Pachtawa Written By Mehak Ghafoor

Pachtawa Written By Mehak Ghafoor

Pachtawa Written By Mehak Ghafoor

" پچھتاوا"

مہک غفور(ایم-ایس سکالر)

 

رات کافی ہو چکی تھی، فاطمہ گھڑی کی سوئیوں پر نظر ٹکائےصحن میں بیٹھی ہوئی تھی۔ جیسے ہی دستک ہوئی فاطمہ  دروازہ کھولنے کے لیے بھاگی۔

" ساحل کہاں رہ گئے تھے آپ ؟ میں کب سے آپکا انتظار کر رہی ہوں۔"

" میں تمہارے کسی بھی سوال کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا۔چلو اب ہٹو میرے راستے سے." ساحل نے بے دردی سے  فاطمہ کو دھکادیتے ہوئے کہا۔ فاطمہ سہمی سی دروازے پہ کھڑی رہ گئی،اور ساحل اپنے ساتھ ایک لڑکی کو لیے گھر کے اندر داخل ہو گیا۔

" آمنہ دیکھو کون آیا ہے۔"

"السلام علیکم! بھائی یہ کون ہے؟" آمنہ نے حیرانگی سے پوچھا۔

"ساحل آپ نے بتایا ہی نہیں کہ آپکے ساتھ کوئی مہمان  آرہیں ہیں۔آپ مجھے کال ہی کر دیتے تاکہ میں کچھ کھانے کا انتظام کر دیتی۔" فاطمہ نے ڈرتے ہوئے ساحل سے کہا۔

"نایاب کوئی مہمان نہیں ہے؛بلکہ اس گھر کی فرد ہے۔"

"گھر کی فرد سے کیا مراد ہے بھائی آپکی؟" آمنہ نے سوال کیا ۔

"میں نے  نایاب سے نکاح کر لیا ہے۔" ساحل کی بات سنتے ہی آمنہ اور فاطمہ کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ ایک ہی پل میں فاطمہ کا بسا بسایا گھر اُجڑ گیا تھا۔ ایک عورت سب کچھ برداشت کر لیتی ہے مگر اپنے شوہر کو کسی اور کے ساتھ برداشت کرنا بہت مشل ہوتا ہے ۔

"ساحل اب آپ بھی اپنا وعدہ پورا کریں،فاطمہ کو طلاق دیں۔" نایاب نے شوھر کے بازو سے لگ کر کہا۔

"نایاب! یہ لو طلاق کے پیپر اور اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی سوتن کو دے کر اس رشتے سے آزاد کر دو۔" ساحل نے مکروہ ہنسی کے ساتھ پیپرز نایاب کو پکڑائے۔

"نہیں ساحل آپ ایسا نہیں کر سکتے؛میں کہاں جاؤں گی؟؟ میرا اس دنیا میں کوئی بھی نہیں؛میں آپکی غلام بن کے رہ لوں گی مگرمیرے ساتھ ایسا ظلم نہ کریں۔" فاطمہ نے روتے ہوئے ساحل کی منت سماجت شروع کردی ۔

مگر ساحل نے کوئی بات سننا ضروری ہی نہیں سمجھا۔ اُس کی آنکھوں پر بس نایاب کی باندھی ہوئی پٹی تھی جو اُسے کچھ بھی دیکھنے سننے نہیں تھی دے رہی تھی۔

فاطمہ اور آمنہ کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے نایاب اور ساحل کمرے میں چلے گئے۔  دیر تک فاطمہ آمنہ کے گلے سے  کر روتی رہی ۔ اور شکوہ کرتے رہی کتنی اداس زندگی ہے میری؛  کبھی کوئی خوشی میسر ہی نہیں آئی مجھے۔ نہ جانے کب روتے روتے فاطمہ کی آنکھ لگ گئی  اور آمنہ اپنے کمرے میں چلی گئی کہ  کچھ دیر فاطمہ آرام کر لے۔ جس کی زندگی اجڑ چکی تھی اس کو آرام کہاں آ رہا تھا۔

صبح جب آمنہ فاطمہ کے کمرے میں گئی تو فاطمہ بے جان فرش پر پڑی تھی۔ رات کو پتہ نہیں کیا گزری ہو گی اُس پر؛کیا سوچتی رہی ہو گی اکیلی ۔  ان سوچوں اور الجھنوں کے طوفان  نے فاطمہ کو بے جان کر دیا۔ وہ ان تمام تکلیفوں سے آزاد ہو گئی جو اس کے شوہر نے اس کو دی تھی۔فاطمہ کے اس دنیا سے چلے جانے سے کسی کو کوئی فرق نہ پڑا سوائےآمنہ کے۔ نایاب اور ساحل کو  فاطمہ کے جانے کا کوئی دکھ نہیں تھا، بلکہ وہ تو خوش تھے کہ چلو جان جھوٹی ۔

نایاب اور ساحل ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہے تھے،کہ ایک دن  ساحل کی کار کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ اس حادثے میں اُسکی جان تو بچ گئی، مگر وہ اپنی ٹانگوں سے معذور ہو گیا۔ نوکری چھوٹ گئی،جو جمع پونجی تھی وہ ساحل کے علاج میں خرچ ہو گئی۔ نایاب نے ساحل کے ساتھ شادی صرف اُسکے سٹیٹس کی وجہ سےکی تھی۔ جب اس نے ساحل کا یہ حال دیکھا  تو ساحل کو بے یارو مددگار چھوڑ کر چلی گئی۔ اور جب ساحل نے نایاب کا اصلی چہرہ دیکھا تو وہ اپنے کئے پر بہت پچھتایا۔ مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔اب وہ اپنی بہن کے سہارے تھا۔ اُس  نے جو کچھ بھی فاطمہ کے ساتھ کیا تھا آج وہ اس کے ساتھ ہو رہا تھا۔ اب اسے فاطمہ کی قدر ہو رہی تھی ۔  مگر وہ کہتے ہیں نا قدر تو وہ ہوتی ہے جو انسان کی زندگی میں کی جائے؛ جو اس کے جانے کے بعد کیا جائے اسے قدر نہیں پچھتاوا کہا جاتا ہے۔

ایک دن ساحل کھڑکی کے پاس بیٹھا باہر کچھ دیکھ رہا تھا جب اچانک آمنہ نے اس سے سوال کیا ۔

 "بھائی! اتنے غور سے کیا دیکھ رہے ہیں؟"

"دیکھ رہا ہوں کہ میری قسمت بھی ان درختوں جیسی ہے ۔"

"کیا مطلب بھائی؟" آمنہ نے الجھ کر دوبارہ سوال کیا۔

"اس درخت کو دیکھو آمنہ، جب اسکی زندگی میں بہار آتی ہے تو اس درخت کو سر سبز و شاداب بنا دیتی ہے؛ اور جب یہ بہار جاتی ہے اور خزاں اپنے آنے کی دستک دیتی ہے، تو یہ سر سبزو شادابی زرد پتوں کی صورت اختیار کر جاتی ہے؛ پھر یہ زرد پتے اس  تیزی کے ساتھ گرتے ہیں کہ،اِس درخت کو بے رونق کر جاتے ہیں؛ اُس درخت کی زندگی میں دوبارہ بہار تو آسکتی ہے؛مگر لاکھ کوششوں کے باوجود بھی وہ زرد پتے دوبارہ سر سبز نہیں ہو سکتے۔ ٹھیک اِسی طرح فاطمہ میری زندگی کی شادابی تھی؛مگر میں نے اُسکی ذرا قدر نہ کی، اور اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی زندگی سے خوبصورت سرسبز شادابی کو نکال کر زردپتوں کو آنے کی دعوت دی۔ اب میری لاکھ کوششوں کے باوجود فاطمہ کبھی وآپس نہیں آسکتی۔" نہ چاہتے ہوئے بھی ساحل کی آنکھوں سے زاروقطار آنسو گررہے تھے اس کے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہ بچا تھا۔


Post a Comment

Previous Post Next Post