Aankhon Mein Aks Tera Written By Syeda Almas Fatima

Aankhon Mein Aks Tera Written By Syeda Almas Fatima

Aankhon Mein Aks Tera Written By Syeda Almas Fatima

  آ نکھوں میں عکس تیرا

ازقلم سیدہ فاطمہ 

 

نیلگوں آ سماں پر کھلی فضاؤں میں پرواز کرتے پرندوں کی چہکتتی  آوازیں  نیلم کے دل کا موسم بدل رہے تھے۔ کچھ دیر

تک وہ یونہی نظارہ کرتی رہی۔

ارے نیلم! کہاں ہو ٫

 اماں!  آ تی ہوں۔  مہمان آنے والے ہیں۔ شام ہوتے ہی  نیلم چھت پر چڑھ جاتی تھی۔  ڈھلتا سورج اس کی زندگی کو  جیسے ڈھال رہا تھا۔سورج کا رنگ  بدل گیا اور آسمان پر زرد رنگ بکھر گیا۔

پرندے اونچی پرواز کر کے اپنے اپنے گھونسلوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ نیلم کی آ نکھوں کے رنگ بھی زرد ہونے لگے،گویا وہ ڈھلتے سورج   کا عکس اپنی آ نکھوں میں سما چکی تھی۔

 کچھ دیر بعد  ناصر بھی اس کے پہلو میں آ بیٹھا اور وہ بھی ڈھلتے سورج  کا منظر دیکھنے لگا۔  شام کا گہرا منظر نیلم کی نیلم جیسی گہری و بڑی بڑی

 آ نکھوں میں نظر آ رہا تھا۔ پہاڑوں کے اس پار دریا  میں ڈھلتے سورج کا نظارہ اور آ س پاس کا منظر نیلم کی آنکھوں میں منعکس ہو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد اماں نے پھر آواز لگائی نیلم !  آ جاؤ جلدی سے شام ہو چکی ہے۔  آ واز سنتے ہی نیلم  نیچے اتر گئی اور کچن میں چائے بنانے چلی۔ اماں نے مسکرا کر کہا بیٹی  چائے بنائی ہوئی ہے٫  تم پی لو ۔

کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی-  اماں دروازے پر پہنچی اور پوچھا !  کون ہے؟  جواب ملا  ناصر  ہوں۔

 اچھا  بیٹا ٹھہرو !  السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

آنٹی  کیسی ہیں۔   الحمدللہ 

بیٹا تم سناؤ  کیسے آ نا  ہوا ۔۔

امی کیسی ہیں؟  آ نٹی !  امی بلکل ٹھیک ہیں٫ کسی دن آ ئیں گی۔  اماں نے آ واز  دی ۔ نیلم بیٹی چائے لے آ ؤ ۔۔ چائے کا کپ لیکر آ ئی  تو ناصر نے کپ پکڑتے

ہی  نیلم کی آ نکھوں میں کھو گیا۔ اماں نے مسکرا کہا بیٹا کپ پکڑ

لو ۔ نیلم  شرما کے وہاں سے کمرے میں چلی گئی۔

 ناصر نے

چائے پینے کے بعد آ نٹی سے اجازت طلب لی۔  گھر چلا گیا ۔

ناصر  اپنے کمرے میں داخل ہو

گیا اور بستر میں لیٹنے کے بعد سونے کی کوشش کرنے لگا ۔ لیکن نیند آ نکھوں سے کوسوں دور تھی۔  نیلم کے خیالوں میں گم ہو گیا تھا ۔اس کی آ نکھوں میں عکس تیرا ۔



Post a Comment

Previous Post Next Post