Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Dil E Umeed by Kiran Rafique Upcoming Novel

Dil E Umeed Novel by Kiran Rafique Upcoming Novel

Dil E Umeed Novel by Kiran Rafique Upcoming Novel

Kitab Nagri Proudly Presents Dil E Umeed by Kiran Rafique Upcoming Novel 
Kitab Nagri Special
Posted SooN Only On Kitab Nagri

دلِ امید

 از قلم: کرن رفیق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک دھاڑ نما آواز کے ساتھ اس کے آفس کا دروازہ کھلا تھا۔ وہ اس کی خوشبو سے پہچان گیا تھا کہ مقابل ایس پی باطشہ جبار ہے کیونکہ اور کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی اس کے آفس میں ایسے داخل ہونے کی۔ سگار کو لبوں سے ہٹا کر وہ دھواں منہ سے خارج کرتے ہوئے پلٹا تھا۔ سامنے ہی وہ سرخ چہرہ لئے، پولیس کا یونیفارم پہنے، ہاتھوں کو ٹیبل پر رکھے اسے گھور رہی تھی۔ اس کے ہر انداز پر وہ فدا تھا۔ایک دھیمی سی مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا بسیرا کیا تھا۔

 "ویلکم ایس پی باطشہ جبار۔"

ایک دل جلا دینے والی مسکراہٹ اس کی جانب اچھال کر وہ اسے مزید طیش میں مبتلا کر گیا تھا۔ باطشہ نے اس کے ٹیبل پر موجود تمام فائلز کو ایک لمحے میں ہاتھ کے ذریعے زمین بوس کیا تھا۔

"چچ۔۔چچ۔۔اتنا غصہ پولیس والوں کو زیب نہیں دیتا جناب،خاص طور پر لڑکیوں کو۔"

"سیف کہاں ہے عائق عالم؟"

وہ سرخ آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے پوچھ رہی تھی ورنہ دل تو اس کا  مقابل کا قتل کرنے کا کر رہا تھا۔

"تمہارا بھائی ہے مجھے کیا معلوم وہ کہاں ہے؟"

 

انجان بننے کی ایکٹنگ پر وہ مزید اسے سلگا گیا تھا۔

"اگر میرے بھائی کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کیا تو یاد رکھنا میں قانون کی تمام حدود کو بالائے طاق رکھ کر تمہیں قتل کروں گی۔"

"ہاہاہاہا۔۔ نیک کام میں دیر کیسی یہ لیں گن اور چلا دیں گولی۔ قسم ہے آپ کی جو اف تک بھی منہ سے نکالا۔"

اپنے کوٹ سے گن نکال کر اسے لوڈ کر کے اس نے باطشہ کے سامنے رکھا تھا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی لیکن لبوں پر مسکراہٹ جیسے وہ جانتا تھا کہ مقابل ایسا کچھ نہیں کرے گی۔

"عائق عالم جس دن میرے ہاتھ تمہارے  یا تمہاری بہن کے خلاف ایک چھوٹا سا بھی ثبوت لگ گیا اس دن تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکے گا یاد رکھنا۔"

باطشہ اسے وارن کرتے ہوئے وہاں سے جانے لگی جب مقابل کے لفظوں نے اس کے قدموں کو ساکت کر دیا تھا۔

"عائق عالم کے خلاف ثبوت جس دن تمہیں ملا ایس پی اس دن میرا قتل تمہیں معاف ہوگا۔"

وہ رکی تھی لیکن پلٹ کر دیکھنے کی زحمت اس نے نہیں کی تھی۔ وہ چند سیکنڈ رک کر دروازہ کھول کر وہان سے جا چکی تھی جبکہ عائق عالم کے چہرے پر ایک  لمحے میں سرد پن چھایا تھا وہی سرد پن جس سے لوگ اس سے خوف کھاتے تھے۔

Post a comment

0 Comments