Ye Duniya Kesi Hai Written By Areeba Mazhar

Ye Duniya Kesi Hai Written By Areeba Mazhar

Ye Duniya Kesi Hai Written By Areeba Mazhar

کالم

یہ دنیاکیسی ہے!؟

 

یہ دنیا کیسی ہے ؟اج تلک اس نے کبھی کسی کے ساتھ انصاف نہیں کیا کئ پاگئے اپنی چاہت کئی رہ گے تنہا یہ دنیا جو ہے نہ بڑی ہی عجیب ہے ایک پل تو لگتا ہے کہ اس سے خوبصورت چیز کچھ بھی نہیں اس میں ہی رہنا چاہئے ہمیشہ لیکن یہ سب کچھ خواب و خیال میں اچھا لگتا ہے کیونکہ حقیقی دنیافسانوں کی دنیا سے بہت الگ ہے حقیقی دنیا میں سختیوں اور تلخیوں کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں انسان کی روح میں کشش تب پیدا ہوتی ہے جب کسی ایک مٹی کے جسم کا ٹکراؤ کسی دوسرے کے ساتھ ہوتا ہے اور پھر سب کچھ حسین اور بھلا لگنے لگتا ہے اس دنیا میں سب کچھ پیارا اور ایک حسین خواب آنکھوں میں نظر آنے لگتے ہے مگرایسا بہت کم نظر اتا ہے کیونکہ لوگ چند دن ہمیں چاہنے اور کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں پھر اس کے بعد ان کے دل بھر جاتے ہیں لہجے اجنبی اور رابطوں سے بیزار نظر اتے ہیں وہ اس لئے کہ ان کے اندر ہمیں کھوجنے کا تجسس سست پڑ جاتا ہے جب کوئی تعلق نیا بنتا ہے تو ہمیں اس شخص کے علاوہ کچھ نظر نہیں اتا دل کے اندر طرح طرح کی حسرتیں اور خواہشیں پیدا ہوتی ہیں مگر جیسے ہی یہ پرانا ہوجاتا ہے تعلق  لوگ دور بھاگتے ہے بات کرنے سے کتراتے ہے اور نظر انداز کرنے کو اچھا جانتے ہے وہ اس لئے کہ ان کو کسی کو تڑپانے اور دل توڑنے میں مزہ آتا ہے پھر جب اس طرح کے حالات بن جاتے ہیں تب دوسرا انسان خودبخود رویہ سجمھ لیتا ہے خاموشی سے کنارا کشی اختیار کر لیتا ہے دل پر جبر کرنا انسووں کو انکھوں کے پیوٹوں سے باہر نہ انے دینا بہت مشکل ہوتا ہے مگر وہ انسان کر لیتا ہے تب اس کی قدر نہیں ہوتی کیونکہ وہ میسر ہوتا ہے میسر شخص کی قیمت ٹکے کی ہوتی ہے قدر تب ہوتی ہے جب وہ خود کسی سے ٹھکرایا جائے جب انکی چاہت کی قدر نہ کی جائے تب اس انسان کی یاد بہت تڑ پاتی ہے کہ تھا کوئی شخص اپنی جان سے زیادہ چاہنے والا مگر ہاۓ اسکو گنوا دیا اسکی قدر نہ کرسکے اس لئے کسی کو وقت نہ دے نہ ہی میسر شخص بن کر رہیں اپنی سیلف ریسپیکٹ بنائے دل میں لوگوں کی  محبت اپکو بدل نہ سکے کہ کوئی جائے تو اسکی یادمیں رہ کر اپنی زندگی خراب نہ کریں بلکہ موو ان کر جائیں اپنی زندگیوں میں یہ موقع ایک بار ملتا ہے اور انکو منہ توڑ جواب دیں کہ ہم کسی کے سہارے نہیں جیتے بلکہ ہم خود سب کچھ ہے کسی پر دےڈیپینڈ نہیں کرتے اللہ تعالیٰ اپکو اسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین

 

از قلم :۔اریبہ مظہر بنت مظہر عباس



Post a Comment

Previous Post Next Post