Zard Pattey Written By Areeba Mazhar

Zard Pattey Written By Areeba Mazhar

Zard Pattey Written By Areeba Mazhar

عنوان:۔ زرد پتے

نام :۔اریبہ مظہر

شہر کا نام:۔  سلانوالی ضلع سرگو دھا

 

زرد پتوں کا دکھ جانتے ہوں نہیں نہ کیوں کہ یہ زرد پتے ان سے بھی دھتکار دیۓ جاتے ہیں جو انکو پال کر سبز سے زرد ہونے تک خود میں سموۓ رکھتا ہے مگر وہی درخت زردی مائل رنگت پر انہیں قبول نہیں کرتا بلکہ انکو گرا کر خود کو بوجھ سے ازاد کرا لیتا ہے یہ شخص بھی بیٹھا ندی کنارے اپنی گزری حیات پر نادم و شرمندہ تھا اسکی مثال بھی زرد پتوں جیسی تھی روحیل صاحب گھر کے لاڈلے اور چھوٹے بیٹے تھے سارا بچپن غربت میں گزرا گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے ترقی کی اور اپنے بڑے دو بھائیوں کو انکی اولادوں سمیت پالا اور اب تک انکا خیال رکھتے تھے روحیل صاحب نے اپنے والد سے پسند کی شادی کا اظہار کیا مگر نہ مانے اور انکی شادی اپنی  بھتیجی سے کرادی

رافیہ بیگم خوش تھی مگر روحیل صاحب نہیں تھے خیر انہوں نے اس کو مقدر سمحھ کر سمجھوتا  کرلیا انکی ایک بیٹی تھی اور زندگی کو دوبارہ موقع دیا مگر اچانک اک دن انکے ہنستے بستے خاندان کو سازش کی نظرکردیا گیا

ابو جان !ابو جان ۔۔۔۔ یہ دیکھے روحیل کے کارنامے  عمرکے اس حصے میں جب اس کی بچی جوان ہے وہ اب بھی اس غیرعورت کے چکرمیں ہے اورملاقاتیں کرتا ہے ۔۔۔۔جاوید صاحب اور قادر صاحب چیختے ہوئے اپنے والد سے کہنے لگے اور ساتھ ہی جعلی تصاویر بھی دیکھایں جس پر انکے والد تعیش میں أ گئے

روحیل ،روحیل  کہاں ہو ؟ ابھی کے ابھی ہماری بات سنو۔۔۔

وہ اپے سے باہر ہوتے ہوۓ  کہنے لگے

روحیل اپنی بیوی بیٹی سمیت حاضر ہوۓ لاونج میں کھڑے ہو گئے

وہ کڑک دار اواز میں بولے

"یہ دیکھو رافیہ یہ دیکھو اپنے شوہر کے کرتوت  ،یہ روز دیر سے اس لئے اتا ہے کیوں کہ یہ اس غیر عورت کے پاس جاتا ہے اس سے تعلق رکھا ہوا  اس نے سب سے چھپا کر دیکھو لٹ گئی میری بھتیجی خدا غارت کرے روحیل میں تمہیں ابھی اور اسی وقت عاق کرتاہوں اس گھر اور گھر کے رہنے والوں سے تمہارا کوئی تعلق نہیں دفع ہو جاو میری نظروں سے اوجھل ہوجاؤ '

انکی اواز سارے گھر میں گونج رہی تھی اور سب سکتے کے عالم میں تھے

مگر جاوید اور قادر کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی کہ اب ساری جائیداد ان دونوں کی تھی انکا منصوبہ کامیاب ٹھہرا

روحیل صاحب کچھ نہیں بولے کیونکہ وہ سب کی نظروں میں وہ بے اعتباری دیکھ چکے تھے سو چپ چاپ چلے گئے ہمیشہ کے لئے ان سب سے دور بس گئے وہ ہر روز ندی کے کنارے بیٹھ کر گھنٹوں سوچتے رہتے پھر خود کو کمرے میں بند کر لتیے اور ذکر اذکار میں مصروف رہتے وہ ان زرد پتوں کی طرح تنہا رہ گئے جو دوسروں کو بچانے میں خود کو گنوا دیتے ہے

انکی زندگی کو انکے اپنوں نے بہار سے خزاں میں بدل دیا دولت کی لالچ میں انہوں نے سگے بھائی کو گنوا دیا اور خود کو فاتح سمجھ بیٹھے اصل تو خسارے میں تھے وہ لوگ ہمیشہ کے لئے

وقت کا حساب انکو مات دے گا روحیل صاحب نے ہمیشہ خود کو نظر انداز کر کے دوسروں کی زندگیوں میں خوشیاں دیں پر افسوس انکے سگے رشتوں نے انکی زندگی برباد کردی

زرد پتوں کی طرح گردراہ میں بکھیر دیا اور مڑ کر انکا پتا معلوم نہ کیا خود کی دنیا میں مطمئن مگر تنہا رہنا سیکھ گئےہاۓ لیکن ہی سب تکلیف دہ بہت ہوتا مگر تھی تو اٹل اور واضح حقیقت ان زرد پتوں کے جیسی۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!


1 Comments

Previous Post Next Post