Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Rezah Rezah Wajood By Fariya Noor

Rezah Rezah Wajood By Fariya Noor

Rezah Rezah Wajood By Fariya Noor


ریزہ ریزہ وجود

 

 

تصدق آیہ لا تقنطوا کا ہو کرم مولا

از قلم فاریہ چشتی

 

یہ دنیا فانی ہے اور موت برحق۔  خدائے تعالیٰ نے انسان کی جتنی زندگی لکھ دی ہے وہ اس سے ایک سکنڈ زیادہ نہیں گزار سکتا۔

سانسوں کی ڈور ٹوٹتے ہی انسان کا خالی وجود بچتا ہے۔

دنیا میں چند سانسیں انسان لیتا ہے اور ان چند سانسوں پر مشتمل سفر کو زندگی کہتے ہیں۔  زندگی کی راہوں میں دکھ، سکھ ، خوشی ، غمی سبھی کچھ آتے ہیں۔ انسان اسکا سامنا کرتا ہے۔

جب انسان زندگی میں  لامتنا خواہشات کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتا ہے۔ اس بات کا علم ہوتے ہوئے بھی اس دنیا کی ہر شے کو وہ حاصل نہیں کر سکتا۔ اس وقت انسان اپنا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے۔ کیونکہ اسکی زندگی میں فعل اہمیت رکھتا ہے۔ اور جب ہر چیز سے بے پرواہ ہوکر خواہشات کے پیچھے بھاگتا ہے صحیح اور غلط کا فرق بھلا بیٹھتا ہے۔ انسان کا وجود ریزہ ریزہ ہوکر بکھرنا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن اس وقت اس بات کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ اس وقت انسان کو پانے کی دھن لگی ہوتی ہے اسکے نتیجہ سے بے پرواہ ہوتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ

ان خواہشات کے پیچھے بھاگتے بھاگتے انسان تھکنے لگتا ہے۔ اس وقت اسی اپنی زندگی کی بے ثباتی کا احساس ہوتا ہے۔ اس وقت انسان اس تلخ حقیقت سے روشناس ہوتا ہے کہ اس نے خواہشات کے پیچھے بھاگنے میں پوری زندگی برباد کر دی۔

انسانی زندگی میں رشتے اہم ہوتے ہیں لیکن ہم اپنے رویوں سے سب سے دور ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس وقت انسان تنہا ہوتا ہے اور یہی وقت ہوتا ہے جب انسان اس بات حساب کتاب کرتا ہے کہ اس نے کیا کھویا کیا پایا۔ اور اس وقت احساس ہوتا ہے کہ وہ تنہا ہے اس کے پاس کچھ بھی نہیں اسکا وجود ایک ٹوٹے ہوئے پتے کی طرح نہایت ہلکا اور بے ضرر ہوتا کیونکہ وہ ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ اسکا وجود بھی اس طرح ریزہ ریزہ ہوکر بکھر چکا ہے جس طرح شاخ سے پتے ٹوٹ کر بکھرتے ہیں۔

جب اسے اس بات کا ادراک ہو جاتا ہے کہ اسکی زندگی میں آسائشوں کی کمی نہیں ہے لیکن اسکا دل سکون کی دولت سے مالامال نہیں ہے

اسکی رگ و پے اس وقت  بے سکونی لہو کی صورت دوڑ رہی ہے۔

گناہوں کی زیادتی سے اسکا قلب سیاہ ہے۔ وہ ایک پل میں ریزہ ہو جاتا ہے۔

ہمارے گرد و پیش میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جس پر ہماری عقل ششدر رہ جاتی ہے۔ تھک ہار ایک ہی ایک بات اسکے ذہن میں آتی ہے۔

" فَاِنَّمَا یَقُولُ لَہٗ کُن فَیَکُونُ"

" رب عزو جل ہر شے پہ قادر ہے۔ وہ " کن " کہتا ہے اور ہو جاتا ہے۔

انسان اگر چاہے تو ان وقعات سے سبق حاصل کرکے اپنے وجود کو ریزہ ریزہ ہونے سے بچا سکتا ہے۔

جب بے سکونی اور بے قراری لہو بنکر رگ و پے میں دوڑنے لگتی ہے انسان کا وجود ریزہ ریزہ ہونے لگتا ہے۔ اور جب تک انسان اپنے اندر پھیلی ہوئی بے سکونی کی وجہ تلاش کرتا ہے اس وقت اسے احساس ہوتا ہے کہ  اسکا وجود ریزہ ریزہ ہو گیا  ہے۔ وہ تہی داماں ہے در حقیقت انسان کا وجود اسکے اپنے فعل اور عمل کی وجہ سے بہت پہلے ہی ریزہ ریزہ ہونا شروع ہو جاتا ہے لیکن انسان اس ٹوٹ پھوٹ کے عمل کو پہچان نہیں سکتا۔ جب تک اس زندگی میں اس پر کوئی کاری وار نہ لگے اس بات کو سمجھنے کا وقت نہیں ہوتا کہ وہ ٹوٹ کر بکھر رہا ہے۔ جب احساس ہوتا ہے اس وقت وہ ریزہ ریزہ ہوکر بکھر چکا ہوتا ہے۔ اور اپنے اس ریزہ ریزہ وجود کو سمیٹنے کے لئے تگ و دو مصروف ہو جاتا ہے۔

تاریکی میں ایک روشنی کی کرن نظر آتی ہے وہ وحدہ لا شریک ہے۔ اس وقت انسان اپنا ریزہ ریزہ وجود لیکر خدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتا ہے خدا سے رجوع کرتا ہے اور یہ پاک بے نیاز کی شان کریمی ہے کہ خدا اپنے بندے کے سکون کی دولت سے نوازتا ہے اسکا ریزہ ریزہ وجود جوڑ سکتا ہے۔

 

" بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔"

 

ساری زندگی کئے ہوئے فعل و عمل سے جو بے سکونی رگ و پے سراہیت ہوتی ہے جو اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ اسکا وجود ریزہ ریزہ ہے وہ صرف ایک آنسوں سے ختم ہو جاتی ہے اور وہ " ندامت کا آنسو ہے۔"

رب عز و جل آنکھ سے نکلا ہوا ایک آنسو پسند کرتا ہے جو انسان کی آنکھ میں خوف کی وجہ سے نکلا ہوتا ہے۔

زندگی میں لگنے والی ٹھوکروں سے انسان کا وجود ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے وہ اس سے بھی  سبق حاصل کرتا ہے۔

خدا ہم سب کو حق اور نیک کی راہ میں چلنے کی توفیق عطا کرے۔ اس کوشش میں مصروف عمل رہے کہ اسکی رگوں میں بے سکونی نہ اترے کیونکہ جس انسان کے دل میں خوف خدا ہو اور سکون کی دولت سے مالامال ہو  کبھی بھی اسکا  ریزہ ریزہ ہوکر نہیں بکھر سکتا۔

 

سراپہ جرم عصیاں میں تو ہے غفار یا اللہ

سراسر عیب و نقصاں میں تو ہے ستار یا اللہ

میں سرتاپہ گناہوں سے ہوں پستی اور غفلت میں

تو کر دے ذکر و طاعت سے مجھے بیدار یا اللہ

میری توبہ کی بنیادوں کو مستحکم بنا دے تو

کہ میں کرتا رہوں ہر لحظہ استغفار یا اللہ

تصدق آیہ لا تقنطوا  کا ہو کرم مولا

میرے اس درد کا توہی ہے غمخوار یا اللہ

 

آمین یا رب العالمین۔

 

یہی کہنا چاہونگی کہ

 

" أَلا بِذِکْرِاللہِ تطْمٔن الْقُلُوبُ"

 

"جان لو کہ اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔"

 

ختم شد

 

"فقط رہے نام اللہ کا"

Post a Comment

0 Comments