Sher Complete Novel By Alif Aien Umar
Sher Complete Novel By Alif Aien Umar
میں رَمزا اور تمہارا جلد ازجلد نکاح
چاہتا ہوں۔
وہ فیصلہ سناتے اٹل لہجے میں زَرمَن کی طرف دیکھتے
بولے تھے۔
ماہا کو لگا انہوں نے اسکا دل سینے سے نکالتے اپنے
ہاتھوں میں مسل دیا۔وہ ذہنی طور پر ایسی بات کے لیے تیار تھی مگر دل پھر بھی بیٹھ
گیا تھا۔
زَرمَن کو انکی بات سنتے حیرت کا دھچکا لگا تھا۔اس
نے ایک نظر سامنے بیٹھی آمنہ بی پر ڈالی تھی۔انکی جھکی نظر کوئی مدد نہ ملنے کا
اشارہ تھیں۔
میں شادی شدہ ہوں بابا۔
وہ انکی بےتکی بات پر تھکن سے بےزار بولا تھا۔وہ
انکی ضد اور ہڈدھرمی کے آگے لفظوں سے نہ کرتے تھک چکا تھا۔وہ سمجھنے کو تیار ہی نہ
تھے۔
تم اپنی بیوی کو ساتھ رکھ سکتے ہو۔وہ سہولت سے بولے
تھے۔جیسے یہ انکا زَرمَن پر احسان تھا۔
میں اپنی بیوی ساتھ خوش ہوں۔میری زندگی میں کیوں
الجھنیں بڑھا رہیں ہیں بابا۔وہ کنپٹیوں کو مسلتے بولا تھا۔
میری طرف سے صاف انکار ہے۔پلیز مجھے اتنی ذہنی ٹینشن
مت دیں۔وہ انکے سامنے بےبسی کی تصویر بنتے شکست خوردہ لہجے میں بولا تھا۔
کون سی بیوی؟
وہ سرد ٹھنڈے لہجے میں بولے تھے۔
وہ بیوی جو تم سے اولاد نہیں چاہتی؟
انکی آنکھوں میں غصہ چمکا تھا۔
زَرمَن کو اپنے سر پر رسوائی کا پہاڑ ٹوٹتے لگا
تھا۔اسکی آنکھیں حیرت سے پھیلیں تھیں۔زبان تالو سے چپکی تھی۔
آمنہ نے حاکم بخش کی بات سنتے چونک کر ماہا کی طرف
دیکھا تھا۔جو گود میں رکھے ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملاتے اپنی خفت مٹا رہی
تھی۔
یہ۔۔ہمارا ذاتی فیصلہ ہے۔وہ سپاٹ بولا تھا۔اسے
بالکل بھی بات لیک ہونے کی امید نہیں تھی۔اور بات حاکم بخش تک پہنچی تھی اسکے لیے یہی
تشویش ناک تھا۔
یہ کیسا ذاتی فیصلہ ہے زَرمَن جواد بخش جسکا علم
تمہیں ہسپتال پہنچ کر ہوا۔
وہ قہر برساتی نظروں سے اسکی طرف دیکھتے طیش سے
بولے تھے۔
تمہاری بیوی ہماری نسل پروان چڑھانے کی خواہاں نہیں
ہے۔دشمن اس پر دل ہار کر بیٹھے ہیں۔گاؤں کے ہر معاملے میں اسکی عدم دلچسپی ہے۔
اور تم یہاں کھڑے اسکی طرف داری کر رہے ہو؟
وہ چلاۓ تھے۔
زَرمَن کا سر جھکا تھا۔اسکے کندھے جھکے تھے۔اسکے
وقار کو ٹھیس پہنچی تھی۔اور وجہ اسکی بیوی تھی۔ہر شکست قبول تھی مگر کاش وجہ ماہا
نہ ہوتی۔اس نے آنکھیں میچی تھیں۔
میں رَمزا ساتھ ایک مرتبہ زیادتی کر چکا ہوں۔میں
عالمگیر بخش کی بیٹی کو اپنے بعد رُلنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتا۔
وہ اسکے چہرے کو دیکھتے کہہ رہے تھے۔
بابا میری بات کو سمجھیں!
دو شادیوں میں دونوں بیویوں کے ساتھ مساوی سلوک
کرنے کا حکم ہے۔میں جانتا ہوں کہ میں کبھی کسی عورت کو ماہا کا مقام نہیں دے
سکتا۔میں کسی کی زندگی نہیں خراب کر سکتا۔
وہ صاف گوئی سے بولا تھا۔سچ بھی یہی تھا۔اس عورت کا
مقام بھلا کوئی اور عورت کیسے چھین سکتی تھی۔ جو غلطی کے باوجود بھی اونچے مقام پر
ہی پوری شان کے ساتھ قابض تھی۔
میں نے تمہاری ایک ضد مانی ہے۔اب تم پر بھی فرض ہے
کہ تم اپنے باپ کی خواہش کا احترام کرو۔
وہ ایموشنل بلیک میلنگ کی سائیڈ پر آۓ تھے۔
برسوں اس لڑکی نے تمہاری خاطر اپنی زندگی انتظار کی
سولی پر ٹانگتے گزاری اور تم نے کیا صلہ دیا؟
اپنی زندگی میں گم ہوتے اسکو بھول گئے؟
آپ جو بھی سمجھیں میں یہ سب نہیں کر سکتا۔وہ بےبسی
کی انتہا پر تھا۔صبح سے دماغ ماہا کی وجہ سے خراب تھا۔نیند بھی پوری نہیں تھی اور
اب یہ نیا پھانسی کا پھندا اسکے گلے میں اٹکا تھا۔
ٹھیک ہے!
پھر وہ سامنے رکھا کاغذ اٹھاؤ اور یہاں سے چلے جاؤ۔
میں اپنے بیٹے کو مردہ سمجھ لوں گا۔
وہ سفاکی سے بولے تھے۔
زَرمَن نے سامنے ٹیبل پر رکھے ڈِس اون پیپرز دیکھے
تھے۔اسکی روح لرزی تھی۔
مجھے آپکی دولت جائیداد یہ سب کچھ نہیں چاہئیے
بابا۔وہ خالی نظروں کو کاغذ پر گاڑھتے بولا تھا۔اسے کوئی راستہ نظر نہیں رہا تھا۔
مجھے صرف آپ چاہئیے۔اسکی آنکھوں میں سرخ ڈوریاں
ابھری تھیں۔
آپ اتنی آسانی سے مجھے خود سے الگ ہونے کو کیسے کہہ
سکتے ہیں بابا۔
اسکی آواز گیلی ہوئی تھی۔
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ


