Sujud Written By ArFA Alvi

Sujud Written By ArFA Alvi

Sujud Written By ArFA Alvi

Follow Our Whatsapp Channel FoR Latest Novel Update         👇👇👇👇
                                                                        

Follow Us On Instagram                    👇👇👇👇 




سجود

ابتدا ہے رب العالمین کے نام سے جو تمام کائنات کا یکتا خالق و مالک ہے۔ وہی ہے جس نے انسان بنائے وہی ہے جس نے حیوان بنائے، وہی ہے جس نے یہ زمیں و آسماں بنائے، یہ کہکشاں یہ تارے یہ سیارے یہ سورج و چاند پہاڑ بنائے ، سمندر دریا یہ وادی ، گلستان یہ چشمے بنائے، بنائی آبشاریں، یہ جنگل یہ صحرا بنائے ، ہوا، پانی ،اور روشنی بنائی فقط کس کے لیے اے مرد مومن یقیناً تمہارے لیے، فقط تمہارے لیے۔

اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو اتنا کچھ عطا کیا اور بدلے میں صرف ایک چیز کا تقاضا کیا "اپنی عبادت" وہ بھی انسان کے ہی فائدے کے لیے۔

قرآن مجید میں اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

"اور ہم نے جنوں و انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔"

توحید ورسالت کی عنایت کے بعد نماز اہم رکن ہے۔ جس میں نیت، قیام، رکوع، سجده، تشهد اور درود سلام جیسے فرائض شامل ہیں۔

لیکن جو منفرد ادا سجدہ کی ہے نا دل کو موہ لینے والی اردگرد سے بیگانہ کر دینے والی، انسان کو مکمل جھکا دینے والی، زمیں کے برابر کر دینے والی، اس اونچی ناک کو قدموں کے متوازی لانے والی، گردن کا سریا توڑ دینے والی، امیری اور غریبی کو ملیامیٹ کرنے والی، عالم اور جاہل کو آگے پیچھے خاک پر ایک ساتھ پیشانی رگڑوانے والی۔ واہ سبحان اللّٰہ۔۔

انسان جب بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوتا ہے تو وہ اپنی انا اپنا غرور، ضد، کو پس پشت ڈال کر اپنے اللّٰہ کے حضور جھکتا ہے۔ خالی ہاتھ زمین پہ ٹکائے پہلے پیشانی بعد میں ناک برابر رکھتے ہوئے سارا وجود خاک سپرد کیے ہوتا ہے بلکل ایک گھٹری کی مانند بے بس اور لا چار۔ ہمارے حواسِ خمسہ مکمل طور پر زمین بوس ہوئے اس حقیقت کو سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ اے انسان بس اتنی سی اوقات ہے تیری، چند منٹ لگے گے تجھے بلکل ایسے ہی زمین بوس ہونے میں۔ اس خاک نے خاک میں ہی مل جانا ہے تو پھر غرور و تکبر کس بات کا ۔ یہ “میں” کے ٹوکرے جو سر پہ اٹھائے پھرتے ہیں وہ کس کام کے ۔ یہ جو انا کی دیواریں ہم سے ہماری رحم دلی، خلوص صداقت ، انسانیت چھین کر لے گئ یہ سب کس لیے ، اے فانی انسان ابھی توں زمیں کہ اوپر ہے سنبھل جا یہ نا ہو کل کو سنبھلنے کا موقع ملے بنا ہی منو مٹی تلے جا سوئے وہ بھی خالی لیکن داغ دار دامن کے ساتھ ۔

اس کے برعکس سجدہ قادر مطلق کو منانے کی سب سے حسین مثال ہے۔ جو کوئی مرد مومن بارگاہ الہٰی میں جھکتا ہے، رو کے اپنے رب کے حضور اپنی مشکلات کی آسانیاں طلب کرتا ہے تو رب کو بندے کی یہ ادا بڑی پسند آتی ہے۔

اللّٰہ پاک فرماتا ”مجھے حیا آتی ہے جب کوئی سوالی میرے در پہ آئے اور میں اسے خالی ہاتھ لوٹا دوں”۔

تو مانگو اس ذات اقدس سے اس وقت تک مانگو جب تک مل نہیں جاتا۔ کبھی رو کے کبھی گڑگڑا کے، تڑپ کے صبر سے ، کبھی عاجزی و شکر سے تو کبھی مان اور لاڈ سے بس اللّٰہ پاک کو منانا آنا چاہیے۔ جب اللّٰہ پاک مان جائے تو انسان کی دنیا و آخرت سنور جاتی ہے۔

انسان دنیا میں جس بھی شخص کے سامنے دست سوال کرے وہ اسے احسان جتلاتا ہے باور کرواتا ہے ۔ لیکن قربان جاؤں اپنے رب کی رحمت پہ کوئی جتنی دفعہ سوال کرتا اللّٰہ تعالیٰ اتنی دفعہ عطا کرتا اور پھر خوش ہوتا ہے کہ اس کے بندے نے بار بار اس سے طلب کیا ہے۔ تو پھر بہتر نئیں کہ مانگا ہی اس سے جائے جو دے کے پچھتاتا نہیں۔ جس سے جتنا مانگا جائے وہ اتنا ہی زیادہ عطا کرتا ہے۔ ہے کوئی اتنا سخی جتنا ہمارا رب قادر مطلق ہے نہیں ناں، ارے کوئی اسکی شان کے برابر ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ وہ وحدہُ لا شریک ہے، وہ رحمٰن و رحیم ہے کریم و غفور ہے۔ خالق و مالک، رازق ہے۔

 (بے شک).

دعا ہے کہ اللّٰہ پاک ہمارے سجدوں کو طویل بنائے اور ان سجدوں کے ذریعے اپنے رب کو راضی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 الہٰی آمین)۔)

طالب دعا: عرفع علوی

Post a Comment

Previous Post Next Post