Dua Sa Lage Tu Novel By Aliya Hussain Episode 13
Dua Sa Lage Tu Novel By Aliya Hussain Episode 13
" مجھے تم سے محبت نہیں ہم صرف اچھے دوست ۔ " اس نے دل
کے احتجاج کو نظر انداز کر کے اس کو اس خوش فہمی سے نکالنا چاہا ۔
" جھوٹ مت بولو تمہاری ہر نادانی کو نظر
انداز کر کے قبول کیا ہے پر یہ نہیں کروں گا کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں ۔ " اس
کی بات بیچ میں ہی کاٹ کر وہ درشتگی سے اپنے لفظوں پر زور دیتا بولا ۔
" مجھے نہیں تم سے محبت ۔ " بدلے
میں اس نے اپنے لفظوں پر زور دیا ۔
" اچھا ۔ " اس نے آبرو اچکائی ۔
" مجھ سے محبت نہیں تمہیں تو نکاح نہیں کرو گی تم مجھ سے اور اگر تمہیں مجھ سے
محبت ہے تو نکاح کرنا پڑے گا تمہیں منظور ہے ؟ ۔ " اس نے پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ
اس کو دیکھا ۔
طوبیٰ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا وہ کیا
کرنے والا تھا اس کی پراسرار مسکراہٹ اس کی جان نکالنے کے لئے کافی تھی ۔
عرشمان نے اس سے فاصلہ بنایا اور جیب
میں ہاتھ ڈال کر کچھ باہر نکالا جسے دیکھ کر طوبیٰ کی سانس ہی مانو رک گئی آنکھیں حیرت
سے پھٹنے کے قریب تھیں ۔
" عرش ۔ " اس نے بے یقینی سے اس کے
ہاتھ میں گن کو دیکھا تھا ۔
" تمہیں مجھ سے محبت نہیں نہ پھر تم نکاح
نہیں کرو گی مجھ سے ۔ " وہ گن ہاتھ میں تھامے اس سے بولا تھا ۔
" عرش نہیں ۔ " اس نے نفی میں سر
ہلا کر اسے اس حرکت سے باز رہنے کا کہا ۔
عرشمان نے پستول کا نشانہ سیدھا واز
کو بنایا گولی طوبیٰ کے قریب سے گزر کر واز پر لگی جو چکنا چور ہو گیا ۔
اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے وہ چیخی تھی
۔ پہلی بار عرشمان کا یہ جنون دیکھ رہی تھی ۔
" اب بھی نہیں مجھ سے محبت ۔ " وہ
وہی آرام دہ انداز میں کھڑا تھا جیسے کوئی بڑی بات ہی نہیں ہو ۔
اس نے ڈر کر نفی میں سر ہلایا ۔
" ادا تمہیں نہیں چھوڑیں گے اس بار عرش اگر انہیں معلوم ہو گئی تمہاری حرکت یہ
تو ۔ " اس نے خوف سے تھر تھر کانپتے وجود کو خود ہی سنبھالا اور اسے اسفند کا
حوالہ دے کر ڈرانا چاہا ۔
" وہ بعد میں دیکھا جائے گا ابھی ہاں یا
ناں ۔ " اس نے گن طوبیٰ کے سامنے لہرائی اس کا یہ انداز بالکل کسی پاگل سا تھا
۔
" یہ غلط ہے ۔ " اس نے پھر نفی میں
سر ہلایا۔
" طوبیٰ شاہ ہاں یا ناں ۔ " اس بار
وہ چلایا تھا آنکھیں سرخ تھیں اس کی ڈھار پر طوبیٰ کا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا
۔
" ایسے نہیں کہو گی تم ۔ " اس بار
اس کے روتے چہرے کو دیکھ کر اس نے گن اپنی کنپٹی پر رکھی ۔
" ہاں یا نہ آخری بار صرف آخری پوچھ رہا
ہوں پھر انجام کروں گا ۔۔ تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے طوبیٰ شاہ ؟ ۔ " اس نے اپنے
ایک ایک لفظ ہر زور دیا تھا انداز میں تنبیہ تھی کہ اگر اس نے اس بار بھی نہیں کہا
تو وہ کر گذرے گا وہ جو طوبیٰ شاہ سوچ بھی نہیں سکتی ۔
ٹریگر پر بڑھتا دباؤ اس کی سانس روک
رہا تھا پر اس نے اس بار بھی نفی میں سر ہلایا تھا ۔
" نہیں ۔ " اور گولی چل گئی
تھی ۔
ان سب ویب،بلاگ،یوٹیوب چینل اور ایپ والوں کو تنبیہ کی جاتی ہےکہ اس ناول کو چوری کر کے پوسٹ کرنے سے باز رہیں ورنہ ادارہ کتاب نگری اور رائیٹران کے خلاف ہر طرح کی قانونی کاروائی کرنے کے مجاز ہونگے۔
ان سب ویب،بلاگ،یوٹیوب چینل اور ایپ والوں کو تنبیہ کی جاتی ہےکہ اس ناول کو چوری کر کے پوسٹ کرنے سے باز رہیں ورنہ ادارہ کتاب نگری اور رائیٹران کے خلاف ہر طرح کی قانونی کاروائی کرنے کے مجاز ہونگے۔