Kambakkht Ishq Mera Romantic Novel by Mala Shah

Kambakkht Ishq Mera Romantic Novel by Mala Shah

Kambakkht Ishq Mera Romantic Novel by Mala Shah

Novel Name : Kambakkht Ishq Mera
Writer Name: Mala Shah
Category : ROMANTIC NOVELS,Secret Agent Base Novels,Revenge Based Novels,Teacher Student Based Romantic,Rude Hero Based Novels,
Novel status : Complete Novel

ہاں تو ٹھیک ہے حازم کو فون کرکے یہاں بلا کے اگر وہ آگیا تو اسکے ساتھ نکاح کردونگی ورنہ میں اپنی مرضی سے کرونگی زرینہ بیگم نے ظفر صاحب کو جواب دیا تو مشعل فوراً اپنے بیگ سے فون نکال کر حازم کو کال کرنے لگی ۔۔۔

بیل مسلسل جا رہی تھی مگر آگے سے کوئی کال نہیں اٹھا رہا تھا اور یہاں مشعل کا ضبط ٹوٹ رہا تھا پورے محلے کے سامنے کو سامانِ تماشہ بنی کھڑی تھی ۔۔

ہیلو ہیلو حا حازم ممم میں مشعل بالآخر فون اٹھا لیا گیا ۔۔

حازم مجھ سے نکاح کر لو ورنہ میں مر جائوں گی مشعل کو اپنی آواز کھائی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔

واٹ آر یو آل رائٹ میں اس وقت اپنے بھائی کے ساتھ ہاسپیٹل میں ہوں اور تم مجھے نکاح کا کہہ رہی ہو ۔۔

دیکھو حازم تم تم تو ممم مجھ سے۔ ممم محبت کرتے ہو نا خدارا مجھ سے نکاح کرلو مشعل بار بار دو رہی تھی ۔۔

دیکھ مشعل میں ابھی اپنے پیروں پہ کھڑا نہیں ہوں میں ابھی سٹوڈنٹ ہوں اور تم تو میری منگیتر ہو سب جانتی ہو اور ابھی انتظار کرو تین سال بعد شادی کرلوں گا تم سے حازم نے احسان کرنے والے لہجے میں کہا اور فون بند کردیا ۔۔

دیکھا کوئی بھی نہیں ہے نا تیار تجھ جیسی سے شادی کرنے کیلیے وہ تو شکور صاحب کا احسان ہے اے افضل جس مسجد سے مولوی صاحب کو بلا کر لا میں ابھی اسکا نکاح کروائنگی ۔۔

یہ انتہاِ ضبط تھی ارشمان خان کیلیے ۔۔

مشعل کا نکاح مجھ سے ہوگا ارشمان نے گھر میں داخل ہوتے با آواز بلند کہا تو سب اسکی جانب متوجہ ہوئے ۔۔

تھری پیس سوٹ میں ہاتھوں میں مہنگی گھڑی سرخ سفید رنگت اور ارشمان خان کے پیچھے موجود گارڈز کو دیکھ زرینہ بیگم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔۔

تم کون ؟ زرینہ بیگم نے اپنا لہجہ نرم کرتے ہوئے کہا ۔۔

میں آپ کو یہ سب بتانا ضروری نہیں سمجھتا آپ یہ جان لیں کے میں مشعل سے نکاح کرنا چاہتا ہوں اور آپ کی اس نکاح کیلیے جو بھی شرط ہوگی مجھے منظور ہے ارشمان نے زرینہ بیگم کا منہ کھلتا دیکھ اپنی بات مکمل کی ۔۔

ہمم ٹھیک ہے نکاح میں تمہارا کروا دونگی اس کیلیے میری شرط ہے وہ میں تمہیں اکیلے میں بتائونگی جائو صفیرہ مشعل کو اندر لے کر جائو اور دوپٹہ صحیح سے اوڑائو زرینہ بیگم نے اپنی بھانجی سے کہا تو وہ مشعل کو اٹھا کر اندر کے گئی جو کہ سب کے بعد صرف ایک زندہ لاش کی مانند ہو چکی تھی مشعل کا خود سے نفرت ہو رہی تھی ۔۔

بیٹھو لڑکے زرینہ بیگم نے تخت کے پاس پڑی ہوئی لکڑی کی کرسی پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔

اسکی ضرورت نہیں آپ شرط بتائیں ارشمان نے دو ٹوک لہجے میں کہا ۔۔۔

دس لاکھ چاہیے مجھے نکاح کیلیے زرینہ بیگم نے اپنے پتے کی بات بہت آہستہ کی تاکہ محلہ والیاں انکی لالچ کا اندازہ نا لگا سکیں ۔۔۔

ہنہ ارشمان نے ہنکارا بھرا ۔۔

امجد چیک بک دو ارشمان نے اپنے پیچھے کھڑے امجد سے کہا تو اس نے چیک بک ارشمان کی طرف بڑھا دی ۔۔

ارشمان نے بیس لاکھ کا امائونٹ لکھ کر چیک زرینہ بیگم کی طرف بڑھایا ۔۔

آپکی مانگی ہوئی قیمت سے دگنا ہے یہ اور افسوس آپ نے اتنی کم قیمت لگائی میری ہونے والی بیوی کی ارشمان نے طنزیہ کہا اور اپنا کوٹ اتار کی ہاتھ میں پکڑ لیا ۔۔

سارے محلے کے عورتیں ارشمان کو اور اسکے گارڈز کو دیکھ رہی تھیں ۔۔

ارے دیکھو بہن کیسی قسمت ہے اس مشعل کی کتنا امیر آدمی ملا ہے ایک عورت نے جملا کسا ۔۔۔

بہن مجھے تو لگتا ہے امیر زادے کو پھنسایا ہے اس مشعل نے معصوم صورت سے دوسری عورت نے اپنا حصہ ڈالا ۔۔

ویسے ایک بات تو ہے اپنا حسن کیش کروایا ہے اس مشعل نے تیسری عورت نے بھی بیچ میں کہا ۔۔۔

بس اب کوئی بھی مشعل کے بارے میں ایک لفظ منہ سے نہیں نکالے گا ورنہ میں بھوک جائوں گا کے سامنے کون ہے ارشمان جو کب سے انکی باتیں سن رہا تھا غصے کو ضبط کرتا ہوا بول پڑا ۔۔

ارے جائو میاں ہم کونسا اس بھگوڑی کے زکر کے پیچھے مرے جارہے ہیں ہم جا رہے ہیں اپنے گھر مگر ہاں زرینہ یہ لڑکی دوبارہ نا آئے یہاں زلیخا مائی نے کہا اور ساری عورتیں ایک ایک کرکے نکل گئی ۔۔۔

اماں قاضی آگئے افضل نے گھر میں داخل ہو کر کہا۔۔۔

صفیرہ مشعل کو لے آ باہر زرینہ بیگم نے آواز لگائی تو صفیرہ مشعل کو باہر لے آئی جو کسی پتلی کی طرح چل رہی تھی ۔۔

کون کہتا ہے بھائی برے ہوتے ہیں میں تو اپنے چاروں بھائیوں کی شہزادی ہوں اپنے ماموں کی جان ہوں بابا کی ملکہ ہوں پر امی وہ بھی تو پیار کرتے ہیں تبھی تو مارتی ہیں مشعل کے کانوں میں اپنی بچپن کی کہی ہوئی باتیں گونج رہی تھیں اسکے چاروں بھائی اس تماشے کو خاموشی سے دیکھ رہے تھے اسکا جان سے عزیز باپ بھی اسکے معاملے میں خاموش تھا اس نے یہ سب صرف کہانیوں میں پڑھا تھا اسے کہاں معلوم تھا یہ حقیقت میں کبھی اسکے ساتھ ہوگا ۔۔

مشعل میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں تم میری جان ہو زندگی ہو حازم کے محبت بھرے جملے کتنی ہی باتیں اس وقت اس معصوم کے ذہن میں تھی ابھی ایک مہینہ تو ہوا تھا اسے اٹھارہ سال کا ہوئے ۔۔۔

مشعل ملک ولد ظفر ملک آپ کا نکاح ارشمان خان ولد زریان خان سے با حق مہر پچاس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟ مولوی صاحب نے مشعل سے دوسری بار پوچھا۔۔۔

زرینہ بیگم کو تو حق مہر کی رقم سن کے ہی سینے پہ سانپ لوٹتے محسوس ہو رہے تھے ۔۔

اور اوپر سے مشعل کا کوئی جواب نا دینا انکا غصہ بڑھا رہا تھا ۔۔

انہوں نے مشعل کی بازو پہ ایک چٹکی کاٹی تو وہ اپنے خیالوں سے باہر آئی اور قبول ہے کہا ارشمان نے زرینہ بیگم کی حرکت دیکھ لب بھینچے تھے ۔۔

نکاح کے بعد ارشمان نے مشعل کو پکارا جو خود میں ہی گم تھی ۔۔

مشعل چلیں ارشمان نے مشعل کے بازو کو آرام سے چھوا ۔۔

آہ مشعل کا چہرہ جو ویسے ہی سوجا ہوا تھا درد کے وجہ سے وہ بلبلا اٹھی ۔۔۔

ارشمان کو مشعل کا درد سے کراہنا تکلیف پہنچا گیا تھا ۔۔

اگر آئندہ کے بعد آپ میری بیوی کے پاس بھی نظر آئی تو یہ ہاتھ جن سے آپ نے میری بیوی پہ ظلم کیے ہیں ان کو توڑ دونگا ارشمان غصے سے زرینہ بیگم کی طرف دیکھ کر بولا ۔۔

ارے جائو بہت دیکھے تم جیسے اب اس غلاضط کو لے کر نکلو میرے گھر سے زرینہ بیگم اب بھی باز نا آئی ۔۔

ارشمان خاموشی سے مشعل کو اپنے ساتھ لگائے ہوئے گاڑی تک لایا اور اسے اندر بیٹھنے کا کہا تو وہ خاموشی سے بیٹھ گئی ۔۔

مشعل تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں میں ہوں نا ارشمان نے ڈرائیورنگ سیٹ پہ بیٹھ کر مشعل سے کہا ۔۔

کاش آپ نا ہوتے ارشمان یہ سب آپکی وجہ سے ہوا میں بدنام ہوگئی میرے ماں باپ نے مجھے چھوڑ دیا میرے بھائیوں نے مجھ سے منہ موڑ لیا میں جس کی منگ تھی اس نے مجھے ٹھکرا دیا سارے زمانے میں بدنام کردیا کیوں کیوں کیا ؟

مشعل بولنے پہ آئی تو پھٹ پڑی تھی اور غصے سے ارشمان کا کالر دبوچ لیا ۔۔

یہ یہ نشان دیکھیں مشعل نے اپنے بازوؤں کے نشان ارشمان کو دکھائے اور پھر اپنے کندھے کے یہاں دیکھیں مجھے درد ہوتا تھا تکلیف ہوتی تھی میں روتی تھی نا تو ان کو سکون ملتا تھا لیکن آج جتنا درد ہوا ہے اتنا پہلے کبھی نہیں ہوا کیوں کیوں آئے آپ میری زندگی میں ارشمان کیوں آگے زندگی کیا کم جہنم تھی میں مشعل ملک جو شو کرواتی ہی کہ وہ اپنی زندگی میں بہت خوش ہے ہر وقت ہنستی ہوں کہیں کسی کو پتا نا چل جائے میں تکلیف میں ہوں پر پتا ہے میں بہت تکلیف میں ہوں میرا دل چاہتا ہے میں مررررر

مشعل کے باقی الفاظ ارشمان کے منہ میں دم توڑ گئے اسنے کافی دیر بعد مشعل کے لبوں کو نرمی سے چھوڑا ۔۔۔

مشعل غصے اور شرم کے ملے جلے تاثرات سے ارشمان کو دیکھ رہی تھی جو صرف مسکرا رہا تھا ۔۔۔

تمہاری زندگی میں اب کوئی تکلیف نہیں آئے گی میں ہوں ارشمان نے مشعل کو زبردستی خود میں بھینچا مشعل نے بہت کوشش کی خود کو چھڑانے کی مگر اسکی گرفت سے نکل پانا اس معصوم کیلیے کہاں آسان تھا تھک کر وہ اسکی بانہوں میں ہی آنکھیں موند گئی ۔۔۔

Kitab Nagri start a journey for all social media writers to publish their writes.Welcome To All Writers,Test your writing abilities.
They write romantic novels,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels.
Kambakkht Ishq Mera Romantic Novel by Mala Shah is available here to download in pdf form and online reading.
Click on the link given below to Free download Pdf
Free Download Link
Click on download
give your feedback

ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
 اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں  👇👇👇
 


Direct Link


Free Pdf Download Link


FoR Online Read

ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول

 کیسا لگا ۔ شکریہ


3 Comments

  1. Wow 😲 It is Great Novel

    ReplyDelete
  2. Mala Shah is great 👌 writer

    ReplyDelete
  3. بہت معذرت کے ساتھ حقیقت سے بہت دور ہے یہ ناول اور بہت مبالغہ آرائی ہے ہر معاملے میں

    ReplyDelete
Previous Post Next Post