Jab Dil Miley Novel By Gohar E Nayab & Perishah Malik
Jab Dil Miley Novel By Guray Nayyab & Perishah Malik
مصطفی
نے گن لوڈ کر کے زونی کے سر پر رکھی تو سب حیران رہ گئے مصطفیٰ یہ کیا کر رہے ہوں
پاگل ہو گئے ہوں تم مرتضی بھائی بولے نہیں پاگل نہیں ہوا ہوں مگر میں دیکھنا چاہتا
ہوں کہ زونیشہ مصطفیٰ راجپوت کی ضد کہا تک جاتی ہیں مصطفی زونی کی آنکھوں میں آنکھیں
ڈال کر بولا زونی اب بولو کروں گی نکاح مصطفی سریس ہو کر بولا نہیں زونی بھی اسی
انداز سے بولی کروں گی یا نہیں مصطفیٰ نے پوچھا نہیں زونی پھر وہی جواب دیا کروں گی
یا نہیں مصطفیٰ بولا تو زونی نے پھر وہی جواب دیا نہیں نہیں نہیں بول دیا نا اچھا
ٹھیک ہیں اب بولوں مصطفیٰ گن اپنی سر پر رکھتے ہوئے بولا تو سب حیران پریشان ہو کر
اس کا یہ روپ دیکھ رہے تھے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ مصطفی اس حد تک جا سکتا
ہے اور اب کی بار زونی کی آنکھیں بھی کافی حد تک پھیلی مصطفی اس کی آنکھیں میں دیکھ
کر بلکا سے مسکرایا بولو زونی ہاں کہ ناں مصطفیٰ نے اب کی بار پوچھا تو زونی کچھ
نہ بولی زونی ہاں کہ نا مصطفیٰ نے پھر بولو پھر زونی کچھ نہ بولی زونی میں آخری
بار پوچھا رہا ہوں ہاں کہ نا مصطفیٰ نے کہہ کر ٹریگر پر ہاتھ رکھا تو زونی کا
دھڑکنا بھول گیا اچانک زونی بولی مصطفیٰ آپ یہ کیا کر رہے ہیں پاگل ہو گئے اسے نیچھے
کرے زونی آگئے بڑھتے ہوئے بولی تو مصطفی تھوڑا پیچھے ہوا اور بولا میں نے جو بولا
ہیں اس کا جواب دوں مصطفیٰ سریس انداز سے بولا آپ ایسا کچھ نہیں کرے گے سمجھے نیچے
کرے اس کو زونی بولی زونی میں تین تک گنو گا ہاں یا نہ ایک مصطفی ائل انداز سے
بولا زونی کا دل بند ہونے کے در پر تھا دو مصطفی نے گنتی گنی تی مصطفی ابھی گنتی
پوری کرتا زونی نم آنکھوں سے چیخ کر بولی ان ایک ہیں کروں گی زونی مصطفیٰ کی طرف دیکھ
کر بولی بولی سب نے سکھ کا سانس لیا اور مصطفی مسکرا پڑا زونی کا جسم کانپ رہا تھا
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ


