Umeed Complete Novel By Fatima Sehar
Umeed Complete Novel By Fatima Sehar
Summary:
مولوی صاحب کے دوبارہ وہی
کلمات ادا کرنے پر اُس نے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔ زبان سے کچھ بھی بولنا محال تھا
۔ ہلک میں آنسوؤں کا پھندا سا لگا تھا ۔ دوسری اور تیسری بار بھی سر ہلاتے اُس نے
اپنا آپ نوح ابراہیم کی ملکیت میں سونپ دیا تھا ۔
ماؤف ہوتے دماغ کے ساتھ
اُسے نہیں پتہ چلا کب اُس کے باپ نے اس کا ہاتھ پکڑتے دستخط کروائے کب سب نے اس کے
سر پر ہاتھ رکھتے اُسے رسما مُبارک بعد دی تھی ۔
"نئی ِزندگی کی۔۔۔۔ "
کیا یہ بے ہودہ مذاق تھا
۔ نئی زِندگی ۔۔۔۔ ؟
👇👇👇Sp Text
"عاشر عاشر مجھے ابھی اور
اسی وقت طلاق دو ۔۔۔" کمرے میں گونجتی اُس کی تیز آواز نے دروازے پر موجود
ہستی کے قدموں تلے سے زمین کھنچی تھی ۔ دستک کے لیے اٹھایا گیا اُس کا ہاتھ ہوا میں
ہی معلق ہو گیا تھا ۔ سائے سائے ہوتے دماغ کے ساتھ اُس نے پورا دروازہ کھولتے اُسے
دیکھا تھا ۔ جو اب بھی اس کی آمد سے انجان کال پر کسی سے مصروف اپنی ہی دھن میں
بات کر رہی تھی ۔۔۔
"عاشر مجھ سے غلطی ہو ئی
تھی ۔اُس وقت جو میں نے تمہاری محبت بھری باتوں میں آ کر تمہارے ساتھ نکاح کیا ۔ لیکن
آج میرا نکاح میری سچی محبت سے ہے ۔ میں تم سے نہیں محبت کرتی تم مجھے ابھی اسی
وقت طلاق دے دو پلیز ۔۔۔پیپرز بعد میں سائن کر لے گے ۔۔
اُس کے لہجے میں موجود بے
بسی کال پر موجود ہستی کے لیے لُطف کا باعث تھی ۔ تبھی اُس کی اِلتجا کو رد کرتا
بے حس بنتا ہیلو ہیلو کرتا کال کاٹ گیا تھا ۔۔۔۔
دروازے میں ساکت بت بنے
نوح ابراہیم نے اپنے حواس ٹھکانے لگاتے اُسے دیکھا تھا ۔ جو اب بیڈ پر بیٹھی دونوں
ہاتھوں سے سر تھامے رو رہی تھی ۔
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ


