Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Mujhe Pyar Ka Badal Kar Do Ebook Novel By Aan Fatima

Mujhe Pyar Ka Badal Kar Do Ebook Novel By Aan Fatima

Mujhe Pyar Ka Badal Kar Do Ebook Novel By Aan Fatima

السلام علیکم!

عید سپر سیل آفر )   ----آن فاطمہ کے قلم سے شہکار ناول(

مجھے پیار کا بادل کردو

آن فاطمہ

Fedual system based

Police Based

Forced Marraige based

Glimpes of Novel

"لالہ آپ کو کچھ چاہیے کیا‍۔"

نورے اس کی گہری نگاہوں کے ارتکاز پہ گھبرا کر گویا ہوئی مگر وہ ہنوز اسے گھور رہا تھا۔ وہ اس کی عجیب سی نگاہوں سے گھبراتے خود پہ پھیلا ہوا  ڈوپٹہ مزید درست کرنے لگی۔اس کی نگاہیں نورے کو اپنے اندر تک اترتی محسوس ہوئی۔حورے کا منہ دوسری جانب تھا تبھی وہ دیکھ نا پائی۔

"حورے جاؤ تمہیں چاچی سائیں بلارہی ہیں۔"

اس کی تحکم بھری بھاری آواز پہ حورے اثبات میں سر ہلاتے بھاگنے والے انداز میں باہر کی جانب بڑھی تھی۔اس کی اچانک بات پہ نورے کے حلق میں کانٹے سے چبھنے لگے۔اس نے خوفزدہ ہرنی کی مانند نگاہوں سے اسے اپنی جانب آتا دیکھا۔

"لالہ آپ۔"

اس سے پہلے کہ وہ ناسمجھی سے کچھ بولتی فرزام نے بروقت اس کے گلابی لبوں پہ اپنی بھاری انگلی رکھتے پرشوق نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا جس کی  سانولی رنگت میں سرخیاں سی گھل گئی تھی۔

"شش!آج سے نو مور فرزام لالہ نورے۔صرف فرزام سائیں۔"

وہ ذومعنی انداز میں بولتے اسے بہت کچھ جتاگیا۔نورے کا دل کسی پتے کی مانند لزرنے لگا۔سپید پڑتے چہرے سمیت اس کی آنکھیں اس کی بات پہ پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔

"آپ یہ مجھ سے کیسی باتیں کررہے ہیں۔آج سے پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا۔"

وہ تڑپ کر بھیگے لہجے میں بولی تو اس کی آنکھوں کا بھیگا پن دیکھتے وہ ہولے سے مسکرایا۔وہ اس سے خوفزدہ تھی اور یہی چیز اسے لطف میں مبتلا کررہی تھی۔وہ دو قدم مزید آگے بڑھتے رہا سہا فاصلہ بھی سمیٹ گیا۔نورے کی آنکھوں کے سامنے بےساختہ اندھیرا سا چھایا۔

"کیونکہ آج سے پہلے میں نے تمہارے بارے میں ایسا کبھی سوچا نہیں تھا اب جب سوچ رہا ہوں تو تمہیں ٹوک دیا اسی لیے خاموشی سے یہ ٹسوے بہانا بند کرو اور اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے میرے لیے جلدی سے پراٹھا بناؤ بلکل اس دن جیسا۔"

وہ اس کے گال پہ گرنے والا آنسو پونچھتے مزے سے بولتے اس سے فاصلہ قائم کرگیا کیونکہ اب وہ بری طرح رونے میں مصروف تھی۔

"میں سب کو بتادوں گی کہ فرزام لا۔"

وہ غصے سے پھولی ناک سمیت روتے ہوئے دھیمے لہجے میں چیخی مگر اس کی سرد نگاہیں خود پہ محسوس کر وہ اندر تک سہمتے اپنے لبوں کو آپس میں باہم ملاگئی۔فرزام اس کے یوں خوفزدہ ہونے پہ داد دیتی نگاہوں سے اسے دیکھتے دلکشی سے مسکرایا۔

"لوگ دیدارِ یار مانگتے ہیں محبت میں مگر ہم دیدارِ یار کے ساتھ اس کے نرم ہاتھوں سے بنا کھانا بھی مانگتے ہیں وہ کیا ہے نا اسی چیز نے ہی تو ہمارا دل چڑایا ہے۔اب دل چڑانے کی سزا یہی ہے کہ آپ مابدولت کی زندگی میں ہمیشہ کیلیے شامل ہوتے ہمیں لذیذ کھانوں سے روشناس کرائیے۔"

وہ اس کے ہاتھوں کو نگاہوں کے فوکس میں لیتا گہرے لہجے میں بولتے اس کو حلق تر کرنے پہ مجبور کرگیا۔اس نے اپنی انگلیاں بےدردی سے چٹخائی اور خشک پڑتے لبوں کو تر کرنے لگی۔

"مگر میرا ہاتھ جلا ہوا ہے۔"

وہ جان چھڑانے والے انداز میں بولی۔فرزام جو باہر کی جانب بڑھ رہا تھا چونک کر اس کی جانب متوجہ ہوا اور بھاری قدم اٹھاتے اس تک پہنچا۔

"تمہارے ہاتھ میرے لیے کبھی بھی جلے نہیں ہونے چاہیے نورے۔میں جب کہوں جس وقت کہوں کھانا مجھے چاہیے وہ بھی وقت پہ۔"

وہ اس کا ہاتھ نرمی سے تھام کر اس کے زخم کا معائنہ کرتے ہوئے بولا جو اب کافی حد تک بہتر تھا۔

Glimpes of Novel

مجھ جیسی مغرور نک چڑھی اور زبان دراز لڑکی تو آپکی کبھی پسند تھی ہی نہیں تو آج پھر کیسا محسوس کررہے ہیں مجھے اپنی بیوی کے روپ میں دیکھ کر مسٹر برشام بلوچ۔

وہ دونوں ہاتھ سینے پہ باندھتے اس کے مقابل آتے طنزیہ لب و لہجے میں گویا ہوئی۔برشام نے ایک غلط نگاہ  اس پہ ڈالی کون کہ سکتا تھا کہ وہ ایک دن کی دلہن جو اس کے مقابل آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے کھڑی ہے۔

میں فلحال کسی بھی قسم کی جواب دہی کی حالت میں نہیں ہوں مجھے یہی بات ہضم کرلینے دو کہ تم میرے کمرے میں اور میری زندگی میں ایک حیثیت سے شامل ہوچکی ہو۔

وہ نہایت سکون سے اس کی بات کو ایک جانب کرتے اپنی بات اس کے سامنے رکھتے ہوئے بولا اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔رنم نے نہایت ناگواری سے اس کی جانب دیکھا۔

اپنا یہ فضول کا ایٹیٹیوڈ مجھے تو دکھانے کی بلکل ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں لعنت بھیجتی ہوں اس حویلی کے ایک ایک مرد پہ۔نفرت ہے مجھے تم سب مردوں سے جو عورتوں کو صرف اپنے پیروں کی جوتی سمجھنا جانتے ہیں۔تم سب کیلیے عورت فقط ایک کھلونا۔

رنم بس!مزید ایک لفظ بھی مت اپنے منہ سے نکالیے گا ورنہ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے میں ایک لمحہ نہیں لگے گا۔

وہ اس کی الفاظوں کی تاثیر سے دھواں دھواں ہوتے چہرے سمیت شہادت کی انگلی اٹھاتے تنبیہی لہجے میں گویا ہوا۔رنم جو باقاعدہ غصے کی بدولت ہانپ رہی تھی ناگواری سے سر جھٹک کر رہ گئی۔

میں تو چاہتی ہوں آپ کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو اور آپ جیسے انسان کا بھی چہرہ سب کے سامنے آئے کہ اپنی انا کی تسکین کے خاطر آپ بھی عورت پہ ہاتھ اٹھانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں مگر میری ایک بات کان کھول کر سن لیں میں ان عورتوں کی طرح نہیں ہوں جو اپنا گھر اور عزت بچانے کی خاطر مردوں کے نیچے دب کر رہ جاتی ہیں میں بولوں گی میں چلا چلا کر پوری دنیا کو بتاؤں گی کہ ایسے مرد مرد کہلانے کے لائق نہیں ہوتے۔میں اپنی حق تلفی نہیں ہونے دوں گی۔

وہ بھی جواب میں اس کی سیاہ شعلے اگلتی نگاہوں میں اپنی سنہری آنکھیں گاڑھتے دھیمے لہجے میں غرائی۔برشام کے تنے ہوئے تاثرات فوراً سے بیشتر ڈھیلے پڑے تھے۔اس نے مسکراتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔

فلحال اپنی انا کی تسکین میں نہیں تم کررہی ہو رنم۔اپنی اس زبان کو قابو میں نا رکھ کر اور میرے کردار کی دھجیاں اڑا کر۔ویل مجھے تمہاری ان بےتکی باتوں سے رتی برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔

وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا۔رنم کو حیرت ہوئی جو چہرہ کچھ دیر قبل غصے سے سرخ پڑرہا تھا اب وہاں قدرے سکون تھا۔

مجھے بھی آپ کی موجودگی اور غیر موجودگی سے بلکل فرق نہیں پڑتا۔نفرت کرتی ہوں میں آپ سے۔اپنی ماں کی خوشی کی خاطر اس رشتے کو قبول کیا ہے مگر نبھاؤں گی کبھی نہیں کیونکہ آپکی اتنی اوقات نہیں کہ رنم بلوچ آپکو عزت دے۔آپ ہر چیز میں مجھ سے بدتر ہیں رنگت میں بھی اور کردار میں بھی۔

وہ ذہرخند لہجے میں بولتی اس کی ذات کے پرخچے اڑاگئی تھی۔اس کی بات پہ برشام کی رنگت لٹھے کی مانند سپید پڑگئی۔دل کی دھڑکن باقاعدہ سست پڑی۔چند ساعتوں بعد اس نے خود کو سنبھالتے ایک بار پھر سکون بھرا خول خود پہ چڑھاتے رنم کو ساکت کردیا۔

ویسے یہ امتزاج بلکل بھی اچھا نہیں ہے رنم کہ تم مجھے آپ بھی کہو اور یوں مجھے بےعزت بھی کرو۔

وہ گہری نگاہوں سے اس کی جانن دیکھتے دو قدم اس کے نزدیک بڑھا۔رنم کی آنکھوں میں تحیر کے بادباں کھلے تھے۔برشام نے اس کی نرم و نازک مومی کلائی کو  اپنی مضبوط گرفت میں مقید کیا۔رنم کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔

Orginal Price/650

After Discount AvailablePrice/500

To order this ebook

jazz cash

easypaisa

���

03357500595

آفیشل پیج پر بکنگ کیلئے

Digital Books Library

Booking Last Date 5 May



Post a Comment

0 Comments