Ishq Hua Meharbaan Complete Novel By Umm E Omama
Ishq Hua Meharbaan Complete Novel By Umm E Omama
خود پر ضبط کیے وہ شخص
لاشاری مینشن تک کیسے پہنچا تھا یہ بس اسے پتا تھا جلال بھرے انداز میں وہ اندر کی
جانب داخل ہوا اور پہلی نگاہ کام میں کھڑی ہالے نور پر گئی
گلابی رنگ کا سوٹ پہنے وہ
اس لان میں کھڑی اسی جگہ کا حصہ معلوم ہورہی تھی چہرے پر مسکراہٹ قائم تھی جیسے کسی
بات نے اسے بہت مطمئن کر رکھا ہو اور اسکا یہ پرسکون چہرہ دیکھ کر غازیان کا درد
دل جیسے مزید بڑھا کیا وہ اتنی پرسکون اور خوش جازم کی بدولت تھی
تیز تیز قدم اٹھاتا وہ
اسکے قریب گیا اور بنا کچھ سوچے اسکے بازو اپنی سخت گرفت میں لیے اسے اپنے سامنے
کر گیا
"مجھ سے محبت کا دعویٰ کیا
تھا تم نے ہالے اب شادی اس سے کرنے جا رہی ہو"
اسکی اچانک آمد اور سرخ
مائل آنکھیں ہالے نور کو پل بھر کے لیے خوفزدہ کر گئیں
"یہ کیا حرکت ہے چھوڑیں
مجھے"
"کیوں چھوڑوں کل تک تو تم
مجھ سے شادی کے لیے مری جارہی تھیں اب اس جازم سے نکاح کرنے جا رہی ہو ہمارے درمیان
صرف چند دن کی دوری آئی تھی جس نے تمہیں ہماری منگنی بھلا دی"
"غازیان چھوڑیں مجھے درد
ہورہا ہے"
"کیوں چھوڑوں میں تمہیں"
"چھوڑو اسے"
عقب سے آتی جازم کی آواز
پر وہ اپنی آنکھیں موند گیا وہ بس اپنا غصہ ضبط کررہا تھا ورنہ ممکن تھا آج اسکا
ہاتھ جازم پر اٹھ جاتا
ہالے کے بازو آزاد کیے
اسنے مڑ کر اسکی جانب دیکھا جس کی پیشانی پر شکن کی لکیریں بکھری پڑی تھیں ، شاید
اسے غازیان کی حرکت پسند نہیں آئی تھی
"تمہیں درمیان میں آنے کی
ضرورت نہیں ہے"
"میں درمیان میں نہیں آیا
غازیان ، تم دونوں کے درمیان کبھی کچھ تھا ہی نہیں ، جو تھا ہالے کی طرف سے تھا لیکن
جب تم نے قدم پیچھے ہٹا لیے تو پھر وہ کیا ہی کرسکتی تھی اب تم وہ کرو جو تم چاہتے
ہو ہالے وہ کرے گی جو وہ چاہتی ہے"
گمبھیر لہجے میں کہتا وہ
شخص اسے جتانا نہ بھولا تھا کے اسکا ہالے پر اب کوئی حق نہ رہا تھا
"ہالے میں جانتا ہوں غلطی
میری ہے اور میں تم سے معافی مانگتا ہوں بس ایک بار میرے پاس واپس آجاؤ یقین کرو
گزرے ان دنوں میں بہت کچھ جان لیا ہے میں نے بس تم ایک بار معافی دے دو میرے پاس
واپس آ جاؤ"
اسکے سامنے کھڑا وہ شخص
اس سے معافی مانگ رہا تھا اور ہالے بس حیرت سے اسے تکتی جا رہی تھی خیال تھا غازیان
اسے لینے آئے گا غصہ دکھائے گا یا نرمی اختیار کرے گا پر وہ معافی بھی مانگے گا ایسا
کچھ اسنے کبھی تصور نہیں کیا تھا
دل موم کی مانند پگھلنے
لگا
اسنے نظر اٹھا کر جازم کی
طرف دیکھا جو اسکے دیکھنے پر سر کو فورا نفی میں ہلا گیا جسے دیکھتے ہی وہ گہرا
سانس بھر کر رہ گئی
"معاف کیجیے گا غازی اب دیر
ہوگئی ہے"
"ہالے نور"
اسکی آواز میں جیسے صدمہ
تھا
اسے لگا تھا وہ ہالے نور
جو رحم دل تھی جو اس سے محبت کرتی تھی وہ اسکے معافی مانگنے پر بھی اسے معاف نہیں
کرے گی
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ


