Rah E Imaan Complete Novel By Mahnoor Shahzad
Rah E Imaan Complete Novel By Mahnoor Shahzad
"اس لڑکی کی اس حرکت نے
ہماری عزت کو کہیں کا نہیں چھوڑا!"
جمیل عباس کی آواز ڈرائنگ
روم کی دیواروں سے ٹکرا کر گونج اٹھی۔ ان کی آنکھوں میں غصہ کے بجائے فیصلہ تھا
"اس کا اس گھر میں رہنا
بدنامی کے سوا کچھ نہیں۔ جتنا جلدی ہو سکے اسے اس گھر سے رخصت کرو۔"
اِنایاک ا رنگ جیسے پل
بھر میں اڑ گیا۔ اس کی انگلیاں اپنے دوپٹے کے کنارے کو مضبوطی سے تھام چکی تھیں۔
"جمیل! پہلے اس کی بات تو
سن لو… تمہاری سگی بھتیجی ہے!"
صفیہ عباس کی آواز لرز گئی،
آنکھوں میں بے بسی تیرنے لگی۔
"بھتیجی کی حرکت نے ہی
مجھے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔"
جمیل عباس کی نظریں اب یامان
کارہان پر تھیں۔
"آج شام اپنے خاندان کو لے
کر آؤ… نکاح ہوگا اور یہ لڑکی اس گھر سے چلی جائے گی۔"
کمرے میں جیسے سانس لینا
بھی جرم بن گیا۔
"نہیں بیٹا، ایسا مت کرو…"
صفیہ عباس نے کانپتے ہاتھ
سے اِنایا کا بازو تھاما۔
اِنایا نے آہستہ سے اپنا
ہاتھ چھڑا لیا۔
"نہیں دادی… میں اس گھر میں
ہرگز نہیں رہوں گی جہاں مجھ پر اعتبار نہ کیا جائے۔"
آنکھوں میں آنسو
لیے مضبوط لہجے میں کہتے ہوئے اس نے سیدھی نظر جمیل عباس کی آنکھوں میں ڈال
دی۔
"میں بے گناہ ہوں… اور
مجھے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر میری موجودگی آپ کی عزت پر بوجھ
ہے… تو میں یہ بوجھ خود ہٹا دیتی ہوں۔ میں اس نکاح کے لیے تیار ہوں۔"
لفظ ختم ہوتے ہی کمرے میں
ایسی خاموشی چھا گئی جیسے سب کو آئینہ دکھا دیا گیا ہو۔
یامان کارہان، جو اب تک
خاموش تماشائی بنا کھڑا تھا، ایک لمحے کو مشائم کی طرف دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں
سوال نہیں احترام تھا۔وہ جانتا تھا یہ لڑکی جھک نہیں رہی… قربانی دے رہی ہے۔
"مجھے کوئی اعتراض نہیں۔"
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں
اورناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں 👇👇👇
Direct Link
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ


