Ashnai Na Thi Complete Novel By Dua Aslam
Ashnai Na Thi Complete Novel By Dua Aslam
اس نے گاڑی گھر کے آگے
روکی تو گھر کے آگے سڑک پر کسی کا خون سے لت پت وجود نظر آیا اسے ایک سیکنڈ نہیں
لگا تھا اس وجود کو پہچاننے میں وہ فوراً بوکھلا کر گاڑی سے نکلا اور دیوانہ وار
اس وجود کی طرف لپکا خون کافی بہہ گیا تھا وہ اس پر جھکا اسے ہوش میں لانے کی کوشش
کر رہا تھا چیخ رہا تھا چلا رہا تھا آس پاس میں کھڑے لوگ فوراً اس کی جانب بڑھے اس
نے وجود کا چہرہ دیکھا اور وہ اسے پہچان گیا وہ اس کی بہن تھی رانیہ وہ اب اور زور
سے چیخ رہا تھا چلا رہا تھا تبھی کوئی آدمی آگے بڑھا اور اس کی نبض چیک کرنے کے
بعد اس نے وہ کلمات پڑھے جو کسی کے مرنے کے بعد پڑھے جاتے ہے اور اس لڑکے کے اپر
گویا پوری عمارت گر گئی تھی وہ اس بات کو ماننے سے انکاری تھا بار بار اپنے منہ پر
یہی الفاظ دہرا رہا تھا ۔۔۔۔۔"نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔"تبھی کسی نے
اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دینے کی کوشش مگر اس نے ہاتھ جھٹک دیا اور چیخ
کر بولا ۔۔۔۔"نہیں نا نہیں مر سکتی میری بہن ۔۔۔۔" وہ جیسے پاگل ہوگیا
تھا اس نے سامنے اپنے گھر کے دروازے کے پاس رکھی کرسی کو دیکھا جس پر اکثر گارڈ بیٹھا
ہوتا تھا مگر وہ اسوقت وہاں نہیں تھا وجود کے گرنے کا انداز دیکھ کر ایسا لگتا تھا
جیسے کسی نے اسے چھت سے دھکا دیا ہو وہ خودکشی نا ہو ۔۔۔۔۔"وہ بےجان قدموں سے
اپنی بہن کے پاس بیٹھا اس کا مرا ہوا وجود دیکھ رہا تھا جس کا بہا ہوا خون اس کی
قمیض پر بھی لگ چکا تھا اور ایک ہی دم ماحول میں ہڑبڑی مچ گئی تھی شاید سب کو
معلوم ہوچکا تھا مگر سب تب کہاں تھے جب وہ گری ۔۔۔۔۔مگر کیا یہ وقت تھا سوچنے کا
۔۔۔۔شاید نہیں ۔۔۔۔،اس کے گھر کے افراد اسے اٹھنے کا کہہ رہے تھے مگر وہ اٹھنے کی
بجائے اپنی بہن کا چہرہ دیکھ رہا تھا جو دیکھنے کے قابل نہیں رہا تھا اس نے کچھ
سوچ کر گھر کے اپر ایک نظر اٹھا کر دیکھا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا ۔۔۔۔۔پھر
بےجان قدموں کے ساتھ وہ کھڑا ہوا اور ادھر اُدھر نظریں گھما کر دیکھا شاید کسی نے
ایمبولینس بولا لی تھی کچھ فرد اس کی بہن کو اٹھا کر سٹریچر پر لٹا رہے تھے اسے
سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔۔۔۔۔
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ


