ۔ ۔ ۔،کیونکہ میں ہر روز جاتی تھی تو اس لیے ایک رفتار بنی ہوئی تھی ۔جو شخص بہت دنوں بعد سفر کرے اُس کے لیے دس منٹ لگ سکتے ہیں ۔ رات ہوئی تو میں ایک دم بالکل تیار تھی ۔ شرارہ پہنا ہوا میک اپ کیا ہوا ۔ بالکل تیار ۔ سردیوں کی رات ، کہر پڑی ہوئی ، جس طرف میری دوست کا گھر تھا اُدھر پانی موجود تھا ۔میں نہیں جانتی کہ بارش ہوئی تھی یا نالوں کا پانی اُدھر آگیا تھا ۔ عین موقع پہ پاپا کا موڈ خراب ہوگیا کہنے لگے کہ اتنی رات ہے نہیں جانا اگر چلی بھی گئی تو میں گھر میں کب تک انتظار کروں گا ؟ پھر تمہیں وہاں سے لینے کے لیے جائیں اتنی سردی میں ۔ رہنے دو نہیں جانا ۔ مریم آف لائن تھی ۔ میں نے بہت کوشش کی ۔ کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا ۔ دروازہ زور سے بند کرتے ہوئے چیختی چلاتی میں کمرے میں آگئی ۔ موبائل بند کردیا ۔ کپڑے تبدیل کیے ۔ سردی لگ رہی تھی منہ دھوئے بغیر لیٹ گئی ۔ دل میں خیال آرہے تھے کہ مریم کو بُرا لگا ہوگا ۔ لیکن نہیں اُس سے زیادہ مجھے خود کے لیے برا لگ رہا تھا ۔کیونکہ یہ میری خوشی تھی میری انجوائمنٹ تھی جسے رد کردیا گیا تھا ۔ بستر میں لیٹی کافی دیر تک روتی رہی ۔ روتے روتے سوگئی ۔ صبح اُٹھ کر یونیورسٹی چلے گئی ۔ فیصلہ کرلیا تھا گھر والوں کو اچھا خاصا سبق سکھاؤں گی ۔ میرے پاس پیسے تھے وہاں جاکر کچھ کھا پی لیتی ۔ دو دن تو بےچاری میری دوست میرے لیے ٹیفن میں کھانا لاتی رہی میرے کہنے پہ ۔ گھر والے اب واقعی شاک ہوگئے تھے ۔ دوسری طرف اب میرے اندر بھی ہمت نہیں تھی ۔ کم از کم ایک ہفتہ میں نے گھر سے کچھ نہیں کھایا پیا ۔ بہانے بہانے سے گھر والے مجھے بُلانے کی کوشش کررہے تھے ۔ یوں آہستہ آہستہ میں نے سب بھلا دیا ۔ افسوس رہے گا کہ ایک یاد نہیں بن سکی ۔ پر بہت سے واقعات نے مجھے مضبوط ، لاپرواہ (چھوٹی موٹی باتوں سے فرق نہیں پڑتا ) بنادیا ہے ۔ میرے اندر سہنے کی طاقت کو بڑھادیا تھا ۔

# ڈر اعتماد کو کھو دیتا ہے ۔

سر افضل کے پاس پڑھتی تھی میں یہ تب کے واقعات ہیں ۔اُس وقت میٹرک میں تھی ۔ ہم میں سے زیادہ تر لڑکیاں اردو میڈیم تھیں اور چند انگلش میڈیم ۔ ایک کمرے میں چار قطاریں بنتی تھیں ۔ دو نہم کی اور دو دہم کی ۔میں سب سے پہلے نمبر پہ پہلی قطار میں بیٹھتی تھی ۔ دوسری قطار میں پہلے نمبر پہ میری کلاس فیلو اقصی بیٹھی تھی ۔ دوسری قطار کے عین سامنے ہی سر کی کُرسی موجود ہوتی تھی ۔ جب بھی سر سبق سننا شروع کرتے تو ہاتھ آگے بڑھاتے کتاب پکڑنے کے لیے تو مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوتا تھا؟ سر کو کتاب میں ہی پکڑاتی تھی ۔ ہمارے اور انگلش میڈیم مابین یہ جھگڑا بہت ہوتا تھا کہ پہلے کون کتاب پکڑائے ؟ انگلش والی کہتیں پہلے سبق ہم سنائیں گی اور اردو میڈیم والی کہتیں کہ ہم ۔ لیکن جو انگلش میڈیم والی آگے بیٹھتی تھی ۔۔ ۔یہ نہیں تھا کہ وہ نالائق تھی بس ناجانے وہ ڈر جاتی تھی ، جھجک جاتی تھی ۔ وہ منہ دیکھتی رہ جاتی اور میں سر کو سبق سنانے کے لیے کتاب پکڑا دیتی ۔ پیچھے جتنی بھی انگلش والی لڑکیاں ہوتیں وہ غصے میں آجاتیں کہ یہ کتاب کیوں نہیں پکڑاتی پہلے ۔ اُس کے پیچھے بھی ایک چھوٹا سا واقعہ ہوا تھا جس کی وجہ سے اقصی تھوڑا سا ڈر جاتی تھی ۔ ایک بار اُس نے سر کو کتاب پکڑائی لیکن اُس کو سبق بھول گیا تو سر نے تھوڑا ڈانٹ دیا کہ کتاب پکڑانے کی تم لوگوں کو زیادہ جلدی ہوتی ہے ۔ایسا کچھ واقعہ ہوا جس کے باعث وہ تھوڑا جھجک جاتی تھی ۔ سر شاید اس لیے مجھ سے کتاب پہلے پکڑتے تھے کیونکہ وہ انگلش والوں کو موقع دے دیتے تھے کہ وہ دہرا لیں اچھے سے ۔ میرے اندر اعتماد رہا ، کچھ اعتماد میرے ساتھ بیٹھی میری دوست دے دیتی ۔ اُسے مجھ سے بھی جلدی ہوتی اکثر سرگوشی کرتی کہ جلدی سے کتاب دے دینا  ۔۔ میں اُس کی بات پہ مسکرا پڑتی ۔

# واویلا بُری چیز ہے ۔ اس سے بچو اور دوسروں کو بھی تلقین کرو۔

میں ، مریم اور شانزہ اپنے پڑوسی کے گھر میں موجود تھے ۔ ایک انکل کی ڈیتھ ہوگئی تھی ۔ ہم تینوں کی عمر اُس وقت زیادہ نہ تھی ۔ میں اور شانزہ اُس وقت کلاس ہشتم میں تھیں ۔تو ہم بھی اُن کے گھر چلے گئے ۔ اُن کی بیوی ، بچے رو رہے تھے ۔ ہمیں بھی افسوس ہوا ۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک عورت گھر میں داخل ہوئی ۔ ابھی وہ گیٹ میں داخل ہی ہوئی تھی کہ اُس نے اچھا خاصا واویلا کرنا شروع کردیا ۔ ساری عورتوں کی توجہ اُس نے لے لی تھی ۔ ہم تینوں حیران ہوگئیں کہ اس عورت کو کیا ہوا ہے ؟ اُس کو دیکھ کے گھر والے مزید رونے لگے ۔  ہم نے واضح دیکھا کہ اتنا شور رونا دھونا اُن کے گھر والوں نے نہیں کیا جتنا اُس ایک عورت نے آکر پانچ منٹ میں کردیا تھا ۔

حیرت ہوتی ہے ۔ کمال کی حیرت ۔ کیا رونا دھونا میت سے پیار کا ثبوت دینے کے لیے کیا جاتا ہے ؟ یعنی دکھاوا ۔ عورتیں بھی بازار میں جاتی ہوئی باتیں کررہی ہوں گی فلاں بہت رو رہی تھی اُس کا زیادہ پیار لگتا مرحوم سے فلاں فلاں. ۔ ۔۔ بغیر تحقیق جو دیکھا اُسی پہ یقین کرلیا ۔

کوشش کریں واویلا سے بچیں کیونکہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ۔ آنکھ اور دل سے رونا اللہ کی طرف سے ۔

                               


Post a Comment

0 Comments