Ilahi Teri Chokhat Par Complete Novel By Ayesha Amir

Ilahi Teri Chokhat Par Complete Novel By Ayesha Amir

Ilahi Teri Chokhat Par Complete Novel By Ayesha Amir

Novel Name : Ilahi Teri Chokhat Par
Writer Name: Ayesha Amir Awan
Category : LATEST COMPLETE NOVEL,Islamic , Fiction , Drama , Long - Standing Family Feud Etc
Novel status : Complete

طواف کرتے ہوئے المیر کی نظریں بار بار کعبے پر اٹھتی تھیں۔ ہر چکر کے ساتھ اس کے دل پر جیسے برسوں سے رکھا کوئی بوجھ ذرا ذرا ہلکا ہوتا جا رہا تھا۔ وہ ساتویں چکر کے بعد ایک طرف آ کر کھڑا ہو گیا۔ سکندر کچھ فاصلے پر موجود تھے۔ المیر نے کعبے کی طرف دیکھا۔ پھر نظریں جھکا لیں۔ اس کے لب ہلے۔ ”اللہ...“ بس ایک لفظ۔ اور اس ایک لفظ کے بعد جیسے برسوں کی خاموشی ٹوٹ گئی۔ ”میں نہیں جانتا مجھے کیا مانگنا چاہئے۔“ اس کی آواز لرز رہی تھی۔ ”میں نے ساری زندگی دنیا سے مانگا... کبھی عزت مانگی، کبھی دولت مانگی، کبھی سکون مانگا، کبھی لوگوں سے محبت مانگی... اور جب لوگوں نے مجھے وہ نہیں دیا جو میں چاہتا تھا تو میں نے سب سے منہ موڑ لیا۔“ المیر نے آنکھیں بند کر لیں۔ ”میں نے تجھ سے بھی منہ موڑ لیا تھا“ اس کے حلق میں آنسو اٹک گئے۔ ”لیکن تو نے مجھ سے منہ نہیں موڑا“ ایک آنسو اس کے گال پر پھسل گیا۔ ”اللہ... مجھے نہیں معلوم میں کتنے سال بعد تیرے سامنے کھڑا ہوں۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میری زبان پر نکلی ہوئی دعا میں کتنا خلوص ہے۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میں کل پھر ویسا ہی رہوں گا یا نہیں۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میں دوبارہ تجھ سے دور نہ ہو جاؤں“ المیر نے کعبے کی طرف دیکھا۔ ”اس لئے آج میں تجھ سے یہ نہیں مانگتا کہ میری زندگی میں کبھی مشکل نہ آئے۔ یہ بھی نہیں مانگتا کہ مجھے کبھی دکھ نہ ملے۔ مجھے نہیں معلوم میرے لئے کیا بہتر ہے۔“ اس نے گہری سانس لی۔”بس مجھے اپنے سے دور مت کرنا۔“ لب کانپے۔ ”اگر میں بھٹکوں تو مجھے واپس لے آنا۔ اگر میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دینا۔ اگر میں دوبارہ غرور کرنے لگوں تو مجھے اپنی حقیقت دکھا دینا۔ اگر میں لوگوں کی محبت کے پیچھے بھاگنے لگوں تو مجھے اپنی محبت یاد دلا دینا۔“ وہ رکا۔ ”اور اللہ...“ اس بار آواز بالکل ٹوٹ گئی تھی۔ ”اگر میں پھر کبھی تجھ سے دور ہونے لگوں نا... تو مجھے چھوڑنا مت۔“ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ”میں بہت تھک گیا ہوں خود کو خود بچاتے بچاتے“ المیر نے دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔ ”میں نے اپنی پوری زندگی خود کو بچانے کی کوشش کی۔ اپنے دل کے گرد دیواریں بنائیں، لوگوں سے فاصلے رکھے، محبت سے ڈرا، اپنے آنسو چھپائے... مجھے لگا میں خود کو بچا رہا ہوں۔“ وہ بےاختیار مسکرایا۔ ”لیکن آج سمجھ آیا... میں خود کو نہیں بچا سکتا“ اس نے سر جھکا لیا۔ ”مجھے تو تو ہی بچا سکتا ہے“ چند لمحے خاموشی رہی۔ ”یا اللہ... میرے گناہ بہت ہیں۔لیکن تیری رحمت ان سے بڑی ہے... میری غلطیاں بہت ہیں... لیکن تیری مغفرت ان سے بڑی ہے... میرا ماضی بہت سیاہ ہے... لیکن تو چاہے تو ایک لمحے میں میری پوری زندگی بدل سکتی ہے“ المیر کی آواز اب بمشکل سنائی دے رہی تھی۔ ”مجھے جنت صرف اس لئے نہیں چاہئے کہ وہاں نعمتیں ہیں۔ مجھے جنت اس لئے چاہئے کہ وہاں تو ناراض نہیں ہوگا۔“ وہ رکا۔ ”مجھے دنیا کی کامیابی نہیں چاہئے اگر اس کے بدلے میں تو مجھ سے دور ہو جائے۔“ وہ رو رہا تھا۔ ”مجھے ایسی عزت نہیں چاہئے جس میں میرا رب مجھے پہچانے ہی نہ۔“ المیر کو اپنی آواز بدلتی محسوس ہوئی۔ ”مجھے ایسا سکون نہیں چاہئے جو مجھے تجھ سے غافل کر دے۔“ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ ”مجھے بس تو چاہئے۔“ ایک لمحے کے لئے اس کی آواز مکمل طور پر خاموش ہو گئی۔ ”اور اگر میں یہ بھی ٹھیک طرح نہیں مانگ سکتا... تو اللہ، مجھے مانگنا سکھا دے۔“ المیر نے آنکھیں کھولیں۔ ”مجھے سجدہ سکھا دے۔ مجھے قرآن پڑھنا سکھا دے۔ مجھے نماز سے محبت کرنا سکھا دے۔ مجھے توبہ پر قائم رہنا سکھا دے۔ مجھے ایسا مسلمان بنا دے جسے دیکھ کر مجھے خود اپنے وجود سے شرمندگی نہ ہو۔“ اس نے اپنے آنسو صاف کئے۔ ”اور اللہ...“ اب لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ ”میری ایک دعا اور ہے“ اس نے حلق صاف کیا۔ ”جن لوگوں کو میں نے دکھ دیا... ان کے دلوں کو مجھ سے بہتر سکون دے دینا۔ جنہیں میری وجہ سے آنسو ملے، انہیں مجھ سے کہیں زیادہ خوشیاں دے دینا۔ اور جن لوگوں نے مجھے معاف کیا... ان کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دینا۔“ وہ خاموش ہو گیا۔ پھر بہت دھیرے سے بولا۔ ”اور بابا...“ اس کی نظریں سکندر کی طرف اٹھیں۔ ”اس باپ نے مجھے میری اوقات سے بڑھ کر محبت دی، اسے کبھی مجھ سے محروم مت کرنا... یہ میرا اکلوتا سہارا تھا... تب جب مجھے سب چھوڑ گئے تھے“ اس کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ آئی۔ ”اور انابی...“ وہ ذرا سا رکا۔ ”اسے بھی خوش رکھنا“ پھر المیر نے فوراً نظریں جھکا لیں۔ وہ دوبارہ کعبے کی طرف متوجہ ہوا۔ ”اور آخر میں...“ اس بار اس کے لہجے میں عجیب سا سکون تھا۔ ”اللہ، جب میری زندگی کا آخری سفر آئے نا... تو میں تجھ سے دور نہ ہوں... میرا آخری سانس تیری یاد میں ہو... میرا آخری لفظ تیرا نام ہو... اور جب میں اس دنیا سے جاؤں... تو تو مجھ سے ناراض نہ ہو۔“ ہچکیوں سے روتے ہوئے المیر نے ہاتھ چہرے پر پھیرے۔ ”میں بہت دور آ گیا تھا۔“ وہ روتے روتے مسکرایا۔ ”لیکن آج واپس آ گیا ہوں۔“ المیر نے گہری سانس لی۔ ”اب مجھے دوبارہ جانے مت دینا۔“ وہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا۔ پھر اس نے کعبے کی طرف دیکھا۔ ”الٰہی... تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کر آیا ہوں“ اس کی آنکھیں ایک بار پھر بھیگ گئیں۔ ”خالی مت لوٹانا“ وہ خاموش ہو گیا تھا۔



Kitab Nagri start a journey for all social media writers to publish their writes.Welcome To All Writers,Test your writing abilities.
Ilahi Teri Chokhat Par Complete Novel By Ayesha Amir is available here to download in pdf form and online reading.
Click on the link given below to Free download Pdf
Free Download Link
Click on download
give your feedback


Follow Our Whatsapp Channel FoR Latest Novel Update         👇👇👇👇
  

Follow Us On Instagram                    👇👇👇👇 


Follow Us On Instagram Tiktok


ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
 اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں  👇👇👇
 


Direct Link







FoR Online Read

ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول

 کیسا لگا ۔ شکریہ


Post a Comment

Previous Post Next Post