Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Chand Chehra By Iram

Chand Chehra By Iram

Chand Chehra By Iram

"چاند چہرہ"

از قلم ارم

 

"میں کالی کملی کوجی سی

تو چِٹا سوہنا یار پیا"

نیی نیی نیی اماں سوچنا بھی نہ کے میں اس موٹی کالی بد دماغ چندہ سے شادی کروں گا۔

جیدا ماں کے سامنے نم آنکھیں لیے اپنا ہلکا سا دفاع کرنے لگا۔

"پتر ویاہ تو تجھے ہر حال میں چندہ سے کرنا ہی ہوگا۔ اینی سُگھڑ چن دا ٹوٹا میری دھی رانی شکر کر تیرے جیسے نکمے کو باجی رجو نے اپنی دھی دینے کی ہامی بھری".

جیدا اماں کی نظروں میں اپنی بھانجی کی محبت دیکھ کے زہر کا گھونٹ بھرتے ہوۓ گھر سے باہر نکل گیا۔

جنید عرف جیدا اپنے والدین کی اکلوتی اولاد بچپن سے ہی چندہ کو اسکے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ چندہ جنید کی خالہ کی بیٹی تھی رضیہ عرف رجو چندہ کی ماں گھریلو اور سُگھڑ عورت تھی۔ جبکہ ثمینہ عرف سیمو جنید کی ماں گھر کے کاموں میں زیادہ دلچسپی لینے والی خاتون نہ تھی۔ کچھ سیمو کا بیاہ کم عمری میں ہو گیا تھا لیکن سیمو کے شوہر پروفیسر شبیر نے انہیں زندگی کو گزارنے کے تمام اصول سیکھا دیے تھے۔ پروفیسر صاب مستقل شہر رہتے تھے اس لیے جیدا اور سیمو بھی انکے ساتھ شہر کی دنیا میں بس چکے تھے۔

اپریل کا موسم کافی خوشگوار تھا سیالکوٹ پیرس روڈ سے کچھ فاصلے پہ پوسٹ آفس کے سامنے پیپل کا بہت بڑا درخت اپنے مضبوط کندھوں پہ شاخوں کا بوجھ لیے کھڑا تھا۔ اس درخت کے سایے میں لاریاں کھڑی ہوتیں تھی جن میں بیٹھ کے مسافر اپنی منزلوں کی جانب رواں دواں رہتے تھے۔

"کی ہویا یار جیدے کیوں اینج مردہ کُکڑی ورگا منہ بنا کے بیٹھا ہویا تو".

علی نے جیدے کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ پوچھا۔

علی جو ایک عدد چنگ چی کا مالک اور جیدے کا لنگوٹیا یار تھا۔

یار علی پھر وہی میرے ویاہ کے رولے اور وہی میری منگیتر۔

جیدے نے آخری لفظ سرگوشی میں کہا۔

"دیکھ بھٸ میری مان تو کر لے ویاہ تو ہاں کر نہ کر زہر کھا یا کچھ بھی کر چاچا شبیر نہیں مانے کا کہ تو چندہ برجھاٸ کے علاوہ کسی کا زکر بھی کرے".

برجھاٸ کا لفظ سن کے جیدے نے قہر بھری نگاہوں سے علی کو دیکھا۔

علی جو کے مستقل دو گھنٹے سے ببل چبا رہا تھا اب پیلے دانتوں کی نماٸش کرتے ہوۓ اپنی چنگ چی کی جانب بڑھ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔

جنید پڑھاٸ میں بہت ذہین تھا میٹرک میں بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوا۔ علی نقل کر کے مشکل سے ہی پاس ہو پایا اب دونوں نے ایک پراٸیوٹ کالج میں داخلہ لے لیا۔ ایف ایس سی کا نصاب بہت مشکل تھا لیکن علی کی لاپرواہی نے جنید کو بھی اپنے جیسا بنا لیا تھا۔ اب نتیجہ یہ نکلا کے علی ایف ایس سی میں تین مضامین میں مشکل سے پاس

ہو پایا باقی سب مضامین میں فیل ہو گیا۔ جبکہ جنید پاس تو ہو گیا لیکن اتنے کم نمبروں سے کے اب داخلہ تو مل جاتا لیکن پیسے بے شمار لگتے۔ انہیں دنوں پروفیسر صاحب کا ایکسیڈینٹ ہوا اور وہ معذور ہوگۓ۔

اب حالات ایسے نہ تھے کے جنید کی بے تحاشہ مہنگی تعلیم پہ خرچا کیا جاتا۔ جنید نے تعلیم کو خیرباد کہہ کے نوکری تلاش کرنے میں دن رات ایک کر دیا لیکن اتنی کم تعلیم میں اچھی نوکری کیسے ملتی۔ اور پھر سیالکوٹ میں تو تعلیمی مقابلہ تھا بھی اپنے عروج پہ۔ انتہاٸ محنت مشقت کے بعد پیرس روڈ پہ بنے ایک جدید میرج ہال میں جنید کو جاب مل ہی گٸ۔ تنحواہ بھی کمال تھی اب انکی زندگی اچھی گزر رہی تھی کہ اماں کو جیدے کی شادی کی فکر ہونے لگی۔ اور حد تو یہ کہ اماں شادی کا دن بھی مقرر کر چکی تھیں۔ اب گلے میں پڑا ڈھول جیدے کو بجانا ہی تھا۔

 

جنید سفید شلوار قمیض میں نہایت خوبصورت دیکھاٸ دے رہا تھا۔ آج سب گھر والے چندہ کے گھر جا چکے تھے اسے مہندی لگانے کل بارات تھی۔ جیدے نے نجمہ جو اسکی پھپھوزاد تھی اسے میسج کر کے چندہ کی فوٹو طلب کی اور پل میں نجو نے چندہ کی تصویر جیدے کو بھیج دی۔

تصویر دیکھتے ہی جیدے کے چودہ طبق روشن ہو گۓ۔ چندہ بلکل نہ بدلی تھی وہی موٹی ناک کالا رنگ ہنستے ہوۓ پیلےدانتوں کی نماٸش اور تیل میں گندھی کسی ہوٸ لمبے بالوں کی گُت۔

"لے جیدے یہ ہی تیرا نصیب ہے"

رونی صورت لیے جیدا بُڑبڑایا۔

 

نکاح کی رسم ہو چکی تھی جیدا اب تک ایک بار نہ مسکرایا تھا۔ کیسے کیسے خیال نہ دیکھے تھے اس نے خوبصورت دلہن ہینڈسم جیدا دونوں کا ولیمہ ہلٹن سٹی کا سٹیج جہاں وہ جاب کرتا تھا۔

لیکن یہ کیا سب کچھ تو ویسا ہی تھا سواۓ دلہن کے۔ دلہن کو جیدے کے پاس بیٹھا دیا گیا تھا۔ لیکن جیدے نے ابھی تک ایک  نظر دیکھنا گوارا نہ کیا۔ نجو جیدے کے سامنے آ کے اونچی آواز میں بولی بھیا وہٹی دیکھ لیں پھر نہ کہنا کہ نجو نے چاند کے ٹکڑے کو واقع میک اپ کر کے چار چاند لگا دیے۔

چارو نچار اسے موٹی بھینس کو دیکھنا ہی پڑا لیکن جونہی اس نے چندہ کی جانب دیکھا وہ واقع چاند کا ٹکڑا دیکھاٸ دے رہی تھی۔

منہ تو بند کرو بھیا کیوں بستی کروانی نجو نے جیدے کو چٹکی کاٹی۔

رخصتی ہو گٸ جیدے کو ابھی بھی وہ چاند چہرہ خواب لگ رہا تھا لیکن وہ حقیقت تھی۔

جیدے کا ولیمہ ویسا ہی ہوا جیسا وہ چاہتا تھا مینجمینٹ سٹاف کا وہ ہیڈ تھا اسی لیے اسکے ولیمے کا بہت اچھا انتظام کیا گیا۔ سب ہنسی خوشی اِدھر اُدھر گھوم پھر رہے تھے۔ اور کچھ لوگ اس پیاری جوڑی کو دعاٸیں دے رہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔

نجو اپنی کارستانی چندہ کو سناتے ہوۓ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔

بھابھی میں چھمی مراثن کی تصویر بھاٸ کو بھیجی کہ یہ ہے چندہ بھابھی۔ اور بھاٸ تو پھر توبہ انکی ڈڈو جیسی شکل بن گٸ۔

ہاۓ کتنی کالی ہے وہ گندی بدبو آتی اس مراثن سے نجو ناک پہ ہاتھ رکھتے بولی۔

بری بات ہے بچے ایسا نہیں کہتے اللہ نے سبکو پیدا کیا ہے کالا گورا رنگ اللہ کے سامنے اہم ہوتا تو ابو لہب کو اسکی زندگی میں دردناک عذاب کا کیوں بتا دیا گیا؟ اور حضرت بلالؓ تو اللہ کے نبی مُحَمَّد ﷺ کے اصحاب میں شامل رہے۔

ہمیں حق نہیں کے ہم کسی کو کالا گورا کہیں ہر انسان اپنے اعمال اپنے اخلاق کی مثال ہے۔

چندہ محبت سے نجو کو سمجھانے لگی۔

جی بھابھی میں وعدہ کرتی ہوں اب کسی کو کالی میراثی یا ڈڈو نہیں کہوں گی۔ نہ ہی بھیا کو مردہ کُکڑی کے منہ والا کہوں گی نجو چہرے پہ بلا کی معصومیت سجاۓ کہہ رہی تھی۔

جنید کے گھورنے پہ وہ بمشکل ہنسی دباتی وہاں سے بھاگ گٸ۔ چندہ نے کچھ دنوں میں ہی سارا گھر سمنبھال لیا۔ اب بھی وہ ناشتے والے سب برتن دھو چکی تھی اور تیار تھی۔

"چلیں" چندہ نے مسکراتے ہوۓ جنید کو مخاطب کیا۔

کہاں؟ جنید نے حیرت سے چندہ کو دیکھا۔

بیٹا چندہ کا انٹرویو ہے وہ جو تمہارے ہال کے ساتھ والا کالج ہے وہیں۔ شبیر صاحب نے جنید کو بتایا!!

جنید اسے ساتھ لے تو گیا لیکن پوچھنے کی ہمت نہ کر سکا کہ وہ تو چھٹی جماعت میں دو بار فیل ہوٸ تھی پھر جاب اور وہ بھی کالج میں کیسے۔

ہمت کر کے جنید نے پوچھ ہی لیا۔

میں ایم اے انگلش کرنے کے بعد گاٶں کے بلکل سامنے روڈ پہ بنے سٹی سکول میں بہت ٹاٸم پڑھا چکی ہوں میرا ایکسپیرنس اچھا تھا مجھے ایف اے اور ایف ایس سی والے بچوں کو انگلش پڑھانے کا چانس شہر آ کے مل چکا۔ اور جیسی میں بچپن میں تھی کیا اب بھی ویسی ہی رہتی چندہ مسکراتے ہوۓ کہنے لگی۔

 

اور میں چاہتی ہوں کے آپ بھی اپنی تعلیم جاری رکھیں جاب تو چلتی رہے گی ساتھ میں سیکنڈ ٹاٸم کلاسسز میں آپ کی تعلیم کو نقصان نہیں ہوگا۔ اور جہاں کسی ہیلپ کی ضرورت ہوگی چندہ آپ کو گاٸیڈ کرے گی۔

دونوں کی منزل آ چکی تھی چندہ الله حافظ کہتے ہوۓ کالج کے گیٹ کی جانب بڑھ گٸ۔

"تم چاند چہرا نہیں بلکہ شفاف دل بھی رکھتی ہو چندہ میں کتنا غلط تھا جو ایک گاٶں کی لڑکی سمجھ کے تمہیں قبول نہیں کر رہا تھا".

تم نے میرے گھر کی تمام ذمہ داری اپنے سر لے لی جبکہ میں کالی موٹی سمجھ کے تم سے نفرت کرتا رہا۔ یہ سوچے بنا کے سب کو اللہ نے بنایا ہے۔ اللہ کی بناٸ چیزوں میں نقص نکالنے کا حق ہم نہیں رکھتے۔ پھر بھی ہم بشر خود پہ کتنا ظلم کر جاتے یہ سب میں شاید کبھی جان نہ پاتا۔ لیکن تم نے مجھے سب سمجھا دیا اب میں اللہ سے اپنے ان گناہوں کی معافی مانگوں گا  ان شاء اللہ

جنید شرمندہ ہوۓ یہ سب سوچنے لگا.

Post a Comment

0 Comments