Mazgan lost her trust on Yawar Ali Sikandar | Khata E Mohabbat | Episode...


مژگان کو اپنا وجود کسی کی نرم اور مضبوط گرفت میں محسوس ہوا۔ اس کا ذہن بیدار ہونے لگا۔ بیڈ کے نرم سے میٹرس پہ لیٹتے ہی وہ کسمسائی اور آہستہ آہستہ اپنی بھیگی آنکھیں کھولنے گی۔ کمرے میں ہلکی روشنی تھی۔ مژگان نے مدھم روشنی میں اپنے قریب جس کا چہرہ دیکھا تھا، وہ یاور علی سکندر ہی تھا۔ اس کی تمام حسیات ایک دم سے بیدار ہو گئیں تھیں۔ وہ اسے دیکھتے ہی دوبارہ غصے میں آ گئی۔ اس نے دونوں ہاتھ یاور کے سینے پر رکھے اور اپنا پورا زور لگا کر اسے پیچھے دھکیلا۔ یاور نے اس کا وار ناکام بنا دیا اور اس کے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لے لیے۔

"چھوڑیں مجھے۔۔۔۔آپ کی صورت بھی نہیں دیکھنا چاہتی میں۔ جانے دیں مجھے۔ میں اب آپ کے ساتھ نہیں رہوں گی۔" وہ غصے سے روتے روتے پھر سے چیخنے لگی تھی۔

"مژگان۔ میں پیار سے سمجھا رہا ہوں ایسے مت کرو۔" وہ اس کے دونوں ہاتھ پکڑے اسے دیکھتے ہوئے نرمی سے بولا تھا جبکہ مژگان پوری طرح جنگلی بلی بننے کی کوشش کر رہی تھی۔

"بھاڑ میں جائیں آپ۔۔۔۔دور ہٹیں مجھ سے۔" وہ غصے سے چبا چبا کر بولی۔ یاور نے اس کے دونوں ہاتھوں کو سر کے اوپر لے جا کر ان پہ اپنی گرفت مضبوط کی اور اس کے وجود کو اپنے سائے میں ڈھانپ لیا۔

"نہیں ہٹوں گا۔ بیوی ہو تم میری۔" وہ ضدی لہجے میں کہتا ہوا اس کے چہرے پہ جھک کر محبت کا ثبوت دینا چاہتا تھا مگر مژگان نے منہ پھیر لیا اور اپنے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش ہنوز جاری رکھی۔ یاور کو اس کی اس حرکت پہ غصہ آ گیا۔

"مژگان۔۔۔میں آخری بار وارن کر رہا ہوں۔ اب اگر تم نے مجھ سے منہ پھیرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔" وہ پھر سے اس کے چہرے پہ جھکا تھا۔ مژگان نے اپنا پورا زور لگایا تھا اور منہ دوسری جانب پھیر لیا۔

"اپنی ہوس کہیں اور جا کر پوری کریں۔ میں کوئی کھلونا نہیں ہوں کہ جب دل چاہا دل بہلا لیا اور جب دل چاہا توڑ کے رکھ دیا۔" وہ غصے میں منہ پھیرے اس کی گرفت سے اپنے آپ کو چھڑانے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ اس کے گریز اور الفاظ پہ یاور ٹھیک ٹھاک غصے میں آ گیا تھا۔

"پہلے تو میں تمھیں صرف سمجھانے والا تھا، لیکن اب میں تمھیں اچھے طریقے سے بتاؤں گا کہ ہوس اور محبت میں کیا فرق ہے۔۔۔۔" اور اس کے بعد مژگان کی ہر آواز اور ہر احتجاج دم توڑ گیا۔ یاور کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ آہستہ آہستہ اس کی طاقت ختم ہونے لگی تو اس نے احتجاج بھی چھوڑ دیا۔ اب وہ صرف رو رہی تھی۔ اور جیسے جیسے اس کا احتجاج کمزور ہوتا گیا، یاور کا انداز بھی نرم ہوتا گیا۔ وہ اس پہ ظلم نہیں کر رہا تھا، اسے اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا۔

۔۔۔

مژگان کی آنکھ کھلی تو وہ یاور کی بانہوں کے حصار میں تھی۔ ذہن نے لاشعور سے شعور کی منزل ایک پل میں ہی طے کر لی تھی۔ اسے پھر سے سب کچھ یاد آ گیا تھا۔ اس نے ایک دم سے اپنے آپ کو یاور کی گرفت سے آزاد کروا کر بھاگنے کی کوشش کی تھی۔ یاور اس کے ہلنے جلنے پہ جاگ گیا تھا اور اس کے بھاگنے کے آثار جان کر اسے مضبوطی سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔ مژگان کا چہرہ یاور کے سینے میں چھپ گیا۔ وہ پھر سے خود کو اس کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے رونا شروع کر چکی تھی۔

"اب کیا ہو گیا ہے؟ کیوں رو رہی ہو؟" وہ نرمی سے اس سے پوچھ رہا تھا۔

"کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ ایسا؟" وہ روتے روتے پوچھ رہی تھی۔

"ارے!۔۔۔۔جان ہو تم میری۔ اپنی جان سے محبت کا اظہار کرنا منع ہے کیا؟" یاور نے اسے اپنے بالکل قریب کر کے اس کی پیشانی چومی۔

"بس کر دیں یہ ڈرامہ۔ اور کیا چاہتے ہیں آپ مجھ سے؟ مجھے اس طرح قید کر لینے سے آپ کی جیت نہیں ہو جائے گی۔ میں مرتے دم تک آپ کو معاف نہیں کروں گی۔" مژگان نے دونوں ہاتھ یاور کے سینے پہ رکھ کر اس سے دور ہونے کی کوشش کی تھی۔ یاور اس کے آنسوؤں سے پھر پگھلنے لگا تھا۔ گزشتہ رات اس نے مژگان کے ساتھ زبردستی کی تھی لیکن وہ اسے اپنی محبت کا یقین دلانا چاہتا تھا۔ اس کے ہر انداز میں محبت تھی۔ لیکن مژگان اس وقت جس غلط فہمی کا شکار تھی، وہ اتنی آسانی سے تو دور نہیں ہو سکتی تھی۔ اب بھی وہ اس سے دور جانے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔

"میں تمھاری محبت چاہتا ہوں مژگان۔ اعتبار چاہتا ہوں تمھارا۔" وہ اس کے گرد اپنی بازو کا گھیرا بنا چکا تھا۔ مژگان ہزار کوششوں کے بعد بھی اس کے حصار سے نکل نہیں سکی۔ بالآخر تھک ہار کر اس نے مزاحمت بھی چھوڑ دی اور ہلکی آواز سے رونے لگی۔ یاور کو بےاختیار اسے خود میں بھینچ لینے کا دل چاہا۔ اسے مژگان کا یوں بے بس ہو کر رونا بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔


Post a Comment

Previous Post Next Post