Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Haar Aur Jeet Written By Raheel Qureshi

Haar Aur Jeet Written By Raheel Qureshi

Haar Aur Jeet Written By Raheel Qureshi

ہار اور جیت۔۔۔۔۔زندگی رواں رکھنے کا گر

 

ناکامی، کامیابی کا پہلا زینہ ہوتی ہے۔ہر تکلیف انسان کو سبق سیکھاتی ہے۔بعض اوقات انسان ہار جاتا ہے جیسے صحرا میں رات کی تنہائی میں ایک مسافر جسے اپنی آواز سے ڈر لگتا ہے۔ ہولناک سناٹے میں چیخ کی آواز، عذاب کا اعلان ہے۔ جب کرنیں اپنے سورج کو چاٹنے لگ جائیں۔ جب شاخین اپنے درخت کو کھا جائیں۔ جب اعضا ء اپنے وجود سے کٹ جائیں۔ اپنی صورت اپنی صورت نہ رہے۔ انسان اپنے ہی دیس میں خود کو پردیسی محسوس کرے، اپنے گھر میں انسان خود کو مہمان تصور کرے، جب سورج کی روشنی تاریکی میں بدل جائے۔ زمانہ امن کا ہو مگر جنگ کا طبل بج رہاہو۔

ٓسقراط دنیائے فلسفہ کا عظیم اور جلیل المرتبت معلم جس نے پانچویں صدی قبل مسیح میں یونان میں مغربی فلسفہ کی بنیاد رکھی۔سقراط نے 2 شادیاں کیں۔ پہلی بیوی ایتھنز میں ایک بار پلیگ کی بیماری پھیلی اور وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔سقراط نے دوسری شادی کی۔ اس دوسری شادی کا سقرا ط کی زندگی میں بڑی اہمیت تھی۔وہ انتہائی تیزمزاج، غصیلی اور منہ پھٹ تھی۔ سقراط کے دوست اور عزیز و اقارت کہا کرتے تھے کہ کبھی اس نے سقراط کے ساتھ سیدھے منہ بات نہیں کی تھی مگر سقراط اس کی جلی کٹی باتیں سن کر ہمیشہ ہنس دیا کرتا تھا۔ ایک بار سقراط کے ایک ساتھی اینتس تھینز نے اس سے پوچھا، تمہاری بیوی زمانے بھر کی تند مزاج اور منہ پھٹ عورت ہے اس کے ساتھ کیسے گزارا ہوتا ہے؟ سقراط نے ہنس کر جواب دیا میں اسکے ساتھ لوگوں کو سدکھارنے کی تربیت حاصل کر رہا ہوں، اگر اسے راہ راست پر لے آیا تو پوری دنیا کو راہ راست پر لے آوں گا۔قائدانہ صلاحیوں کے حامل لوگ خواب دیکھتے ہیں ان پر عمل کرنا جانتے ہیں۔ ان میں خوف کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور حالات اور رویے ان کے سامنے دیوار نہیں بن سکتے۔

کامیابی کی بلندیوں کو چھونے کے لیے بہت سی ناکامیوں اور الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ٹھوکروں کی تمام سرحدیں پار کرنی پڑتی ہیں۔بہت سے لوگ منزل کی اکثر بہت قریب تر ہو کر ہار مان جاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے انہوں نے اتنی محنت بے کار کی۔ شاید انکے حصے میں ناکامی کے سوا کچھ نہیں، ایسان نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے یقین کی طاقت کو کمزور کر دیتے یں، ایمان ڈگمگا جات اہے جب کہ وہ بھول جاتے ہیں کہ جتنی بڑی منزل اتنی بڑی آزمائیش اور قربانیاں۔ اللہ بدنے کے جنون اور جذبے کو دیکھ کر اسکی آزمائیشیں اسلیے برھا دیتا ہے کیونکہ وہ صرف اسکا صبر، اسکا صبط اور اسکا یقین آزمانا چاہتا ہے اور ہم نادان اکثر اپنے کم فہمی کی بدولت یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اللہ ہی نہیں چاہتا۔ ایسانہیں ہے جبکہ اللہ نے اپنے کلام میں خود فرمایا ہے کہ انسان کے لیے وہ ہی سب کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی ہے۔

اللہ پاک فرماتے ہیں جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزمائے کہ تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔واصف یہ واصف فرماتے ہیں کہ پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے ہوتی ہے ا ور جسے ہم غم کہتے ہیں دراصل وہ ہماری مرضی اور اللہ کی منشا کے فرق کا نام ہے۔ جو لوگ ناکامی کو عذر بنا کر پریشانی کی دلدل میں اتر جاتے ہیں۔ ان کی زندگی روگ ہو جاتی ہے اور وہ پریشانی کی اس دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں مگر وہ باہمت لوگ جو ناکامی کو کامیابی کا پہلا زینہ سمجھ کر جشن مانتے ہیں قسمت ان پر مہربان ہوتی چلی جاتی ہے۔

ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے آوازیں نکالنے لگا۔ گھوڑے کا ماک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑااسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا۔ جباسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے وہ اپب میرے کام کا بھی نہیں رہا چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں اور گڑھے کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں۔ یہ سوچ کر اس نے اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور گڑھا بند کرناشروع کر دیا۔ سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھاجس سے وہ مٹی بجری اور کوڑا کرکٹ گڑھے میں ڈال رہے تھے گھوڑا س صورت حال سے بہت پریشان ہوا۔ اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی۔کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا جب کسان نے جھانکا تو یہ دیکھ کر حٰران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا،تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا۔ کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا ور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیااور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا۔ یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں آگئے۔ ہماری زندگی میں بھی مشکلات و مصائب آتے ہیں اور یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ہار مان پر ان کے نیچے دن جائیں یا ان کے اوپر چڑھ کر مشکلات کے کنویں سے باہر آجائیں کیونکہ پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا۔زندگی کبھی بھی کامل نہیں ہو گی۔ ہمارا واسطہ ہمیشہ مشکل وقتوں سے رہے گا۔ ایک بار جب ہم اس تلخ حقیقت کو سمجھ جائیں گے۔راستے میں رکاوٹیں آئیں گی جو آپ کو نیچے لانے کی کوشش کریں گی مگر ایک کامیاب اور خوشگوار زندگی کو گزارنے کا راز حقیقت کو سمجھنا ہے۔


Post a Comment

0 Comments