Tera Ishq Mera Intaqam Novel By Zahra Farrukh Hasan Episode 36
Tera Ishq Mera Intaqam Novel By Zahra Farrukh Hasan Episode 36
’’میشا، شادی صرف دو لوگوں
کا ایک چھت کے نیچے رہنا یا ایک دوسرے سے محبت کے دعوے کرنا نہیں ہوتی۔ یہ ایک
ایسا رشتہ ہے جسے نبھانے کے لیے کبھی محبت سے زیادہ صبر، کبھی لفظوں سے زیادہ
خاموشی اور کبھی اپنی انا سے زیادہ اپنے ساتھی کی خوشی عزیز رکھنی پڑتی ہے۔‘‘
میشا خاموشی سے ان کا
چہرہ دیکھتی رہی۔ شاید پہلی بار وہ اردلان کی شکایت کرنے کے بجائے ان کی بات
سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
’’ہر رشتے میں اچھے دن بھی
آتے ہیں اور برے بھی۔ کبھی ایک دوسرے کی ایک مسکراہٹ سارا دن خوب صورت بنا دیتی
ہے، اور کبھی ایک چھوٹی سی بات دل میں ایسی گرہ ڈال دیتی ہے کہ سامنے بیٹھا اپنا
ہی شخص اجنبی لگنے لگتا ہے۔ مگر بیٹا، رشتے کی اصل آزمائش تب نہیں ہوتی جب دونوں
خوش ہوں، بلکہ تب ہوتی ہے جب دونوں میں سے کوئی ایک ناراض ہو، کوئی بات دل پر لگ
گئی ہو، یا حالات محبت کے درمیان دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں۔ ایسے وقت میں اگر
دونوں اپنی اپنی انا لے کر بیٹھ جائیں تو فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔‘‘
دادی سا نے اس کے سر پر
پیار سے ہاتھ پھیرا۔ ’’اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا، کسی بھی رشتے کو نبھانے کے لیے محبت کے ساتھ
عزت بھی ضروری ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کی بات سننا، ایک دوسرے کے احساسات کی قدر کرنا
اور ناراضی کے باوجود اس رشتے کو نقصان پہنچانے سے بچنا بھی محبت ہی کی صورتیں
ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ تم دونوں ایک دوسرے کے لیے یہ سب سیکھو۔ میں یہ نہیں چاہتی
کہ تم ہر بار اپنے آدی کے سامنے ہار جاؤ، میں چاہتی ہوں کہ تم دونوں اپنی اپنی انا
سے جیت جاؤ۔‘‘
میشا نے بے اختیار ان کے
ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ انہوں نے اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے پیار سے کہا۔
’’میشا، شادی کے بعد محبت
صرف دل میں رکھنے سے نہیں بڑھتی، اسے اپنے رویّے سے بھی جتانا پڑتا ہے۔ مرد اکثر
اپنی محبت لفظوں میں بیان نہیں کر پاتے، مگر ان کی چھوٹی چھوٹی عادتوں میں ان کے
دل کی بات چھپی ہوتی ہے۔ کبھی وہ تمہاری کسی ضد پر خاموشی سے مسکرا دے گا، کبھی
تمہاری بے فکری پر جھنجھلا اٹھے گا، اور کبھی تمہاری کسی بات پر ناراض ہو کر بھی
تم سے دور نہیں جا پائے گا۔ تمہیں اس کے مزاج کو سمجھنا ہوگا، اس کی خاموشی کے
پیچھے چھپی بات کو جاننا ہوگا۔‘‘
میشا نے ذرا سا منہ
بنایا۔ " ہاں بہت آسان ہے ناں جیسے آپ کے پوتے کے مزاج کو سمجھنا ۔‘‘ اس کی
شکایت پر ان کے لبوں پر ہنسی بکھر گئی۔
’’اور تم بھی تو کوئی کم
نہیں ہو، میری بچی ، ذرا سوچو، اگر وہ ہر
بات پر تمہیں منانے لگے تو تمہاری شرارتیں کون برداشت کرے گا؟‘‘ انہوں نے اس کی
ناک چھوئی۔ ’’مگر ایک بات یاد رکھنا، مرد کے دل تک پہنچنے کے لیے ہر وقت اس سے
محبت کا اقرار کروانا ضروری نہیں ہوتا ، کبھی کبھی ناراضگی برداشت کر لینا بھی
محبت کا اظہار ہوتا ہے ۔‘‘
میشا کے لبوں پر بے
اختیار مسکراہٹ آگئی۔ ’’تو آپ کہہ رہی ہیں کہ میں آرام سے آدی سے ناراض رہ سکتی
ہوں ۔‘‘
’’اللہ ہی سمجھے تمھیں دلہن
۔‘‘ انہوں نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔ ’’میں تمہیں اس کا دل جیتنے کا کہہ
رہی ہوں، اس کا دماغ خراب کرنے کو نہیں ۔‘‘
میشا کھلکھلا کر ہنس دی
اور ان کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔ ’’آپ بہت اچھی ہیں، دادی سا۔‘‘









































































































