Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Golden Stone ( The Vampire Word ) By Umaima Mukarram Upcoming Novel

Golden Stone ( The Vampire Word ) By Umaima Mukarram Upcoming Novel

Golden Stone ( The Vampire Word ) By Umaima Mukarram Upcoming Novel

Kitab Nagri Proudly Presents Golden Stone ( The Vampire Word ) By Umaima Mukarram 

Kitab Nagri Special

Posted SooN Only On Kitab Nagri

"ارے ایسے کیسے؟ چھوڑو جویریہ میرا ہاتھ۔ "

حنین کی بات سنتے وہ بدکی جبکہ جویریہ کا بس نہیں چل رہا تھا وہ یہاں سے غائب ہوجائے  حنین کو دیکھ کر اسے کچھ دن پہلے کی رات یاد آئی تھی اوپر سے اسکی نظریں الگ خائف کررہی تھیں ۔

" میں نے کہا نا سر ابھی نہیں ہیں آپ جاسکتی ہیں یوں پولیس اسٹیشن  منہ اٹھا کر آجانا کسی اچھے گھرانے کی لڑکیوں کو زیب نہیں دیتا۔"

حنین اب کے سخت لہجے میں بولا جویریہ نے پریشانی سے لب کچلے جبکہ الوینا کو تو تلوے پہ لگی تالو پر بجھی۔

" تمہارے کہنے کا مطلب کیا ہے اور تم ہوتے کون ہو مسٹر ہمیں سبق پڑھانے والے تم جانتے نہیں ہو شاید ابھی دو منٹ میں تمہاری وردی اترواسکتےہیں  اسٹوڈینٹ پاور کو جانتے نہیں ہو اور ہیں بھی ہم میڈیا کی اسٹوڈینٹس"

الٹے ہاتھ میں فون پکڑے وہ ہاتھ نچا نچا کر غصے سے بات کررہی تھی جبکہ دو منٹ کے لے حنین کا دماغ بری طرح گھوما تھا۔ ماتھا مسل کراسنے خود کو قابو کیا جب پیچھے سے اس کی آواز آئی وہ گہری سانس لے کر سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا ہوگیا اب جانتا تھا کچھ اور الٹا ہوگا کیونکہ جو آیا تھا وہ اس لڑکی سے دو نہیں دس قدم آگے تھا۔

" کیا مسلہ ہے حنین اتنا رش کیوں لگا ہے آج کوئی لنگر کیا ہے کیا۔؟"

ایک نظر سامنے کھڑی چشمہ درست کرتی لڑکی پر ڈالی جو غصے کی شدت سے لال ہوئی  کھڑی تھی۔ چوکی کے باہر ہی وہ اسکی آواز سن چکا تھا اور آواز سن کے ہی پہچان چکا تھا کہ یہی وہ لڑکی ہے جس نے اس رات اسے پتھر مارا تھا۔

" ہم تمہیں لنگر لوٹنے والے لگتے ہیں بہت جلد تم پر یہ نوبت آئے گی ۔"

اب کے وہ اس پر چڑھ دوڑی وہ اسے پہچانی نہیں تھی کہ یہ وہی لڑکا ہے ۔

" آپ یہاں سے خود جاتی ہیں یا باہر پھیکواؤں  ہمارے پاس لیڈیز کانسٹیبل موجود ہیں۔ "

اس  نے آئبرو اچکائی۔

حنین کی نظریں اب جویریہ پر تھی جو اسکے مستقل گھورنے پر اسے ہی ماتھے پر بل ڈالے گھور رہی تھی لیکن پھر حنین کے کہ ایک آئبرو اچکانے پر فورا نظریں پھیر گئی۔

" دیکھیں ہم سب جانتے ہیں اس لڑکی کے کیس میں آپ لوگ برابر کے شریک ہیں ۔۔ رشوت لے کر آپ لوگوں نے اس معصوم کا کیس بند کردیا ہے۔ "

وہ پر یقین لہجے میں بولی۔

گوگلز کے پیچھے اسکی آنکھوں نے رنگ بدلا  سیاہ سے سرخ ہوئیں پھر جلد ہی اپنے پرانے رنگ میں بدلیں۔

" بلکل رشوت لے کر کیس بند کردیا ہم نے ۔۔ اب ؟ قبول کرلیا میں نے اور کچھ ؟"

وہ ڈھٹائی سے بولا۔ جویریہ اپنا چشمہ درست کرتے فخریہ مسکرائی اور ہاتھ میں پکڑے موبائل پر ریکورڈنگ بند کی۔

" بہت خوب ۔۔اب دیکھنا کیا کرتی ہوں میں۔۔ "

موبائل بیگ میں ڈالتے وہ پلٹنے لگی جب جھٹکے سے اسنے موبائل اسکے ہاتھ سے کھینچا اور زمین پر پھینکا پھر اس پر پاؤں سے مار کر اسے کسی قابل نہیں چھوڑا جبکہ وہ دونوں منہ کھولے سکتے کے عالم میں ٹوٹے موبائل کو دیکھ رہی تھیں۔



Post a Comment

0 Comments