Man E Azizam Complete Novel By Parishy Baig
Man E Azizam Complete Novel By Parishy Baig
"چھوڑیں مجھے بہت برے ہیں
آپ ۔۔۔۔ بہت بہت برے ۔" وہ حواسوں میں آتی اس پر جھپٹ پڑی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
"ریلیکس ماۓ ڈارلنگ !! اگر میں نے
چھوڑ دیا تو پھر پلٹ کر بھی نہیں دیکھوں گا ۔" وہ ہنستے ہوۓ بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہاں آپ تو چاہتے ہی یہی ہیں
کہ میں مرجاٶں ۔" وہ غصہ ہوتی ہنوز نروٹھے پن سے بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔
"شش !! ایسے نہیں کہتے
۔" وہ اسے پیار سے دیکھ بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔
"سچی آپ برے ہیں مم ۔ میں
آج سچ میں مرجاتی ۔"اسکی گردن میں بازوں ڈالے کچھ دیر پہلے کا منظر یاد کر
رونے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
"ڈارلنگ جب میں یہاں موجود
تھا تو تم نے سوچ بھی کیسے لیا تمہیں کچھ ہونے دیتا میں ۔"اسکے چہرے سے بھیگے
بال ہٹاکر محبت سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ویسے دونوں ساتھ ہیں پانی
بھی ہے اور موقع بھی تو نہا کر چلیں ۔" اسکی کان میں سرگوشی کی کہ وہ سرخ ہوتی
چینخ پڑی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"وجدان نہیں !!" وہ چیختی
رہی چھوڑو مجھے لیکن وہ اسکی مزاحمت کو نظرانداز کرتا اپنے ساتھ لگاکر تین چار ڈبکیاں
لگالی کہ مہمل کا پھر برا حال ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
"اوہ! میری جان بس بس ہوگیا۔"وہ
اسکی حالت سے محفوظ ہوتا باہر آگیا اور اسے مضبوط بازٶں میں اٹھاۓ روم میں لے گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ بند کر اسے صوفے
پہ بیٹھاکر تولیہ لے آیا اور اسکے بالوں کو اچھی طرح سے پونچھنے لگا اور ایک
نامحسوس انداز میں پینٹ کی جیب سے منی چیپ نکال اسکے دل کے مقام پر بھاری انگھوٹا
پھیر پہلے سہلایا پھر وہاں لگادی کہ وہ سی کرتی تڑپ اٹھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"آ۔ آپ نے کک ۔ کیا چھبایا
ہے مجھے ؟" وہ درد محسوس کر بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔
"تم اس کتے کے بچے کے پیچھے
کیوں بھاگ رہی تھیں ؟" وہ سرے سے اسکے سوال کو گھما گیا ۔۔۔۔۔۔۔
"وہ میرا پپی ہے میرا گڈا
پیارا بے بی ناکہ کتا ۔" اسے برا لگا وجدان کا اسے اسطرح پکارنا کہ وہ منہ
پھولاتی ہمتن اپنا چہرہ اسکے جانب سے پھیر گٸ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ وجدان اسکے نازک
لبوں پر اس کتے کے نیک نیم سن گہرا سانس لیکر صوفے سے پشت ٹکا کر ریلیکس ہوگیا اور
اسے سوں سوں کرتے دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
چھاٸی خاموشی پر مہمل نے اپنا
چہرہ موڑ اسے دیکھا جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
آ۔آ۔ پ ۔۔۔۔۔۔ وہ مزید
کہتی کہ اسے یکدم اپنے قریب کھینچ خود سے لگاتا اسکے نازک سرخ پھڑپھڑاتے لبوں پر
پوری شدت سے جھک گیا ۔۔۔۔۔۔۔
مہمل اچانک ہوٸی افتاد پہ اسکے تنگ حصار
میں مچل اٹھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کچھ لمحوں بعد دور
ہوکر اسکی ہوٸی ابتر سانسیں اور شرم سے ہوۓ سرخ خوبصورت چہرے کو دیکھنے
لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔
جو اپنی سانسیں درست کرنے
کی سہی کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
"میں ان لبوں پر صرف ہمارے بارے میں سننے کہنے کا خواہشمند ہوں ۔ نخرے کروں، فرماٸیشیں کرو، اپنی بات منواٶں، مجھے برا بھلا کہوں لیکن کسی دوسری چیزوں کے بارے میں بات کروں گی، سوچوں گی ، تو میں یہ قطعًا برداشت نہیں کروں گا پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی کہہ رہا ہوں لمٹ میں رکھو اسے ورنہ جن ہاتھوں سے اسے تمہیں دیا ہے انہی ہاتھوں سے اسکا قتل ہوجاۓ گا گوٹ اٹ !!" اسنے اسے اچھی طرح سمجھا کر اسکے پاس پڑا تولیہ اٹھا کر اپنے گلے میں ڈالا اور انگلیوں سے اسکے بال سلجھاکر ماتھے پر لب رکھ کر ڈریس چینج کرنے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ