Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Qatil Patri Colum

Qatil Patri Colum

Qatil Patri Colum

تحریر : ” عابدہ ظہیر عابی

عنوان : ” قاتل پٹری

میں خود کو ہوش و حواس میں پٹری پر باندھ چکا تھا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ میں نے اپنی ٹانگ پٹری کے کانٹے میں پھنسا دی ہے۔ کوئی چاہ کر بھی میری مدد نہیں کر سکتا تھا اور میں کسی کی مدد لینا بھی نہیں چاہتا تھا ۔
اس کے دوست و اقارب اسے منا رہے تھے ۔ وہ خالی نظروں اور محروم سماعتوں سے تلخ مسکراہٹ لبوں پر سجائے منہ موڑ رہا  تھا ۔

تب  تم کہاں تھے ؟ ۔۔۔جب مجھے تمھاری ضرورت تھی یہ سوال آنکھیں زیادہ کر رہی تھیں ۔ مدد کو آئے ہوئے لوگ اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لیئے لایعنی گفتگو کررہے تھے ۔ کہہ سکتے ہیں شاید ان کی حب جاگ گئی ہو اور وہ تڑپ رہے ہوں مگر ان سے ناراض ہونے والے کو اب کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ وہ خود سے ناراض ہو گیا تھا ۔
چند لمحوں میں ہی گاڑی فراٹے بھرتی آنے ہی والی تھی جبھی امید نے زمبد کو کہا کہ جلدی سے سرکنڈے کاٹ کر لے آ اور اس پر جھٹ پٹ سب نے مل کر گتے لگا کر بینر بنا لیئے اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر  آدھا میل دور بھیج دیے گئے کہ گاڑی رکتے رکتے ہی رکے گی ۔
میں بھی بینر لے کر پہنچ گئی ۔ ہاتھ میں بینر لیئے پٹری پر ہم سبھی چلا رہے تھے ۔ مگر ریل گاڑی کو  کون روک سکتا تھا ؟ تیز رفتار ریل گاڑی کی دھمک سیٹیوں نے لوگوں کو حواس باختہ کر دیا تھا ۔۔۔وہ جس ان  ہونی کو سب مل کر روکنا چاہ رہے تھے وہ ہو کر گزر گئی ۔

ٹرین ڈرائیور کو بھی حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوگیا تھا ۔ اس نے سفر کا ارادہ ملتوی کر دیا اور ٹرین روک دی ۔ لوگ چلا رہے تھے ۔۔۔رو رہے تھے  ۔۔۔جو کہ یقینا اس کے اپنے ہی تھے ۔ ریسکیو آمبولانس آگئی تھی ، پولیس بھی آگئ تھی ۔۔۔اک افراتفری تھی ۔ ریسکیو والوں ںل  نے اس کے اعضاء کو ایمبولینس میں منتقل کیا اور ہسپتال لے گئے ۔  قریباً آدھ گھنٹے میں لوگ ادھر ادھر ہوئے ۔۔۔پولیس ان سے پوچھ گیچھ کر رہی تھی اور وہ ان کو یہ بتا رہے تھے کہ مہنگائی کی وجہ سے پریشان تھا ، بیوی بیمار تھی ۔۔۔ بچوں کی کفالت مشکل تھی ۔ حالات سے دل برداشتہ ہو کر یہ انتہائی قدم اٹھایا ہے ۔ پولیس کی تسلی کہاں ہونی تھی ؟...اب انسپکٹر ٹرین ڈرائیور کے پاس آکر معلومات حاصل کر رہا تھا ۔
صاحب میں کیا بتا سکتا ہوں ؟ اور اس میں ہمارا کیا قصور ہے کہ لوگوں کو ہماری ہی ٹرین پٹری اس انتہائی کام کے لیئے پسند آتی ہے ۔۔۔ہم تو جناب مسافروں کو خیریت سے منزل پر پہنچانے والے ہیں ۔ ہم ایک ذمہ دار ادارے سے وابستہ ہیں ۔۔۔میں تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ خدارا ہمارے روٹ (پٹری) کو اپنے مضموم مقاصد کے حصول کے لیئے استعمال مت کریں۔ میں جانتا ہوں کئی نامور افراد نے زندگی کے خاتمے کا زریعہ اس ریل کی پٹری کو بنایا ہے ۔ کچھ جانے میں اور کچھ انجانے میں حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ مگر جان بڑی قیمتی شے ہے ۔ اس کو ایک ہی بار آنا جانا ہے ۔ یہ پریشانیوں کا حل نہیں ۔ دکھ سکھ مل کر جیئیں ۔ زندگی کا خاتمہ مت کریں ۔ ٹرین ڈرائیور نے نم دیدہ لہجے اور غمگین آنکھوں سے اس دلدوز منظر کو دیکھا اور اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوگیا۔
وہ جو خوش خوش اپنے مسافروں کو اپنی منزل کی جانب لے کر جا رہا تھا ۔ اس اچانک حادثے پر تمام رستے خود سے الجھتا جارہا ہوگا ۔

کیا ہم ان ٹرین ڈرائیوروں کی زہنی حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں ؟ روٹ کو قاتل بنا دینے والوں ٹرین ڈرائیور کہہ رہا ہے میری بھی تو سنیئے خود پہ ظلم کرنے والے ہم پہ کتنے ستم توڑتے ہیں۔ ذہنی انتشار ۔۔۔اور اعصابی جنگ اعضاء کو مظمہل کر دیتی ہے  تو کبھی بھی  ایسے میں کوئی بھی حادثہ ہو سکتا ہے  ۔ سینکڑوں مسافر جس کی زمہ داری ہیں تو پھر نام کس کا آیا۔۔۔؟ ٹرین ڈرائیور کا ۔۔۔یہ ایک سچائی ہے ۔ جسے ماننا پڑے گا ۔
ریسرچ بتاتی ہے کہ دنیا کے پیشتر ممالک میں لوگوں کو پٹری پر مرنا آسان لگتا ہے اور اس کو دنیا بھر کی  متعدد فلموں میں بھی دکھایا جاتا ہے۔ ڈراموں میں بھی ایسے سین اجاگر کیئے جاتے ہیں ۔ چونکہ میڈیا کا بہت تیزی سے لوگ اثر لیتے ہیں۔

ایک اثر یا وجہ خودکشی کی  یہ بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔وجہ کچھ بھی ہو ایسا خطرناک عمل کرنے والوں کے خلاف کوئی دفع کوئی سخت قانون لازماً بنایا جائے کہ ایسا کرنے سے پہلے کوئی دوسرا سو بار سوچے ۔
کڑی سزا و جرمانے کا تصور اسے دہلا دے ۔اور وہ ایسی کبھی حرکت کرنے سے پہلے خود کو روک لے۔



Post a comment

0 Comments