Breaking News

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Life Stitches by Dr Zobia Aslam

Life Stitches by Dr Zobia Aslam

Life Stitches by Dr Zobia Aslam

                             "لائف سٹیچز


         ٹانکے سل دیتے ہیں گھاؤ پرانے
        ٹانکے سل دیتے ہیں پھٹی قمیض بھی
        ٹانکے جو ہوں چاہت کے ،رغبت کے
        خلوص کے اور پیار کے
        سل دیتے ہیں زیست بھی

                       کچھ دوست ، کچھ اپنے ، کچھ سپنے، کچھ یادیں اور کچھ زخم اور ان زخموں پر لگنے والے مرہم اور کچھ ٹانکے ہمیشہ کیلئے ہماری بے چین روح پر کچھ نہ کچھ نقش چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔۔
                               یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں سرجری وارڈ میں روٹیشن کر رہی تھی اورروسٹر کے مطابق میری ڈیوٹی سرجری 1 میں تھی اور اس کے بعد سرجری 2 میں شفٹنگ ہونا تھی ۔۔۔۔ آج مجھے سرجری 1میں ڈیوٹی کرتے ہوئے 3 دن ہی ہوئے تھے چونکہ میں ایچ _او تھی اس لیے ڈیوٹی کا دورانیہ کافی لمبا ہوتا کبھی 24 گھنٹے تو کبھی 36 گھنٹے ۔۔۔۔
                   آج جب میں ڈیوٹی کر رہی تھی تو ایک سینئر کولیگ ڈاکٹرصارم ایک بابا جی کو لیکر آئے غالباََ ایمرجنسی سے وارڈ میں شفٹ ہونے آۓ لیکن پوچھنے پر پتہ چلا کہ بابا جی جن کا نام بشیر احمد تھا ہسپتال کے سامنے رہتے کسی سے پناہ لی  ہوئ  تھی بس دو وقت کا کھانا مل جاتا ۔۔۔ اولاد میں سے ایک بیٹا زندہ ہے نہ معلوم کہاں ہے بس کبھی کبھار خیریت دریافت کر لیتا اور باقی کی فیملی ایک حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔۔۔

       بابا جی درد سے بلک رہے تھے انھیں دیکھ کر میرا دل پتلا ہو رہا تھا برداشت سے باہر تھا معاملہ ۔۔۔۔ پراپر چیک اپ ہوا اور ٹیسٹ بھجوا دیے گئے ۔۔۔ رپورٹس آنے پر معلوم ہوا بابا جی کے گردے میں پتھری ہے جسے میڈیکل میں Renal stones کہتے ہیں ۔۔۔ بظاہر یہ معمولی سی بیماری سمجھی جاتی لیکن دکھ چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا دکھ تو دکھ ہوتا ہے ۔۔۔
                       پروفیسر صاحب نے فوراً سے بابا جی کے آپریشن کا کہا کیونکہ اگر تھوڑی سی بھی دیر ہوتی تو ہمیشہ کیلئے دیر ہو جاتی ۔۔۔بہت زیادہ پھیل چکی تھیں ڈر تھا perforate نہ کر جائیں اور مزید complications نہ ہوں ۔۔۔
                   بابا جی کا آپریشن ہو گیا ۔۔۔ مجھے ان سے لگاؤ ہو گیا تھا میں بارہا انھیں دیکھتی رہی , کبھی کبھار ڈیوٹی سے زیادہ وقت اسی وارڈ میں  ان سے باتیں کرتے گزار دیتی اور جس حد تک ممکن تھا ان کی دیکھ بھال کرتی رہی ۔۔۔ ہم دوستوں نے مل کر ایک چھوٹا سا اولڈ ہوم بنایا  ہوا تھا بابا جی سے پوچھ کر انھیں اولڈ ہوم میں شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔۔ان کی طبیعت سنبھلتی گئی کہ چھٹی ہو گئ ہم انہیں اولڈ ہوم لے گئے جہاں ان کے جیسے اور لوگ بھی موجود تھے ان کے ہم عمر ساتھی وہاں ان کا دل بہلانا آسان تھا ۔۔۔
                بابا جی بہت خوش تھے ۔۔ ان کا خیال بہت اچھے سے رکھا جاتا کسی چیز کی دقت نہ تھی ۔۔ ایک ہفتے بعد جب ٹانکے کھلوانے گئے تو انہیں بہت درد ہو رہا تھا اتنا درد برداشت کے قابل بھی نہ تھا ۔۔ آخر ایک دو ٹانکے نہیں نکل سکے ۔۔اور انہیں واپس ان کے یاروں میں اولڈ ہوم لے آئے ۔۔۔
                   میں رات ادھر اولڈ ہوم میں ہی گزاری تھی چونکہ آج باری میری تھی ۔۔۔ وقت گزرتا گیا گھاؤ مندمل ہوتے گئے لیکن وہ دو ٹانکے ابھی بھی ان کے شریر کا حصہ تھے ۔۔ رات کھانا کھلاتے ہوئے میں نے ان سے پوچھا بابا جی یہ دو جو بچ گئے ہیں ان کی تکلیف نہیں ۔۔۔ دیتے ہیں تکلیف بیٹا پر باقیوں سے کم ان کے جتنی نہیں ۔۔ان کی بات سن کر میں سوچ میں پڑ گئ تبھی بابا جی کی  آوازمیرے کانوں میں گونجی ۔۔۔۔

                 بیٹی!یہ ٹانکے نہ جینے کا سہارا ہوتے ہیں دکھنے میں تو دھاگے کا ٹکڑا ہیں لیکن یہ میری ہمت ہیں مجھے حوصلہ دے رکھا ہے انھوں نے میرے گھاؤ سل دیے ہیں۔۔
         بیٹی رشتے ناطے  ، دوست ، اپنے سپنے اور یادیں سب ٹانکوں کی مانند ہوتے ہیں جب ہوتے ہیں تو اذیت بھی دیتے ہیں اور سہارا بھی ، جو کمزورتھے  نکل گئے جو روح میں ٹانکے لگے تھے وہ باقی ہیں اور جب بچھڑ جاتے ہیں تو انھیں زخموں انھیں ٹانکوں کی مانند حادثے کی یاد بن کر رہ جاتے ہیں ۔۔۔ ہم چاہ کر بھی کچھ زخموں کے نشان ، کچھ ٹانکے اپنے وجود سے الگ نہیں کر پاتے یہ ہماری  زندگی کا سہارا ہوتے کسی نہ کسی طرح انھوں نے ہمیں جوڑا ہوتا ہے ۔۔۔کچھ لوگ بھی ایسے ہی ٹانکے ہوتے ہیں جنھوں نے ہماری ذات کو جوڑا ہوتا ہے گزرتے وقت کے ساتھ بس نشان چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔
                  بابا جی بات سن کر آج پھر سے میں نے ان ٹانکوں کو شدت سے یاد کیا تھا جنھوں نے مجھے برسوں جوڑے رکھا تھا جو کبھی سہارا تھے میرے جینے کا زندگی کی دوڑ میں وہ ٹانکے کہیں کھو گئے تھے اپنے سپنے سب جدا تھے ۔۔ شاید آج میرے پاس میرے دل کے بیابانے میں صرف ان ٹانکوں کے نشاں تھے یادیں بن کر ، بیتا ہوا لمحہ بن کر جو آج بھی کہیں نہ کہیں مجھے جوڑ رہے تھے ، میری بکھری ذات کو مکمل کر رہے تھے۔۔۔۔

      (نوٹ: اس کہانی کے سب کردار فرضی ہیں )



Post a comment

0 Comments